فیس بک کے مصنوعی ذہانت کے فروغ کے منصوبے کیلئے 2 پاکستانی منتخب

اپ ڈیٹ 18 جون 2020

ای میل

منصوبے کا مقصد مصنوعی ذہانت کو اخلاقیات کے فروغ کیلئے استعمال کرنا ہے— فوٹو: فیس بک ریسرچ
منصوبے کا مقصد مصنوعی ذہانت کو اخلاقیات کے فروغ کیلئے استعمال کرنا ہے— فوٹو: فیس بک ریسرچ

دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک نے ایشیائی خطے میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے منصوبے کے لیے اپنے اعلان کردہ فنڈنگ منصوبے کے لیے 2 پاکستانی ماہرین کو بھی منتخب کرلیا۔

فیس بک ایشیائی خطے میں آرٹیفشل انٹیلیجنس (اے آئی) یعنی مصنوعی ذہانت میں اخلاقیات کی معاونت کے لیے یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے سینٹر فار سول سوسائٹی اینڈ گورننس اور ہانگ کانگ کے پرائیویسی کمشنر فار فار پرسنل ڈیٹا (پی سی پی ڈی) کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

فیس بک نے مذکورہ منصوبے کا آغاز گزشتہ برس دسمبر میں کیا تھا، جس پر ایشیا کے متعدد ممالک میں فعال اور رجسٹرڈ تعلیمی اداروں، تھنک ٹینکس اور تحقیقی اداروں کی معاونت سےکام کیا جا رہا تھا۔

اسی منصوبے کو آگے بڑھانے اور ایشیائی خطے میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی فروغ کے لیے فیس بک نے پاکستان سمیت خطے کے 9 ممالک کے ٹیکنالوجی ماہرین کو پرنسپل انویسٹی گیٹر (پی آئی) کے طور پر منتخب کیا ہے اور منتخب ہونے والے افراد کو فیس بک فنڈز فراہم کرے گا۔

فیس بک کی جانب سے منتخب کیے جانے والے ایشیائی خطے کے 9 ممالک کے پرنسپل انویسٹی گیٹرز میں 2 پاکستانی ماہرین بھی شامل ہیں۔

فیس بک کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق پاکستان سے پنجاب کی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی (آئی ٹی یو) کے پروفیسر جنید قادر اور سندھ کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کی امانا رقیب بھی شامل ہیں۔

دونوں پاکستانی ماہرین فیس بک کی ایشیائی ٹیم کو خطے میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی فروغ اور تحقیق میں معاونت فراہم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت انقلابِ ثانی یا مکمل تباہی؟

اس منصوبے کے ہیڈ آف پرائیویسی اینڈ ڈیٹا پالیسی، اینگیجمنٹ رائنا یونگ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تازہ ترین پیش رفت سے معاشرے میں بڑی تبدیلی آرہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی مختلف اقسام کے اخلاقی نوعیت کے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں اور فیس بک ایسے ہی سوالات کا جائزہ لے گا۔

اس منصوبے میں منتخب ہونے والے پرنسپل انویسٹی گیٹر جنید قادر نے فیس بک کی جانب سے منتخب کیے جانے پر خوشی کا اظہار کیا اور دونوں پاکستانی ماہرین کے انتخاب کو ملک کے لیے اہم قرار دیا۔

انہوں نے اپنے انتخاب کے موقع پر کہا کہ جہاں مصنوعی ذہانت سے پائیدار انسانی ترقیاتی اہداف کی سہولت کے لیے بھرپور مواقع موجود ہیں وہیں اس کے غلط استعمال کے بھی بڑے امکانات موجود ہیں اور اس منصوبے کا مقصد مصنوعی ذہانت کی مدد سے پاکستان سمیت امت مسلمہ میں پیش ہونے والے مسائل کا حل نکالنا ہے۔

جنید قادر لاہور کی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں اپریل 2020 سے پروفیسر کے طور پر فعال ہیں جبکہ وہ جنوری 2019 سے الیکٹریکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین کے طور پر بھی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے سال 2008 میں آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز سے اپنا پی ایچ ڈی مکمل کیا جب کہ سال 2000 میں لاہور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلرز کیا۔

امانا رقیب نے آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ سے امتیازی مقام کے ساتھ مذہبی فلسفہ اور ایتھکس میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی، انہوں نے اس سے قبل جامعہ کراچی سے فلسفہ میں گریجوئیشن کیا، وہ ایک کتاب اسلامک ایتھکس آف ٹیکنالوجی، ان اوبجیکٹوز اپروچ کی مصنفہ ہیں۔