وبا سے پیدا ہونے والے مسائل کیلئے عالمی حل کی ضرورت ہے، عمران خان

اپ ڈیٹ 29 مئ 2020

ای میل

وزیراعظم نے ترقی پذیر ممالک کی شدید مالی مشکلات اور قرضوں کے مسائل دور کرنے کے ممکنہ راستوں پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
وزیراعظم نے ترقی پذیر ممالک کی شدید مالی مشکلات اور قرضوں کے مسائل دور کرنے کے ممکنہ راستوں پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر دہرایا ہے کہ عالمی وبا کووِڈ 19 ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے لیے عالمی حل کی ضرورت ہے ساتھ ہی انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ اپنے دماغوں کو اکٹھا کریں۔

کووِڈ 19 کے دور اور اس کے بعد ترقی کے لیے فنانسنگ نامی اعلیٰ سطح کی وِرچووَل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’اگر ترقی یافتہ ممالک سر جوڑ کر بیٹھیں اور اسے عالمی حل کے طور پر دیکھا جائے تو میرے خیال میں ہم سب اس سے نکل آئیں گے'۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت چیزیں تاریک نظر آرہی ہیں لیکن اگر ہم اسے عالمی مسئلے کے طور پر دیکھیں گے تو پوری دنیا اس سے نکل آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں لاک ڈاؤن سے 15 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں، وزیراعظم

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ تقریب کی میزبانی جمائیکا اور کینیڈا کے وزرائے اعظم اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کی۔

اس تقریب میں تقریباً 50 رہنماؤں نے شرکت کی جس میں اطالوی وزیراعظم گوئیسیپ کونٹی، جنوبی افریقہ کے صدر سر رامافوسا، کینیڈین وزیراعظم جسٹس ٹروڈو، برطانوی وزیراعظم بورس جانسن، اور کوسٹا ریکا کے صدر کارلوس الواراڈو سمیت دیگر شامل تھے۔

دیگر رہنماؤں مثلاْ جرمن چانسلر انجیلا مریکل اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ یہ بحران گلوبل وارمنگ کے خلاف لڑنے میں امداد فراہم کرنے کے لیے ’مزید لچکدار‘ معیشت تشکیل دینے کا موقع ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب پاکستان نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا تو ہر چیز جمود کا شکار ہوگئی جیسا کہ دنیا کی زیادہ تر معیشتوں میں ہوا تاہم پاکستان جیسی معیشتوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ آبادی کے سب سے کمزور طبقے اور معیشت کے غیر روایتی شعبے میں متاثر ہونے والوں کی دیکھ بھال کرنا تھا۔

مزید پڑھیں: لاک ڈاؤن کورونا وائرس بحران کا عارضی حل ہے، وزیراعظم

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے ترقی پذیر ممالک کی شدید مالی مشکلات اور قرضوں کے مسائل دور کرنے کے ممکنہ راستوں پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں دنیا کے زیادہ تر ممالک کو ان مسائل کا سامنا ہے وہیں ترقی پذیر دنیا کو اس سے زیادہ جھٹکا لگا۔

وزیراعظم کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ’جب ہم اس کا مقابلہ ترقی پذیر دنیا سے کرتے ہیں تو بدقسمتی سے ہمارے پاس اتنی مالی گنجائش نہیں کہ اپنی معیشت کی تجدید کرسکیں تاکہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی دیکھ بھال ہوسکے‘۔

عمران خان نے کہا کہ 22 کروڑ کی آبادی میں ہمارے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 15 کروڑ سب سے کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جن میں غیر روایتی شعبے، یومیہ اجرت، ہفتہ وار اجرت والے شامل ہیں جن کے اہلِ خانہ کمانے کے لیے ان پر انحصار کرتے ہیں۔