لاہور کے تمام علاقے غیرمحفوظ، شہر میں 6 لاکھ 70 ہزار سے زائد کورونا کیسز کا اندیشہ

اپ ڈیٹ جون 01 2020

ای میل

وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی سمری کے مطابق صوبائی دارالحکومت کا کوئی بھی علاقہ وائرس سے محفوظ نہیں— فائل فوٹو: اے پی
وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی سمری کے مطابق صوبائی دارالحکومت کا کوئی بھی علاقہ وائرس سے محفوظ نہیں— فائل فوٹو: اے پی

پرائمری اینڈ سیکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو دو ہفتے قبل ایک خطرناک سمری پیش کی گئی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں 'کوئی بھی کام کی جگہ یا رہائشی علاقہ بیماری سے محفوظ نہیں' جبکہ صرف لاہور میں 6 لاکھ 70 ہزار 800 کورونا کے نئے کیسز کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

مزید یہ کہ شہر کے تمام علاقے متاثرہ ہونے کی وجہ سے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی مخالفت کی گئی تھی جبکہ سمری میں بتایا گیا کہ اور علامات کے بغیر سامنے آنے والے کیسز شہر میں انفیکشن اور مقامی سطح پر وائرس کی منتقلی کا بنادی ذریعہ ہیں۔

وزیراعلیٰ کو بھیجی گئی سمری کا عکس—فوٹو: عمران گبول
وزیراعلیٰ کو بھیجی گئی سمری کا عکس—فوٹو: عمران گبول

سمری میں بتایا گیا کہ ایک طریقہ کار وضع کر کے چند مقامات پر اہداف مقرر کر کے لوگوں کے ٹیسٹ کیے (آر ٹی ایس) اور اسمارٹ سیمپلنگ (ایس ٹی) بھی کی گئی، لوگوں کے ٹیسٹ کرنے کا مقصد لاک ڈاؤن کے دوران بھی کام کرنے والوں میں بیماری کی موجودگی کا پتہ لگانا تھا جبکہ اسمارٹ سیمپلنگ کے ذریعے عام آبادی میں وائرس کے پھیلاؤ کا پتہ چلا۔

سمری میں بتایا گیا کہ اس طریقہ کار کے بعد یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چلا کہ ایک کروڑ 10لاکھ آبادی کے حامل لاہور شہر میں اس وقت کورونا وائرس کے 6لاکھ 70ہزار 800 کیسز موجود ہیں البتہ یکم جون تک پورے صوبہ پنجاب میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کورونا کے مریضوں کی تعداد 26ہزار 240 ہے اور 497 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وبا: سندھ میں اموات 500 سے متجاوز، ملک میں مجموعی متاثرین 73ہزار 862 ہوگئے

اس عمل سے مقامی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ اور منتقلی کی ایک انتہائی خطرناک شکل نکل کر سامنے آئی جس سے شہر میں مختلف اہم مقامات اور وائرس کا مرکز تصور کیے جانے والی کام کی جگہوں اور رہائشی علاقوں سے رپورٹ ہونے والے کیسز کا موازنہ کیا جا سکتا ہے اور وہاں آر ٹی ایس کے کیسز کی شرح 5.18فیصد اور اسمارٹ سیمپلنگ کی شرح 6.01 ہے۔

وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی سمری کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں کوئی بھی کام کی جگہ یا رہائشی علاقہ اس بیماری سے محفوظ نہیں اور لاہور میں وائرس کی منتقلی کا ایک خطرناک رجحان نظر آرہا ہے۔

صوبائی دارالحکومت میں کیے جانے والے ٹیسٹس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جن لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے ان میں سے 6فیصد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جبکہ شہر کے کچھ علاقوں میں یہ شرح 14.7فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: چینی اسکینڈل: 'شہزاد اکبر اور وفاقی حکومت ،وزیراعظم کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں'

رپورٹ میں کہا گیا کہ جن کیسز میں علامات ظاہر نہیں ہو رہیں وہ کیسز کی طور پر رپورٹ نہیں ہو رہے لیکن یہ کیسز کی منتقلی اور انفیکشن کا اصل ذریعہ ہیں۔

اگر شہر کے ہر ٹاؤن کا جائزہ لیا جائے تو واہگہ کے سوا تمام ٹاؤن کی اوسط تین فیصد سے زائد بنتی ہے اور یہ شرح 2.11 اور 9.33 فیصد کے درمیان ہے۔

مزید پڑھیں: مارگلہ کی پہاڑیوں پر کرشنگ کی اجازت نہیں دی جاسکتی، چیف جسٹس

وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی سمری کے مطابق 50 سے زائد عمر کے افراد سانس کی بیماریوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جیسا کہ ہم عالمی تحقیق میں بھی دیکھ چکے ہیں۔

سمری میں تجویز دی گئی کہ لاؤک ڈاؤن کے نفاذ یا اس کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ اکیلے نہیں لیا جانا چاہیے، اس بات کا فیصلہ اتفاق رائے اور ثبوتوں کی روشنی میں کیا جائے۔