جنوبی کوریا میں 49 دن بعد کورونا کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ

اپ ڈیٹ مئ 27 2020

ای میل

سب سے زیادہ کیسز ای کامرس کمپنی کوپانگ کورپوریشن کے لاجسٹکس سینٹر سے سامنے آئے۔ فائل فوٹو:رائٹرز
سب سے زیادہ کیسز ای کامرس کمپنی کوپانگ کورپوریشن کے لاجسٹکس سینٹر سے سامنے آئے۔ فائل فوٹو:رائٹرز

جنوبی کوریا میں 49 روز میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کوریا سینٹر برائے ڈزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن (کے سی ڈی سی) نے پیر کے روز سامنے آنے والے 19 کیسز کے مقابلے میں منگل کے روز 40 نئے کیسز رپورٹ کیے جس کے بعد ملک کے مجموعی کیسز کی تعداد 11 ہزار 265 ہوگئی۔

اب تک تقریباً 36 کیسز ملک کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی کوپانگ کارپوریشن کے لاجسٹکس سینٹر سے سامنے آئے۔

مزید پڑھیں: جنوبی کوریا میں نائٹ کلب دوبارہ کورونا پھیلانے کا سبب بن گئے

کمپنی کے تقریباً 3 ہزار 600 افراد کا ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پیر کے روز لاجسٹکس سینٹر کو بند کردیا تھا اور حکام کی تجویز کردہ سب سے تیز ڈس انفیکٹنٹ کا استعمال کیا جارہا ہے۔

کوپانگ کارپوریشن کو گروسریز اور دیگر سامان کے آرڈرز میں اضافے کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران بڑا فائدہ پہنچا تھا۔

کمپنی کی ترجمان کے مطابق لاجسٹکس سینٹر کو مارچ کے آغاز میں کھولا گیا تھا اور یہ سیئول کے مغربی حصے میں ڈلیوریز کا ذمہ دار تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی کوریا نے صرف 20 دن میں کورونا کی وبا کو کیسے کنٹرول کیا؟

اس سینٹر سے پہلا کیس ہفتے کے روز سامنے آیا جو رواں ماہ کے آغاز میں سیئول کے نائٹ کلب میں وبا کے پھیلاؤ سے منسلک تھا۔

صحت کے حکام نے خبردار کیا کہ اس سینٹر سے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

نائب وزیر صحت نے بریفنگ کے دوران کہا کہ ’ہم برادری میں پھیلنے والے انفیکشنن پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ حکام کو شک ہے کہ لاجسٹکس سینٹر قرنطینہ کے بنیادی اصولوں پر عمل نہیں کر رہا تاہم اس حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

کوپانگ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ سینٹر میں روزانہ ڈس انفیکشن پوری ہے اور تمام ملازمین ماسکس اور گلوز پہنتے ہیں جبکہ ان کے درجہ حرارت کی بھی جانچ کی جاتی ہے۔

نئے کیسز میں اضافے کے باوجود جنوبی کوریا میں 20 لاکھ سے زائد بچے اپنی کلاسز میں واپس لوٹ گئے ہیں۔

خیال رہے کہ جنوبی کوریا چین کے بعد دوسرا ملک تھا جہاں یہ وائرس تیزی سے پھیلنا شروع ہوا تھا مگر بغیر سخت لاک ڈاؤن کے ہی اس نے بیماری کو پھیلنے سے روک دیا تھا اور اس ضمن میں جنوبی کوریا نے ٹیکنالوجی کی مدد بھی حاصل کی تھی اور مشکوک لوگوں کو ٹریس کرکے ان کی نگرانی بھی کی تھی۔

مارچ میں کورونا کے نئے کیسز انتہائی کم رفتار میں آنے کے بعد جنوبی کوریا نے لاک ڈاؤن کو مزید نرم کردیا تھا تاہم ایک ماہ بعد سیئول کے نائٹ کلب میں وائرس کے پھیلنے اور وہاں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد حکام پریشان ہوگئے تھے۔

نائٹ اور ڈانس بارز میں اتنے لوگوں کی شرکت اور وہاں ہونے والی پارٹیوں میں شرکت کرنے والے 86 افراد میں کورونا کی تشخیص کے باوجود اگرچہ حکام نے ڈانس بارز کو بند نہیں کیا تھا، تاہم حکومت نے تنبیہہ کی ہے کہ اگر حالات یوں رہے تو جنوبی کوریا نئی اور شدید لہر کا سامنا کر سکتا ہے۔