اوگرا نے پیٹرولیم بحران کا ذمہ دار 6 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ٹھہرادیا

اپ ڈیٹ 12 جون 2020

ای میل

ریگولیٹر نے شیل اور ٹوٹل پارکو پر 10، 10 لاکھ روپے، پوما انرجی اور ہاسکول پیٹرولیم پر 5، 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا - فائل فوٹو:رائٹرز
ریگولیٹر نے شیل اور ٹوٹل پارکو پر 10، 10 لاکھ روپے، پوما انرجی اور ہاسکول پیٹرولیم پر 5، 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا - فائل فوٹو:رائٹرز

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ملک بھر میں پیٹرولیم کے بحران کی ذمہ داری 6 بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) پر عائد کی ہے اور ان پر 4 کروڑ روپے کا مجموعی جرمانہ عائد کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اتھارٹی نے اسکر پیٹرولیم، بائیکو پیٹرولیم اور بی ای انرجی کو قواعد اور لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزیوں پر شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جس کے نتیجے میں پیٹرولیم کا بحران پیدا ہوا تھا۔

6 علیحدہ نوٹی فکیشن کے تحت اوگرا نے ان او ایم سیز کو ان کے نقطہ نظر کو غیر مستحکم بتاتے ہوئے شوز کاز نوٹس کے تحت کارروائی نمٹا دی۔

اس کا کہنا تھا کہ ’کمپنیوں کو لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا ہے اور ان کے پاس ناکافی اسٹاک تھا‘۔

ریگولیٹر نے شیل پاکستان اور ٹوٹل پارکو پاکستان لمیٹڈ (ٹی پی پی ایل) پر دس دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

مزید پڑھیں: آئندہ 3 روز میں ملک میں پیٹرول کی صورت حال بہتر ہوجائے گی، عمر ایوب

دلچسپ بات یہ ہے کہ پیٹرولیم سیکریٹری اسد حیاالدین ٹی پی پی ایل بورڈ کے چیئرمین اور ڈائریکٹر ہیں۔

ریگولیٹر نے پوما انرجی، گیس اور آئل پاکستان اور ہاسکول پیٹرولیم پر بھی 5، 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس کی ذمہ داری پیٹرولیم ڈویژن، خاص طور پر ایڈیشنل سیکریٹری پالیسی، ڈائریکٹر جنرل آئل اور اوگرا کے متعلقہ شعبے پر، قلت کے پیدا ہونے کے بارے میں معلومات نہ ہونے پر، بھی عائد ہوتی ہے۔

او ایم سی کو 30 دن کے اندر جرمانہ جمع کرانا ہوگا اور وہ 30 دن کے اندر اندر 50 فیصد جرمانے کی ادائیگی کے بعد اوگرا کے احکامات پر نظر ثانی طلب کرسکتا ہے۔

کمپنیوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے آؤٹ لیٹس پر سپلائی کو فوری طور پر بہتر بنائیں بصورت دیگر قواعد کی مسلسل خلاف ورزی پر مزید جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

دریں اثنا شیل پاکستان نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرول کی قلت مئی کے دوران طلب میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ہوئی جس کی وزارت توانائی نے بھی پیش گوئی نہیں کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ 20 دن کا اسٹوریج فی الحال کراچی تک محدود ہے اور پائپ لائن کے مکمل ہونے کے بعد اس سال کے آخر تک پنجاب اور خیبر پختونخوا تک اس کو توسیع دی جاسکتی ہے۔

جمعرات کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیل پاکستان کے بیرونی مواصلات کے منیجر حبیب حیدر نے کہا کہ مارچ میں فروخت کے مقابلے میں گزشتہ ماہ پیٹرول کی طلب دوگنی سے بھی زیادہ تھی اور ریفائنریز، وزارت، اوگرا یا آئل کمپنیوں سمیت کوئی بھی اسے سمجھ نہیں سکا۔

انہوں نے تیل کمپنیوں کے خلاف شوکاز نوٹس کو مسترد کردیا جس میں کمپنیوں اور پیٹرول اسٹیشنز پر ذخیرہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول کی قلت اور ذخیرہ اندوزی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل

انہوں نے کہا کہ ’جب قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو ذخیرہ کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا، دراصل لوگ مہنگے اسٹاک کو بہت تیزی سے ختم کرتے ہیں تاکہ وہ نقصانات کو کم کرسکیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام تیل کمپنیوں کو مقامی ریفائنریز سے تیل اٹھانے کی ہدایت کیں لیکن ریفائنریز بھی مئی میں طلب میں بڑے پیمانے پر اضافے کے لیے تیار نہیں تھیں۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد سے ملک بھر میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو گئی تھی جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں تعطل کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں جواب طلب کرلیا تھا۔

ترجمان اوگرا عمران غزنوی کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے شیل پاکستان لمیٹڈ، اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ اور ٹوٹل پارکو پاکستان لمیٹڈ کو نوٹس جاری کیے تھے۔

بعدازاں وزیراعظم سٹیزن پورٹل پر ریٹیل آؤٹ لیٹس پر تیل کی فراہمی میں قلت کی شکایات پر اوگرا نے مزید 3 آئل مینوفیکچرنگ کمپنیز گیس اینڈ آئل، پوما اور ہیسکول کو بھی شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا تھا۔