پاکستان کا عید الفطر پر افغانستان میں جنگ بندی کے اعلانات کا خیرمقدم

اپ ڈیٹ مئ 24 2020

ای میل

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق طالبان اور افغانستان حکومت کے اعلانات کا خیرمقدم کرتے ہیں اور پرامن اور خوشحال افغانستان کی دعا کرتے ہیں —فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق طالبان اور افغانستان حکومت کے اعلانات کا خیرمقدم کرتے ہیں اور پرامن اور خوشحال افغانستان کی دعا کرتے ہیں —فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

پاکستان نے طالبان اور افغان حکومت کی جانب سے عید الفطر کے موقع پر 3 روزہ جنگ بندی کے اعلانات کا خیرمقدم کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں ترجمان وزارت خارجہ عائشہ فاروقی نےکہا کہ پاکستان عید الفطر کے موقع پر جنگ بندی سے متعلق طالبان اور افغان حکومت کے اعلانات کا خیرمقدم کرتا ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان مین افغان بھائیوں کو عید کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہم افغانستان میں ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کی دعا کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز طالبان اور افغان حکومت نے رمضان المبارک کے اختتام پر عیدالفطر کے موقع پر 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: افغان حکومت اور طالبان کا عیدالفطر پر 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان

امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان طالبان رہنما کے عیدالفطر کے پیغام کے بعد کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امن معاہدے پر قائم ہیں۔

جنگ بندی کے حوالے سے جاری حکم نامے میں طالبان جنگجوؤں کو لڑائی نہ کرنے بلکہ افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اخوت قائم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

ہدایات میں طالبان جنگجوؤں کو کہا گیا تھا کہ کسی بھی جگہ پر دشمن پر حملہ نہ کریں لیکن اگر دشمن کی جانب سے حملہ کیا جاتا ہے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی حکم نامے میں طالبان جنگجوؤں کو دشمن کے علاقے میں داخل نہ ہونے کی تنبیہ کی گئی تھی۔

بعدازاں افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا 17 سال میں پہلی بار جنگ بندی کا اعلان

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں اشرف غنی نے کہا تھا کہ بطور کمانڈر ان چیف میں نے اے این ڈی ایس ایف کو 3 روزہ جنگ بندی پر عمل کرنے اور صرف حملے کی صورت میں دفاع کی ہدایت کی ہے۔

اس سے قبل 2018 میں افغانستان میں حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد طالبان نے 17 برس میں پہلی مرتبہ عیدالفطر کے پیش نظر تین دن جنگ بندی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عسکری گروہ کے ترجمان نے خبردار کیا تھا کہ جنگ بندی کا اعلان غیر ملکی فوج کے لیے نہیں ہے، کسی بھی حملے کی صورت میں اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔