چین نے ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ کو ’جوابی ردعمل‘ سے خبردار کردیا

اپ ڈیٹ 04 جون 2020

ای میل

چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم برطانیہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ دہانے سے پیچھے ہٹیں—فوٹو: اے پی
چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم برطانیہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ دہانے سے پیچھے ہٹیں—فوٹو: اے پی

چین نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ ہانگ کانگ میں مداخلت کی صورت میں اسے مناسب ردعمل کا سامنے کرنا پڑے گا۔

برطانیہ نے چین کی جانب سے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے قانون کے نفاذ پر ردعمل دیتے ہوئے ہانگ ہانگ کے شہریوں کو شہریت دینے کا عندیہ دیا تھا۔

امریکا اور برطانیہ کی معاملے پر تنقید سے چین مشتعل نظر آتا ہے اور ناقدین کا خیال ہے کہ قانون کے نفاذ سے نیم خود مختار ہانگ کانگ کی محدود آزادی ختم ہوجائے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے بیجنگ کو مزید یہ کہتے ہوئے ناراض کردیا کہ چین اس منصوبے پر دوبارہ غور کرے۔

مزید پڑھیں: چین کی پارلیمنٹ نے ہانگ کانگ نیشنل سیکیورٹی بل منظور کرلیا

دوسری جانب برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ لندن بین الاقوامی کاروباری مرکز پر بیجنگ کے کنٹرول سے پریشان ہانگ کانگ کے باسیوں کو ’تنہا نہیں چھوڑیں گے‘۔

بورس جانسن نے ٹائمز اخبار اور ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے لیے ایک کالم میں لکھا کہ اگر چین، اپنے قومی سلامتی کے قانون پر قائم رہا تو برطانیہ، ہانگ کانگ کے لاکھوں لوگوں کو ویزا اور شہریت کے لیے ممکنہ راستہ فراہم کرے گا۔

جس پر چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے کہا کہ ڈومینک راب کے بیان پر بیجنگ نے لندن سے ’معاملہ اٹھایا‘ جو ہانگ کانگ کے معاملات میں ’زبردست مداخلت' تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم برطانیہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ دہانے سے پیچھے ہٹیں، وہ اپنی سرد جنگ اور نوآبادیاتی ذہنیت کو ترک کرے اور اس حقیقت کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے کہ ہانگ کانگ واپس آگیا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں:چین کا مجوزہ قانون: تائیوان کا ہانگ کانگ کے لوگوں کو 'ضروری مدد' فراہم کرنے کا اعلان

ژاؤ لی جیان نے کہا کہ لندن کو فوری طور پر ہانگ کانگ کے معاملات اور چین کے داخلی امور میں مداخلت بند کرنی چاہیے ورنہ ردعمل جوابی ہوگا۔

علاوہ ازیں امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے 'قومی سلامتی بل' پر کڑی تنقید کی تھی جس کے تحت چین کی سیکیورٹی ایجنسیاں ہانگ کانگ میں کھلے عام کارروائیاں کر سکیں گی۔

چاروں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ کا نیشنل سیکیورٹی کا قانون ہانگ کانگ میں آزادی کی ضمانت کے لیے چین کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ ’براہ راست متصادم‘ ہے۔

خیال رہے کہ 1991 میں برطانیہ نے اس شہر کو چین کے حوالے کیا تھا جس کے بعد سے چین نے یہاں 'ایک ملک، دو نظام' فریم ورک کے تحت حکمرانی کی ہے۔

مزید پڑھیں: چین کا ہانگ کانگ کیلئے نئے سیکیورٹی قوانین لانے کا منصوبہ

چینی حکومت نے نیشنل پیپلز کانگریس میں قانون پیش کیا گیا تھا جس کے بارے میں پارلیمان کے ترجمان نے کہا تھا کہ یہ قانون مالیات کے گڑھ کہلائے جانے والے شہر میں ’میکانزم کے نفاذ‘ کو مضبوط کرے گا۔

قانون کی منظوری سے ایک روز قبل ہی امریکا نے اپنے قوانین کے تحت ہانگ کانگ کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی جس سے اس شہر کے لیے تجارتی مراعات ختم کرنے کا راستہ ہموار ہوگا کیونکہ امریکا نے چین پر اس علاقے کی خود مختار حیثیت ختم کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔