لاہور ہائیکورٹ: شہباز شریف کو کورونا کا ٹیسٹ کروانے، رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 29 جون, 2020

ای میل

وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کینسر کے مریض ہیں ان کی ریکوری میں وقت لگ سکتا ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی
وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کینسر کے مریض ہیں ان کی ریکوری میں وقت لگ سکتا ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کو 2 جولائی کو انسٹیٹوٹ آف پبلک ہیلتھ سے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

ساتھ ہی عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی عبوری ضمانت اور ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی تاریخ میں 7 جولائی تک توسیع کر دی۔

جسٹس سرادر احمد نعیم کی سربراہی میں ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شہباز شریف کی طرف سے نئی درخواست دائر کی گئی ہے جس پر ان کے وکیل اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے آگاہ کیا کہ شہباز شریف کی جانب سے حاضری معافی کی درخواست دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ: شہباز شریف کی ضمانت میں 29 جون تک مزید توسیع

وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کینسر کے مریض ہیں ان کی ریکوری میں وقت لگ سکتا ہے جبکہ کورونا سے متاثر ہونے کی وجہ سے وہ اس وقت آئسولیشن میں ہیں۔

شہباز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 14 دن گزرنے کے باوجود شہباز شریف کو کورونا وائرس کی علامات کا سامنا ہے۔

عدالت نے دریافت کیا کہ ضمانت منظور ہونے کے بعد 7 دن تھے، ان7 دنوں میں مچلکوں پر دستخط کیوں نہیں کروائے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ شہباز شریف نے دستخط کرنے لاہور ہائیکورٹ آنا تھا لیکن بدقسمتی سے ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔

وکیل نے بتایا کہ شہباز شریف کی میڈیکل رپورٹس کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے وہ کورونا وائرس کے خطرات کے باوجود ملک واپس آئے ہیں۔

سماعت میں نیب کے وکیل فیصل بخاری نے اعتراض اٹھایا کہ شہباز شریف نے مچلکوں پر بھی دستخط نہیں کیے اور 25 جون کو کورونا کا ٹیسٹ کروانا تھا لیکن نہیں کروایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف نیب میں پیش، ڈیڑھ گھنٹے تک تفتیش

عدالت نے استفسار کیا کہ جب شہباز شریف نے ٹیسٹ ہی نہیں کرایا تو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ابھی تک کورونا کے مریض ہیں۔

شہباز شریف کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 9 جون کو نیب نے شہباز شریف کو بلایا اور شہباز شریف پیش ہوئے، ایک سال دو ماہ ہو گئے ہیں نیب منی لانڈرنگ کا ریفرنس دائر نہیں کر رہا۔

عدالت نے دریافت کیا کہ لاہور میں کون کون سی لیبارٹریز کورونا کے ٹیسٹ کر رہی ہیں؟ جس کے جواب میں وکیل نے بتایا کہ شوکت خانم، زینت لیب اور دیگر کورونا کے ٹیسٹ کر رہی ہیں لیکن شوکت خانم والے شاید شہباز شریف کا ٹیسٹ کرنا اچھا نہ سمجھیں۔

وکیل نیب کا کہنا تھا کہ اس طرح تو شہباز شریف ٹائم مانگتے جائیں گے، اگر عدالت مناسب سمجھے تو حاضری معافی کی درخواست منظور کر کے دلائل سن لے۔

مزید پڑھیں: لاہور: نیب ٹیم کا شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے رہائش گاہ پر چھاپہ

ساتھ ہی نیب وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ شہباز شریف کی عدم موجودگی میں کیس سن کر فیصلہ کر دے دیں۔

بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 7 جولائی تک توسیع کر دی اور کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم دیا۔

شہباز شریف کی وطن واپسی کے بعد تحقیقات کا احوال

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر مارچ کی 22 تاریخ کو لندن سے وطن واپس آئے تھے جس کے بعد نیب نے انہیں آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کے حوالے تحقیقات کے لیے متعدد مرتبہ طلب کیا۔

17 اور 22 اپریل کو شہباز شریف نے کورونا وائرس کے باعث صحت کو وجہ بناتے ہوئے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ نیب نے انہیں طبی ہدایات کے مطابق تمام تر احتیاطی تدابیر اپنانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

بعدازاں شہباز شریف 4 مئی کو نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے جہاں ان سے ایک گھنٹہ 45 منٹ تک آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس سے متعلق سوالات کیے گئے تھے۔

نیب نے شہباز شریف کے جوابات کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے انہیں 2 جون کو دوبارہ طلب کیا تھا۔

شہباز شریف نے اپنے وکیل کے توسط سے مطلوبہ دستاویز قومی احتساب بیورو میں جمع کروادیے تھے تاہم نیب نے ان دستاویزات اور شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر سوالات کا جواب دینے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔

ان کے پیش نہ ہونے پر 2 جون کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار تھا جہاں 2 سے ڈھائی گھنٹے گزارنے کے بعد اسے خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔

چھاپے کے اگلے ہی روز شہباز شریف نے عبوری ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا کہ جس پر عدالت نے نیب کو 17 جون تک شہباز شریف کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔

ضمانت ملنے کے بعد 9 جون کو شہباز شریف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں نیب میں پیش ہوئے جہاں ان سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک تفتیش کی گئی۔

ان کی ضمانت کی مدت ختم ہونے سے ایک روز قبل نیب نے شہباز شریف کی ضمانت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم 17 جون کو عبوری ضمانت میں 29 جون تک کی توسیع کردی گئی تھی۔