فاسٹ یونیورسٹی کے طلبہ کو فیس بک پر ٹیچرز کا مذاق اڑانا مہنگا پڑگیا

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2020

ای میل

فاسٹ یونیورسٹی نے چند طلبہ کو ایک سمسٹر، چند کو ایک سال اور چند کو معافی نامہ جمع کرانے کا کہا - فوٹو بشکریہ فاسٹ یونیورسٹی ویب سائٹ
فاسٹ یونیورسٹی نے چند طلبہ کو ایک سمسٹر، چند کو ایک سال اور چند کو معافی نامہ جمع کرانے کا کہا - فوٹو بشکریہ فاسٹ یونیورسٹی ویب سائٹ

لاہور: نجی یونیورسٹی نے یونیورسٹی کے فیس بک اکاؤنٹس اور دیگر گروپس پر مبینہ طور پر اساتذہ سے متعلق ہتک عزت آمیز پوسٹس لگانے کے الزام میں 36 موجودہ اور سابق طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فاسٹ نیشنل یونیورسٹی (این یو) برائے کمپیوٹر اینڈ امرجنگ سائنس فیصل ٹاؤن کیمپس نے مبینہ طور پر قابل اعتراض میمز آن لائن پوسٹ کرنے پر 24 موجودہ اور 12 سابق طلبہ کے خلاف کارروائی کی۔

ڈان کے پاس موجود فاسٹ ڈسپلنری کمیٹی کے نوٹیفکیشن میں انکشاف کیا گیا کہ 13 طلبہ کو 27 جون سے 10 دن کے اندر کیمپس انتظامیہ کو معافی نامہ جمع کرانے اور اپنے ذاتی فیس بک ٹائم لائنز پر پوسٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

مزید پڑھیں: ’20 سال پڑھانے کے بعد بھی سوچتا ہوں کہ طلبہ کا مزاج کیسے ٹھیک کروں‘

دو دیگر طلبہ کو فال 2020 سیمسٹر سے نکال دیا گیا تھا جبکہ ان کے اسپرنگ 2020 سمسٹر میں رجسٹرڈ تمام کورسز میں ان کی ایک گریڈنگ بھی کم کردی گئی اور یونیورسٹی کے دوبارہ کھلنے پر کیمپس لان اور ہائی وے کو چار ہفتوں کے لیے ایک گھنٹے روزانہ کمیونٹی سروس کے طور پر صفائی کرنے کی ہدایت کی گئی۔

ایک طالب علم کو ایک سال کے لیے یونیورسٹی سے معطل کردیا گیا اور یونیورسٹی کھلنے کے بعد کیمپس کے لانز اور ہائی وے کو چھ ہفتوں کے لیے روزانہ ایک گھنٹے کی کمیونٹی سروس کے طور پر صفائی کا کہا گیا۔

تین طلبہ کے اسپرنگ 2020 سمسٹر کے تمام کورسز میں ایک گریڈ کمی کی گئی، 4 طلبہ کو متعدد کورسز میں ایک گریڈ کی کمی کی سزا دی گئی۔

دیگر کو سینٹرل اکیڈمک آفس میں تحریری وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی اور ان کا آئندہ کے احکامات تک اسپرنگ سمسٹر کا نتیجہ روک دیا گیا۔

بارہ سابق طلبہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ انتظامیہ کو تحریری طور پر معافی نامہ پیش کریں اور اسے 10 دن کے اندر اپنے ذاتی فیس بک ٹائم اکاؤنٹ پر بھی اپ لوڈ کریں۔

یونیورسٹی نے کہا کہ ’احکامات کی تعمیل میں ناکامی پر ایچ ای سی کو مطلع کرتے ہوئے ان کی ڈگری کی منسوخی، بلیک لسٹ کرنے اور سائبر قوانین کے تحت ٹرائل کے لیے حکام کو رپورٹ کیا جائے گا‘۔

تاہم طلبہ جنہیں سزا دی گئی سمیت دیگر نے سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کے فیصلے پر غم و غصے کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: معذور طلبا کو آن لائن تدریس میں درپیش مسائل مت بھولیے

ایک طالب علم شاہ مراد نے فیس بک پر پوسٹ کیا ’آمریت اپنے بہترین انداز میں ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ اس وبائی امراض کے دوران حل طلب ان گنت مسائل موجود ہیں لیکن فاسٹ کو مزاحیہ میمز سے پریشانی ہے اور یونیورسٹی یہ ثابت کرنے کے لیے اس قسم کا فیصلہ کررہی ہے کہ یہ تنقید برداشت نہیں کرسکتی۔

سابق طالب علم اور صحافی علی معین نوازش نے اپنے فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹس پر اظہار یکجہتی کرتے ہوئے لکھا کہ ’فاسٹ یونیورسٹی، یہ شرمناک ہے! یہ سمجھا جاتا ہے کہ یونیورسٹیاں آزادانہ تقریر اور افکار کی روشنی ہیں، فاسٹ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے! ان کے گریڈز کو کم نہ کریں! یہ بہت ساری سطحوں پر غلط ہے! آپ اپنی انا کو راحت بخشنے کے لیے ان کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں! آپ کو شرم آنی چاہیے!‘

فاسٹ یونیورسٹی کے اکیڈمکس کے منیجر سیف اللہ نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طلبہ نے اس کی شروعات مذاق کے طور پر کی تھی لیکن بعد میں فحش اور قابل اعتراض میم بنائے گئے جس پر انہوں نے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے تمام طلبہ کو انفرادی طور پر بلایا تھا اور کچھ نے فون پر بیانات ریکارڈ کروائے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ طلبہ کے پاس انضباطی کمیٹی کے احکامات کو یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اور بعد میں بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کے سامنے 14 دن کے اندر چیلنج کرنے کے دو مواقع بھی دیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 12 طلبہ نے اپنے اقدام پر معذرت کرلیا تھا اور انہیں ریلیف دیا گیا ہے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ’انتظامیہ نے کسی بھی طالب علم کو یونیورسٹی سے بے دخل نہیں کیا تاہم کچھ کو ایک سال کے لیے اور چند کو ایک سمسٹر کے لیے معطل کیا ہے‘۔