مقبوضہ کشمیر میں 9 نوجوانوں کا قتل، پاکستان کی بھارتی 'ریاستی دہشتگردی' کی مذمت

ای میل

پاکستان، کشمیریوں پر اس کے مظالم کے لیے بھارت کا محاسبہ کرنے کا مطالبہ جاری رکھے گا، ترجمان عائشہ فاروقی — فائل فوٹو / اے ایف پی
پاکستان، کشمیریوں پر اس کے مظالم کے لیے بھارت کا محاسبہ کرنے کا مطالبہ جاری رکھے گا، ترجمان عائشہ فاروقی — فائل فوٹو / اے ایف پی

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کی جانب سے 9 نوجوانوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت کی 'ریاستی دہشت گردی' قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ سے مذمتی بیان مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں پیر کے روز وقفے وقفے سے 9 نوجوانوں کے قتل کے بعد سامنے آیا۔

ترجمان عائشہ فاروقی نے بیان میں کہا کہ 'پاکستان، بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے دوران قابض فورسز کی جانب سے کشمیری نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کرتا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران شوپیاں میں 9 کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فوجیوں نے 'جعلی انکاؤنٹرز' اور نام نہاد سرچ آپریشنز کے دوران قتل کیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں کئی مکانات بھی تباہ کیے گئے اور بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرہ کرنے والے بے گناہ مردوں، خواتین اور بچوں کے خلاف پیلٹ گن اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کامقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر شدید اظہار مذمت

ترجمان نے کہا کہ پوری آبادی کو اس طرح اجتماعی طور پر نشانہ بنایا جانا انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی قابل مذمت ہے کہ جب پوری دنیا کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، بھارت کشمیریوں پر اپنے مظالم میں اضافہ کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر کارروائی کرے اور کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں قتل اور دیگر مظالم سے بچائے۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان، کشمیریوں پر اس کے مظالم کے لیے بھارت کا محاسبہ کرنے کا مطالبہ جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسز کے جعلی انکاؤنٹرز معمول بن چکے ہیں، تاہم رواں سال اس میں مزید تیزی آئی ہے جس دوران 85 کشمیری جاں بحق اور سرکاری فورسز کے درجنوں اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کیلئے بھارت کے نئے 'غیر قانونی' ڈومیسائل قانون کو مسترد کردیا

کشمیری نوجوانوں کا قتل

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق بھارتی آرمی کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے کہا کہ 'حالیہ واقعے میں فورسز نے پولیس کی خفیہ معلومات پر پیر کی علی الصبح شوپیاں کے ایک گاؤں کا محاصرہ کیا جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور 4 مشتبہ حریت پسند جاں بحق ہوئے۔'

ایک پولیس افسر اور مقامی افراد نے کہا کہ فوجی اہلکاروں نے ایک گھر کو بھی دھماکے سے اڑا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد گاؤں کے سیکڑوں افراد نے حریت پسندوں کے حق میں ریلی نکالی اور بھارت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے پتھراؤ کیا۔

بھارتی آرمی کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'لڑائی میں 3 فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔'

اتوار کو بھارتی فوج اور پولیس نے شوپیاں کے گاؤں ریبان میں نام نہاد آپریشن کے دوران 5 حریت پسندوں کو قتل کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کے قیدیوں کی رہائی، رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ

خیال رہے کہ بھارت نے اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے طویل کرفیو نافذ کردیا تھا جس کے بعد سے وادی میں شدید کشیدگی جاری ہے۔

پاکستان نے بھارت کے اس متنازع اقدام پر شدید تنقید کی تھی جبکہ اس کے بعد سے لائن آف کنٹرول پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔