ملائیشیا: سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی پارٹی رکنیت منسوخ

اپ ڈیٹ مئ 28 2020

ای میل

مہاتیر محمد بیراستوپارٹی کے شریک بانیوں میں سے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
مہاتیر محمد بیراستوپارٹی کے شریک بانیوں میں سے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کو ان کی سیاسی جماعت سے بے دخل کردیا گیا۔

سیاسی جماعت بیراستو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’مہاتیر محمد کی رکنیت فوری طور پر منسوخ کی جاتی ہے‘۔

واضح رہے کہ مہاتیر محمد بیراستوپارٹی کے شریک بانیوں میں سے ہیں۔

مزیدپڑھیں: ملائیشیا: وزیراعظم مہاتیر محمد نے استعفیٰ دے دیا

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پارٹی کے چیئرمین مہاتیر محمد کو ملائیشیا کی حکومت کی حمایت نہ کرنے پر برطرف کیا گیا جس کی سربراہی وزیراعظم محی الدین یاسین کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ محی الدین یاسین پارٹی کے صدر ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل مراسلے میں پارٹی نے واضح کیا کہ جب گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا تھا تو مہاتیر محمد اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ گئے، انہوں نے ظاہر کردیا کہ وہ پارٹی کے صدر اور وزیراعظم محی الدین کی قیادت کو تسلیم نہیں کرتے، اس طرح وہ خود ہی رکنیت کے دائرے سے باہر ہوگئے۔

اس ضمن میں پارٹی کے صدر اور وزیراعظم محی الدین کے قریبی ساتھی نے مراسلے کی تصدیق کی۔

دوسری جانب ایک معاون نے بتایا کہ مہاتیر محمد کے دفتر نے فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا کیونکہ انہوں نے خود مراسلہ نہیں دیکھا۔

واضح رہے کہ محی الدین کے اس اقدام کو ’تمام اختیارات‘ اپنے پاس رکھنے کی کوشش سمجھا جارہا ہے کیونکہ انہیں اپنی نوزائیدہ وزارت عظمیٰ کے لیے ممکنہ چیلنجز درپیش ہے۔

95 سالہ مہاتیر محمد نے رواں برس فروری میں خلاف توقع وزرات عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

مزید پڑھیں: مہاتیر محمد، ملائیشیا کا نجات دہندہ یا مسائل کی جڑ

ان کی سیاسی جماعت نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے محض 2 سال سے بھی کم عرصے میں حکمراں اتحاد سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

اس نئے سیاسی بحران کا اختتام اس وقت ہوا جب محی الدین کو وزیراعظم منتخب کر لیا گیا۔

خیال رہے کہ محی الدین اور مہاتیر محمد بیراستو پارٹی کے بانیوں میں شامل ہیں۔

یاد رہے مہاتیر محمد اور ان کی اتحادی جماعت نے مئی 2018 میں حریف جماعت بریسن نیشنل (بی این) اور اس کے اتحادیوں کے 60 سالہ دور اقتدار کا خاتمہ کر کے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کی تھی۔

مہاتیر محمد کے پہلے دور اقتدار کے دوران مہاتیر اور انور ابراہیم ملائیشیا کے 2 اعلیٰ ترین رہنما تھے جنہوں نے مئی 2018 کے انتخابات میں ایک بدعنوان حکومت کو ختم کرنے کے سیاسی معاہدے کے تحت اتحاد کرلیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ملائیشیا:مہاتیر محمد نے 60 برس سے برسرِ اقتدار جماعت کو شکست دیدی

انتخابات سے قبل ہوئے سمجھوتے کے تحت اتحادی جماعتوں میں اقتدار منتقل کرنے کا معاہدہ ہوا تھا لیکن مہاتیر محمد کی جانب سے اقتدار سے دست برداری کی تاریخ دینے سے انکار پر ان کے تعلقات میں دراڑ آگئی تھی۔

دلچسپ بات یہ کہ اپنے پہلے دور اقتدار میں مہاتیر محمد نے اسی جماعت کے زیر سایہ 22 سال تک حکومت کی تھی۔

انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے انہوں نے نجیب رزاق کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا جنہیں طویل عرصے سے کرپشن کے الزامات کا سامنا تھا۔

تاہم جب مہاتیر محمد پہلی مرتبہ برسرِاقتدار تھے اس وقت نجیب رزاق ان کے اہم راز داں سمجھے جاتے تھے۔

حکمراں جماعت پر کرپشن کے الزامات منظر عام پر آنے کے بعد مہاتیر محمد نے نجیب رزاق کی حکومت کو پارلیمنٹ سے بے دخل کرنے کے لیے اپوزیشن جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ وہ سیاست کو خبر باد کہہ چکے تھے۔

مزید پڑھیں: ملائیشیا: ’اگر الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوئی تو ہم جیت جائیں گے‘

مہاتیر محمد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ملائیشیا کو جدید خطوط پر استوار کیا اور ساتھ ہی وعدہ کیا تھا کہ نئی حکومت سیاسی حریف سے ہرگز ‘بدلہ’ نہیں لے گی۔