شوگر کمیشن رپورٹ پر سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2020

ای میل

وفاقی حکومت نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی — فائل فوٹو: اے ایف پی
وفاقی حکومت نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی — فائل فوٹو: اے ایف پی

وفاقی حکومت نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی۔

سندھ ہائی کورٹ نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کا حکم دیا تھا جسے وزارت داخلہ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے اور ہائی کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

مزید پڑھیں: شوگر کمیشن کیس:اٹارنی جنرل کی ملز مالکان کیخلاف منصفانہ، غیر جانبدار کارروائی کی یقین دہانی

وزارت داخلہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ‏سندھ ہائی کورٹ نے حکومت کا مؤقف سنے بغیر ہی شوگر ملز ایسوسی ایشن کو ریلیف دیا حالانکہ دوسرے فریق کو سنے بغیر یکطرفہ حکم امتناع نہیں دیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ میں درج سندھ کی 20 شوگر ملوں کے خلاف 30جون تک کارروائی سے روک دیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے اگلی سماعت کے لیے فریقین کو نوٹس جاری کردیے تھے۔

میرپور خاص شوگر ملز اور صوبے کی دیگر 19 ملوں کی جانب سے چینی کی ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف مرتب کی گئی انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رپورٹ کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو شوگر کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد سے روک دیا

مذکورہ دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ درخواست گزاروں کے وکیل مخدوم علی کے مطابق کمیشن متعلقہ قوانین کو مدنظر رکھ کر تشکیل نہیں دیا گیا تھا اور اس میں ان اراکین کو شامل کیا گیا جنہوں نے شوگر ملوں کے خلاف پہلے سے اپنے ذہن بنا لیے تھے کیونکہ وہ پہلے بھی ایک تحقیقاتی کمیٹی کا حصہ تھے جو اسی معاملے پر بنائی گئی تھی۔

وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ تحقیقات کے دوران درخواست گزاروں میں سے کسی سے بھی ان کی ملوں کے کام کے طریقہ کار اور کاروبار کے بارے میں معلومات یا وضاحت طلب نہیں کی گئی اور کمیشن نے ان کے خلاف فیصلہ سنا دیا جس سے درخواست گزاروں کی ساکھ اور ان کے کاروبار پر برا اثر پڑا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ قابل وکیل کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات قابل غور ہیں، ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ چینی کا بحران ایک قومی مسئلہ ہے اور اسے کم وقت میں حل کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے اپنا فیصلہ دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو 30جون تک تحقیقاتی رپورٹ پر عملدرآمد سے روک دیا تھا۔

مزید پڑھیں: شوگر ملوں کو دی گئی سبسڈی کی بنیاد ہی غلط تھی، شہزاد اکبر

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ ہائی کورٹ سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ چینی کی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر حکم امتنازع جاری کرچکی تھی۔

تاہم 20 جون کو اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناع میں شوگر کمیشن کو قانونی اور اس کے اقدامات اور رپورٹ کی توثیق کردی تھی۔

شوگر کمیشن کی رپورٹ

واضح رہے کہ حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ 21 مئی کو سامنے لائی تھی جس کے مطابق چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، دو کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بتایا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اکاؤنٹنگ کی مد میں فراڈ ہوا ہے اور گنے کی خریداری میں انڈر رپورٹنگ کی جارہی ہے، پاکستان میں جتنا گنا پیدا ہوتا ہے اور جتنی چینی پیدا ہوتی ہے اور جتنی فروخت ہوتی ہے اس میں 25 سے 30 فیصد کا فرق آرہا ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا تھا انکوائری کمیشن کو مل مالکان کی جانب سے 2، 2 کھاتے رکھنے کے شواہد ملے ہیں، ایک کھاتہ سرکاری اداروں جیسا کہ ایس ای سی پی، ایف بی آر کو دکھایا جاتا ہے اور دوسرا سیٹھ کو دکھایا جاتا ہے جس میں اصل منافع موجود ہوتا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ انکوائری کمیشن کے مطابق اس وقت ملک میں شوگر ملز ایک کارٹیل کے طور پر کام کررہی ہیں اور کارٹیلائزیشن کو روکنے والا ریگولیٹر ادارہ مسابقتی کمیشن پاکستان اس کو روک نہیں پارہا، 2009 میں مسابقتی کمیشن نے کارٹیلائزیشن سے متعلق رپورٹ کیا تھا جس کے خلاف تمام ملز مالکان میدان میں آگئے تھے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شوگر ملز کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے 6 بڑے گروہ جو پاکستان کی چینی کی 51 فیصد پیداوار کو کنٹرول کرتے ہیں اور ان کے پیداواری حجم کی بنیاد پر آڈٹ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت چینی بحران کی فرانزک رپورٹ عوام کے سامنے لے آئی

شہزاد اکبر نے کہا کہ سب سے بڑا گروپ جے ڈی ڈبلیو ہے جن کا چینی کی پیداوار میں 20 فیصد کے قریب حصہ، آر وائے کے کا 12فیصد، المعیذ گروپ کا 6.8 فیصد، تاندیا والا کا 5 فیصد، شریف گروپ کا 4.5 فیصد اور اومنی گروپ کا 1.6 فیصد حصہ ہے۔

معاون خصوصی نے کہا تھا کہ جے ڈی ڈبلیو شوگر مل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما جہانگیر ترین کے 21 فیصد حصص ہیں، علی خان ترین کے 13 فیصد، احمد محمود صاحب کے 26 فیصد شیئرز ہیں اور یہ واحد کمپنی ہے جس میں 24 فیصد شیئر عوام کا ہے، انہوں نے کہا کہ جے ڈی ڈبلیو نے 2 کھاتے رکھے تھے، اوور انوائسنگ اور انڈر رپورٹنگ بھی پائی گئی۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ جے ڈی ڈبلیو نے کرشنگ یونٹس میں اضافہ کیا، بگاس اور مولیسس کی فروخت کو انڈر انوائس کیا جس کی وجہ سے پیداواری لاگت میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں کارپوریٹ فراڈ بھی سامنے آیا اور جے ڈی ڈبلیو کی جانب سےفارورڈ سیلز، بے نامی فروخت اور سٹہ کے شواہد سامنے آئے ہیں۔