وزیراعظم کے کورونا ریلیف فنڈ کی رقم 4 ارب روپے سے تجاوز کر گئی

اپ ڈیٹ مئ 27 2020

ای میل

وزیراعظم عمران خان نے 30 مارچ کو کورونا ریلیف فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا—تصویر: فیس بک
وزیراعظم عمران خان نے 30 مارچ کو کورونا ریلیف فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا—تصویر: فیس بک

ملک میں کورونا وائرس بحران کے دوران جہاں اپوزیشن کی جانب سے حکومت کی خرچ کردہ رقم کے آڈٹ کے مطالبات کیے جارہے ہیں وہیں پاکستان تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم کا کورونا ریلیف فنڈ 4 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ اعلان سینیٹر فیصل جاوید خان نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کا کورونا ریلیف فنڈ 4 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے ماشا اللہ، تمام عطیات دہندگان کی سخاوت اور جذبہ قابل قدر ہے یہ یقیناً ایک بڑا مقصد ہے، (جسے) اکھٹے ہم کرسکتے ہیں اور اکٹھے ہمیں کرنا چاہیے‘۔

اسی ٹوئٹ میں پی ٹی آئی سینیٹر نے یہ بات بھی دہرائی کہ حکومت نے عطیہ کیے گئے ایک روپے میں 4 روپے شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شعبہ توانائی کے قرضوں کی ادائیگی کیلئے کورونا فنڈ سے 10ارب روپے مختص کرنے کی منظوری

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومت کے قائم کردہ کورونا ریلیف فنڈ میں ایک ماہ کے دوران ایک ارب روپے کا اضافہ ہوا کیونکہ یکم مئی کو سینیٹر فیصل جاوید خان نے اعلان کیا تھا کہ فنڈ کی رقم 3 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

سینیٹر فیصل جاوید کو فنڈز کے استعمال اور اپوزیشن کی جانب سے اس کی پارلیمانی نگرانی کے مطالبات سے متعلق تحریری سوالات ارسال کیے گئے لیکن انہوں نے جواب دینے کا وعدہ کر کے بھی جواب نہیں دیا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 30 مارچ 2020 کو کورونا ریلیف فنڈ قائم کیا تھا جس میں عوام، سمندر پار پاکستانی آمدن کا ذریعہ بتائے بغیر رقم عطیہ کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا ریلیف فنڈ: پی سی بی نے ایک کروڑ سے زائد کی رقم عطیہ کردی

اس فنڈ میں یکم اپریل سے عطیات موصول ہونا شروع ہوئے جس کا باضابطہ اعلان وزیراعظم نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا تھا۔

بعدازاں اپوزیشن جماعتوں نے ایک چارٹر آف ڈیمانڈ کے ذریعے پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ کورونا ریلیف فنڈ کہاں اور کس طرح خرچ کیا جارہا ہے اور مزدوروں، یومیہ اجرت والوں اور معاشرے کے دیگر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد میں تقسیم کیے گئے راشن کا معیار اور اس کی تقسیم کے طریقہ کار کی نگرانی کی جاسکے۔

اپوزیشن نے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا کہ حکومت عطیہ کی گئی رقم کو سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال نہ کرے۔

اس کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ وائرس کی صورتحال کے حقیقی اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے لیے ایک نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تا کہ عوام کو آگاہ کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے کورونا کے باعث بیروزگار ہونے والوں کیلئے ریلیف پروگرام کا آغاز کردیا

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے کچھ روز قبل ہونے والے اجلاس میں بھی اپوزشین اراکین نے حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنکا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی نگرانی کے مطالبے کے دہرایا تھا اور احساس پروگرام کے تحت عوام میں ریلیف کی رقم کی تقسیم میں شفافیت کے مبینہ فقدان پر تنقید کی تھی۔