اقوام متحدہ، عرب لیگ کا اسرائیل سے انضمام کا منصوبہ ترک کرنے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 25 جون 2020

ای میل

یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ویڈیو کانفرنس کے دوران کیا گیا جس میں متعدد حکومتی وزرا نے شرکت کی تھی۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ویڈیو کانفرنس کے دوران کیا گیا جس میں متعدد حکومتی وزرا نے شرکت کی تھی۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

اقوام متحدہ اور عرب لیگ (اے ایل) نے اسرائیل سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے کا منصوبہ ترک کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ویڈیو کانفرنس کے دوران کیا گیا جس میں متعدد حکومتی وزرا نے شرکت کی تھی۔

یہ آخری بین الاقوامی ملاقات تھی جس کے بعد اسرائیل یکم جولائی کو اپنے منصوبے پر عمل درآمد شروع کردے گا۔

اس سے قبل 25 ممالک کے ایک ہزار سے زائد یورپی قانون سازوں نے بھی اپنے حکمرانوں کو اس معاملے میں مداخلت کرنے اور اسرائیلی منصوبہ روکنے کا کہا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی کانفرنس کے دوران کہا کہ ’میں اسرائیلی حکومت سے اپنے انضمام کے منصوبے ترک کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں‘۔

مزید پڑھیں: ایک ہزار یورپی قانون سازوں کا اسرائیل سے فلسطینی علاقوں کو ضم نہ کرنے کا مطالبہ

انہوں نے دہائیوں پرانے دو ریاستی حل، جس کے ذریعے آزاد خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام اور یروشلم دونوں ریاستوں کا دارالحکومت بنانے کے ہدف پر زور دیا۔

اس موقع پر عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا کہ انضمام سے ’مستقبل میں امن کے امکانات ختم ہوجائیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اسرائیلی حکومت کے مقبوضہ فلسطینی علاقے کے حصے کو ضم کرنے کے ممکنہ اقدام پر اگر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے‘۔

مشرق وسطی کے لیے اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر نکولے ملادینوف نے کہا کہ ’انضمام اسرائیل-فلسطینی تعلقات کی نوعیت کو غیر منطقی طور پر تبدیل کرسکتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ اسرائیل کے ساتھ امن، سلامتی اور باہمی اعتراف میں رہنے والی مستقبل کی قابل عمل فلسطینی ریاست کی حمایت میں بین الاقوامی کوششوں کے خاتمے کا خطرہ ہے‘۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کے آزاد فلسطین کے علاقوں تک توسیع اور اس کے اسرائیلی ریاست میں انضمام کے منصوبے پر یکم جولائی سے کابینہ میں بحث شروع ہوگی۔

خیال رہے کہ یورپی یونین اسرائیل کو اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹانے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر اسرائیلی وزیراعظم آگے بڑھے تو اس کے جواب میں انتقامی اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔

تاہم اسرائیل پر پابندیوں کے لیے تمام 27 ممبر ممالک کے معاہدے کی ضرورت ہوگی۔

اس سے قبل فلسطین کے وزیر اعظم محمد اشتیہ نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں کو ضم کیا تو فلسطین مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے تمام مغربی کنارے اور غزہ پر ریاست کا اعلان کردے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں کو ضم کیا تو آزاد ریاست کا اعلان کردیں گے،فلسطینی وزیراعظم

فلسطینی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے فلسطین کے زیر قبضہ علاقوں کو انضمام کرنے کا منصوبہ جاری رکھا تو تمام مغربی کنارے اور غزہ پر ریاست کا اعلان کریں گے اور عالمی سطح پر اس کو تسلیم کرانے کے لیے زور دیں گے۔

یاد رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے 23 اپریل کو کہا تھا کہ اگر مقبوضہ مغربی کنارے کا اسرائیل میں انضمام کیا گیا تو فلسطینی حکام کے اسرائیل اور امریکا سے ہوئے معاہدے کو مکمل طور پر منسوخ تصور کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکا اور اسرائیلی حکومت سمیت متعلقہ بین الاقوامی فریقین کو آگاہ کردیا کہ اگر اسرائیل نے ہماری زمین کے کسی حصے کا انضمام کرنے کی کوشش کی تو ہم ہاتھ باندھے نہیں کھڑے رہیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات 2014 میں ختم ہوگئے تھے جبکہ فلسطین نے ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبے کو پیش کیے جانے سے قبل ہی مسترد کردیا تھا۔

فلسطین اور عالمی برادری اسرائیلی آبادیوں کو جنیوا کنونشن 1949 کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے جو جنگ کے دوران قبضے میں لی گئی زمین سے متعلق ہے جبکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا مرکز قرار دیتا ہے۔