سندھ کے وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ کا کورونا کے باعث انتقال

اپ ڈیٹ جون 02 2020

ای میل

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مطابق غلام مرتضیٰ بلوچ ایک محنتی اور بہادر پارٹی رہنما تھے — فوٹو: امتیازعلی
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مطابق غلام مرتضیٰ بلوچ ایک محنتی اور بہادر پارٹی رہنما تھے — فوٹو: امتیازعلی

سندھ کے وزیر انسانی تصفیہ غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے چند روز بعد انتقال کر گئے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

اپنے بیان میں مراد علی شاہ نے کہا کہ 'مرتضیٰ بلوچ کا انتقال کورونا کے باعث ہوا، وہ ایک محنتی اور بہادر پارٹی رہنما تھے اور ان کی کمی کو پورا کرنا بہت مشکل ہے۔'

حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بھی ان کے انتقال پر تعزیت کی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 'ہمارے کابینہ کے ساتھی حاجی غلام مرتضیٰ بلوچ آج وفات پاگئے ہیں، وہ ایک حقیقی سیاسی کارکن تھے اور بہت خوش اخلاق اور عاجز انسان تھے۔'

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو کا کہنا تھا کہ 'غلام مرتضیٰ بلوچ کی پارٹی کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔'

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سندھ کے بہنوئی کورونا وائرس سے جاں بحق

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ 'غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا سے متاثر ہونے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج تھے جبکہ پارٹی کے لیے ان کی محنت اور خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔'

واضح رہے کہ غلام مرتضیٰ بلوچ 14 مئی کو کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے جس کا اعلان انہوں نے ٹوئٹر پر کیا تھا اور صحتیابی کے لیے عوام سے دعا کی اپیل کی تھی۔

23 مئی کو طبیعت بگڑنے پر انہیں کراچی کے نجی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) منتقل کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ منگل کے روز ہی صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی و جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما منیر خان اورکزئی حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال کر گئے تھے۔

منیر اورکزئی اپریل کے اواخر میں کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے جس پر انہیں 24 اپریل کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں داخل کروایا گیا تھا جہاں سے صحتیاب ہونے کے بعد 7 مئی کو وہ ہسپتال سے ڈسچارج کردیے گئے تھے۔

بعدازاں 15 مئی کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے دوران ان کی طبیعت بگڑ گئی تھی جس کے بعد انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا تھا۔

منیر اورکزئی طویل عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور 2012 میں انہوں نے ہارٹ اٹیک کا سامنا بھی کیا تھا۔