چین سے باہر کورونا وائرس پر سب سے بڑی تحقیق کے نتائج جاری

23 مئ 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — رائٹرز فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — رائٹرز فوٹو

موٹاپا کورونا وائرس کو سنگین حد تک بیمار کرنے کا باعث بن سکتا ہے جبکہ علامات مجموعے کی شکل میں نمودار ہوسکتی ہیں۔

یہ بات چین سے باہر کورونا وائرس کے مریضوں پر ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے جرنل بی ایم جے میں شائع تحقیق میں برطانیہ بھر میں زیرعلاج 20 ہزار سے زائد مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

اس تحقیق میں خطرے کا باعث بننے والے 4 اہم ترین عناصر کو شناخت کیا گیا جو مریض میں سنگین بیماری یا موت کا باعث بن سکتے ہیں۔

ان عناصر میں عمر، مرد ہونا، مووٹاپا اور ایسی بیماریاں جو دل، پھیپھڑوں، گردوں یا جگر کو متاثر کرتی ہیں۔

اس سے پہلے تحقیقی رپورٹس میں موٹاپے کا خطرے کا باعث قرار نہیں دیا گیا تھا اور اس تحقیق میں شامل مریضوں کی اوسط عمر 73 سال تھی اور ان میں سےس 60 فیصد مرد تھے۔

3 مئی تک جارای رہنے والی تحقیق میں شامل 26 فیصد مریضوں کا انتقال ہوگیا جبکہ ایک تہائی ہسپتال میں زیرعلاج تھے، اسی طرح 50 فیصد سے بھی کم ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے۔

یہ سب مریض 6 فروری سے 19 اپریل کے دوران ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔

محققین نے دریافت کیا کہ مریضوں میں علامات 3 اجتماعی شکلوں میں ظاہر ہوئیں۔

ان میں عضلاتی ڈھانچے کی علامات جیسے مسلز میں تکلیف، جوڑوں میں درد، سردرد اور تھکاوٹ شامل ہیں۔

ہاضمے کی علامات جو 29 فیصد مریضوں میں ظاہر ہوئیں ان میں پیٹ میں درد، قے اور ہیضہ شامل تھے جبکہ کم نمایاں علامات میں جلد پر ناسور اور ریشز قابل ذکر تھے۔

محققین کا کہنا تھا کہ بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری جیسے نظام تنفس کی علامات کا مجموعہ سب سے عام علامات تھیں جو 70 فیصد مریضوں میں نظر آئیں، کچھ مریضوں میں وہ علامات بالکل بھی نظر نہیں آئیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر کیس کی تشخیص کے للیے کھانسی اور بخار پر انحصار کو سختی سے اپنایا جائے تو 7 فیصد مریضوں میں اس کی تشخیص نہیں ہوسکے گی۔

محققین نے دریافت کیا کہ 4 فیصد مریضوں میں صرف نظام ہاضمہ کی علامات ظاہر ہوئیں اور اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ اعدادوشمار بھی کم ہیں کیونکہ ایسے مریض اکثر ٹیسٹنگ کے لیے طے طریقہ کار پر پورے نہیں اترتے۔

اس تحقیق پر تاحال کام جاری ہے اور اس میں مزید 43 ہزار مریضوں کو شامل کیا گیا ہے اور محققین اس کے نتائج مستقبل قریب میں جاری کریں گے۔