قصور: جنسی ہراسانی میں ناکامی پر لڑکے کو 'قتل' کرنے والا پولیس اہلکار گرفتار

اپ ڈیٹ مئ 26 2020

ای میل

قصور میں 2019 میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہوئے تھے تاہم ملزم گرفتار ہوا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
قصور میں 2019 میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہوئے تھے تاہم ملزم گرفتار ہوا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

قصور کے علاقے کھڈیاں میں جنسی ہراسانی کو ناکام بنانے پر ایک لڑکے کو قتل کرنے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سے رپورٹ طلب کرلی۔

پولیس نے مقتول کے والد کی مدعیت میں ملزم معصوم علی کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چونیاں کیس: ملزم کا ٹرائل جیل میں شروع، فرد جرم کیلئے تاریخ مقرر

رپورٹ کے مطابق 30 سالہ ملزم معصوم علی پولیس اہلکار ہے، جو دیپال پور روڈ پر نور پور پولیس پوسٹ پر تعینات تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مقتول اور ملزم کے درمیان دوستی تھی۔

مقتول کے والد نے ایف آئی آر میں مؤقف اپنایا ہے کہ ملزم نے میرے 18 سالہ بیٹے کو کھڈیاں خاص میں اتوار کو صبح سویرے اس وقت قتل کردیا جب وہ فجر کی نماز کے لیے مسجد جارہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم نے میرے بیٹے کو 'اسلحے کے زور پر روکا اور للکارتے ہوئے کہا کہ اگر آج عید کے دن بھی تم نے میری بات نہ مانی تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا'۔

ایف آئی آر میں انہوں نے کہا کہ 'میرے بیٹے کے انکار پر ملزم معصوم علی نے اپنی 30 بور کی پستول کا سیدھا فائر میرے بیٹے پر کیا جو چھاتی کے نیچے آرپار ہوگیا'۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ 'میری آہ پکار سن کر میرا بھائی اور دیگر لوگ موقع پر پہنچے اور ملزم کوپکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اسلحہ لہراتے ہوئے فرار ہوا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں'۔

یہ بھی پڑھیں: قصور: 3 سال تک نوجوان کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام، 3 افراد گرفتار

انہوں نے پولیس کو بتایا کہ 'ریسکیو 1122 کے ذریعے میرے بیٹے کو ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور لے کرگئے جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد کے بعد لاہور جنرل ہسپتال بھیج دیا اور وہ جنرل ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا'۔

ایف آئی آر میں مقتول کے والد نے کہا کہ 'ملزم عیاش قسم کا آدمی ہے اور میرے بیٹے کو ہراساں کرتا تھا لیکن میرے بیٹے نے ان کی بات نہ مانی جس پر ان کو ناحق قتل کردیا'۔

انہوں نے واقعے پر انصاف دلانے کی درخواست کی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم معصوم علی کو گرفتار کرکے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جارہی ہے۔

پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران ایف آئی آر میں درج پہلوؤں کے علاوہ دیگر معاملات کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ انصاف مل سکے۔

واقعے کے حوالے سے پولیس نے واضح کیا کہ اس واقعے سے کسی قسم کا مذہبی یا فرقے کا معاملہ نہیں جڑا ہوا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سے رپورٹ طلب کرلی اور متاثرہ خاندان کو انصاف کا یقین دلایا اور تعزیت کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں قصور کے علاقے چونیاں میں 8 سے 12 سال کی عمر کے 4 بچے لاپتہ ہوگئے تھے جبکہ 16 ستمبر کی رات کو 8 سالہ فیضان لاپتہ ہوا تھا، ان میں سے 3 بچوں کی لاشیں 17 ستمبر کو چونیاں بائی پاس کے قریب مٹی کے ٹیلوں سے ملی تھیں۔

مزید پڑھیں:چونیاں میں بچوں کا ریپ،قتل: عثمان بزدار کا ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے یکم اکتوبر 2019 کو لاہور میں پریس کانفرنس میں ملزم کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سانحہ چونیاں میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کرنے والے ملزم سہیل شہزاد کا ڈی این اے بچوں کے کپڑوں سے ملنے والے ڈی این اے سے میچ کر گیا ہے۔

بعد ازاں 6 نومبر کو گرفتار ملزم سہیل شہزاد نے دوران تفتیش اعتراف جرم کر لیا تھا جس کے بعد ان کا بیان جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیا گیا۔

پولیس نے پراسیکیوٹر عبدالرؤف وٹو کے ذریعے لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ ملزم کا 164 کا بیان ریکارڈ کرانا ہے لہٰذا ملزم کو چونیاں میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

انسداد دہشت گری عدالت نے ملزم سہیل شہزاد کو چونیاں لے جاکر بیان ریکارڈ کروانے کی اجازت دی، جس کے بعد ملزم کو چونیاں کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا جہاں ملزم کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔

قصور میں اس سے قبل جنوری 2018 میں 5 روز سے لاپتہ رہنے کے بعد 6 سالہ بچی زینب انصاری کی لاش قصور میں شہباز خان روڈ کے قریب کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور لوگوں کی جانب سے ان واقعات میں ملوث لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:چونیاں میں ریپ کے بعد بچوں کا قتل، ملزم 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

زینب کے کیس کے مرکزی ملزم عمران علی کو 23 جنوری 2018 کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور 12 جون کو عدالت عظمیٰ نے ملزم کی سزائے موت کے خلاف اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم نے 8 دیگر بچوں کے ساتھ اسی طرح کا جرم کیا، بعد ازاں عمران علی کو اکتوبر میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

اس سے قبل 2015 میں قصور کے حسین خان والا گاؤں نے دنیا بھر کی توجہ اس وقت حاصل کی تھی جب وہاں چائلڈ پورنوگرافی کا معاملہ سامنے آیا تھا، اس وقت سیکڑوں ایسی ویڈیو کلپس سامنے آئی تھیں جس میں ایک گروپ کم عمر لڑکے اور لڑکیوں کو جنسی عمل کرنے اور اس کی فلم بندی کرنے پر مجبور کرتھا تھا۔

یہ گروپ ان ویڈیوز کو ان بچوں کے اہل خانہ کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا اور ان سے لاکھوں روپے نقد اور جیولری کی صورت میں وصول کرتا تھا۔