آزاد کشمیر کی عدالتوں میں چیف جسٹس کی تعیناتی میں 'خلاف دستور' تاخیر

اپ ڈیٹ 03 جون 2020

ای میل

آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ میں یکم اپریل سے مستقل چیف جسٹس نہیں ہیں—فائل/فوٹو:اے ایف پی
آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ میں یکم اپریل سے مستقل چیف جسٹس نہیں ہیں—فائل/فوٹو:اے ایف پی

آزاد جموں اور کشمیر کی دونوں اعلیٰ عدالتوں میں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے چیف جسٹس کی تعیناتی میں مبینہ 'خلاف دستور' تاخیر پر قانونی برادری نے تشویش کا اظہار کردیا۔

مستقل چیف جسٹسز کی تعیناتی نہ ہونا نہ صرف آزاد جموں و کشمیر کے آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اہم عدالتی امور میں بھی رکاؤٹ ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے آئین کے آرٹیکل 42 (2) کے تحت آزاد جموں و کشمیر کونسل کی تجویز پر صدر آزاد جموں و کشمیر، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر کرتا ہے اور آرٹیکل 43 (2-اے) کونسل کی سفارش سے صدر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی کرتا ہے جس کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کی جاتی ہے۔

وزیراعظم پاکستان آزاد جموں و کشمیر کونسل کے سربراہ ہیں اور اراکین میں آزاد جموں و کشمیر سے منتخب 6 اراکین اور چیئرمین کے وفاقی کابینہ سے نامزد غیر منتخب اراکین شامل ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر کے آئین کے مطابق چیف جسٹس کا عہدہ خالی ہونے پر ریاست کے صدر کسی بھی سینئر ترین جج کو چیف جسٹس تعینات کرسکتے ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر میں اس وقت دونوں اعلیٰ عدالتوں میں قائم مقام چیف جسٹسز تعینات ہیں۔

سپریم کورٹ میں جسٹس راجا سعید اکرم خان یکم اپریل2020 سے قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض نبھارہے ہیں جو سابق چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ فرائض ادا کررہے ہیں۔

ہائی کورٹ میں جسٹس اظہر سلیم بابر گزشتہ برس 16 نومبر سے قائم مقام چیف جسٹس ہیں جنہیں سابق چیف جسٹس تبسلم آفتاب علوی کی تعیناتی منسوخ کیے جانے کے بعد قائم مقام چیف جسٹس بنایا گیا تھا جبکہ ان کی ریٹائرمنٹ رواں برس 19 فروری کو ہونا تھی۔

سپریم کورٹ نے جسٹس تبسم آفتاب علوی کی اپیل پر ان کی منسوخی کے حکم کو بھی ختم کردیا تھا۔

ڈان کو سرکاری ذرائع نے بتایا کہ صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سےفروری اور مارچ میں جسٹس اظہر سلیم بابر اور جسٹس سعید اکرم خان کی تعیناتی کے لیے کونسل کے چیئرمین کو سمری بھیج دی گئی ہے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

آزاد جموں و کشمیر کی قانونی برادری کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف آزاد جموں و کشمیر کے آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ کئی دیگر عدالتی امور بھی رکے ہوئے ہیں۔

الجہاد ٹرسٹ کیس

سپریم کورٹ آف پاکستان نے مشہور الجہاد ٹرسٹ کیس میں واضح کردیا تھا کہ 30 روز کے اندر کسی بھی عدالت کے چیف جسٹس اور دیگر ججز کی تعیناتی کو یقنی بنایا جائے گا اور کسی کے انتقال اور کسی وجہ سے مقررہ مدت سے قبل جگہ خالی ہوتو 90 دنوں میں تعیناتی کی جاسکتی ہے اور اس فیصلے کو آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے یونس طاہر کیس میں قرار دیا تھا یہ آزاد کشمیر کی عدلیہ کے لیے قابل عمل ہے۔

آزاد جموں وکشمیر بار کونسل کے وائس چیئرمین چوہدری محمد الیاس نے ایک بیان میں کہا کہ 'عدالت عظمیٰ کی جانب سے آئینی نکات کی تشریح کو آئین کا حصہ تصور کیا جاتا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس تشریح کی روشنی میں چیف جسٹس کی تعیناتی میں تاخیر آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے'۔

آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدور خواجہ منظور قادر اور راجا آصف بشیر سمیت دیگر قانونی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ 'آزاد جموں و کشمیر کونسل مستقل چیف جسٹسز کی تعیناتی کی تجویز نہ دے کر قانونی اور آئینی خلاف ورزی کررہی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'جان بوجھ کر آزاد جموں و کشمیر میں آئینی خلا پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں خطے کی قانونی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے'۔

آزاد جموں وکشمیر کے وکلا کے علاوہ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی نے بھی مستقل چیف جسٹسز کی تعنیاتی میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا۔


یہ خبر 3 جون 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔