کورونا وائرس: ڈاکٹرز کا اندرون شہر مویشی منڈیاں لگانے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2020

ای میل

ڈاکٹر قیصرسجاد کراچی میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ فوٹو:ڈان
ڈاکٹر قیصرسجاد کراچی میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ فوٹو:ڈان

کراچی: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) اور سول سوسائٹی کے رضاکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں کوئی مویشی منڈی قائم نہیں کی جانی چاہیے اور حکومت کو عیدالاضحی کے دوران اس کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ایم اے ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کی سفارشات کے مطابق شہر میں مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ کیا۔

پی ایم اے کے ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ ’ہم عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ورنہ حکومت کو رمضان کے بعد جس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا اس طرح کی ایک اور مشکل وقت کے لیے تیار ہوجانا چاہیے، حکومت کو چاہیے کہ وہ شہر کے اندر قربانی کے جانوروں کے لیے مویشی منڈیوں کے انعقاد کی اجازت نہ دے‘۔

ایم اے اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کی جانب سے دیگر مطالبات کی فہرست پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو ہسپتال انتظامیہ سے مشاورت سے نجی ہسپتالوں میں موجود تمام کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کا خرچ برداشت کرنا چاہیے‘۔

مزید پڑھیں: کورونا وبا: ملک میں کیسز 2 لاکھ 17ہزار سے زائد، ایک لاکھ 4 ہزار 694 صحتیاب

ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی میڈیسن یا صحت سے متعلقہ سامان کسی قابل طبی ماہر کے نسخے کے بغیر فروخت نہیں کیا جانا چاہیے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور متعلقہ صوبوں کے ہیلتھ کیئر کمیشنز کو کورونا وائرس کے انتظام سے متعلق اس وقت ملک میں پائے جانے والے خوف و ہراس اور الجھن کا ازالہ کرنا چاہیے‘۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہر بھر میں بجلی کی عدم فراہمی کے مسئلے کو دیکھیں اور اس وبائی صورتحال میں بجلی کی معمول کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش

کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں صورتحال مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سرکاری اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ اب تک 2 لاکھ 13 ہزار 470 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 4 ہزار 395 افراد وائرس کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں، یہ صورتحال اس لیے پیش آئی ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے یکساں پالیسی نہیں ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر نہیں تھیں جس کی وجہ سے وبائی امراض پر عام لوگوں میں الجھن پیدا ہوئی تھی۔

مزید وضاحت دیتے ہوئے ڈاکٹر عبد الغفور شورو نے کہا کہ وائرس اور ہسپتال کی ناکافی سہولیات کے بارے میں وضاحت کی کمی اور غلط فہمیوں کی وجہ سے معاشرے میں مایوسی اور خوف و ہراس پیدا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا غلط معلومات پھیلارہا ہے کہ مریضوں کو ہسپتالوں میں نہیں لے جانا چاہیے کیونکہ ڈاکٹر مریضوں کو کورونا وائرس سے متاثرہ اور اہلخانہ کو بھی کورونا وائرس سے متاثرہ قرار دے دیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ نتیجتاً سوشل میڈیا کی ان غلط معلومات کی وجہ سے بہت سارے افراد اپنے بیمار پیاروں کو گھر میں ہی رکھے ہوئے ہیں اور ان کی حالت خراب ہونے پر ہی انہیں ہسپتالوں میں لے جایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس مرحلے پر اگر مریض کی موت ہو جاتی ہے یا اس کی حالت مزید خراب ہوتی ہے تو مریض کے تیماردار ہسپتالوں کو نقصان پہنچانے لگتے ہیں اور طبی عملے پر حملہ کرتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کیسز میں 40 فیصد کمی، 50 فیصد افراد وائرس سے صحتیاب ہوگئے

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’عام لوگ ادویات اور طبی سامان بھی جمع کر رہے ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ میں ان مصنوعات کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے‘۔ ’

'دنیا میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا کوئی تصور نہیں‘

اسمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے ڈاکٹر قاضی واثق نے دعوٰی کیا کہ دنیا میں اس حکمت عملی کا کوئی تصور نہیں ہے اور کسی نے بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن صرف اسی وقت نافذ کیا جاسکتا ہے جب کیسز میں کمی آنے لگے۔

ایسوسی ایشن نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت علاقوں میں آبادی کے صحت کا ڈیٹا جمع کرنے اور مختلف لوگوں کی کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کی تجویز پیش کی۔

انہوں نے کورونا وائرس کیسز میں کمی ظاہر کرنے والے حکومتی اعداد و شمار کو چیلنج کیا اور کہا کہ اس کی وجہ کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ میں کمی ہونا ہے۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ ’ہماری ٹیسٹنگ کی صلاحیت بہتر نہیں ہے، ہمارے پاس ہر صوبے میں یومیہ 25 ہزار ٹیسٹنگ کی صلاحیت ہونی چاہیے، لوگوں کے پاس نجی لیبز میں جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا ہے، حکومت لیبز اور ہسپتالوں کے مشورے سے ایک کورونا وائرس ٹیسٹ کی قیمت طے کرے اور ہسپتال چارجز برداشت کرے، حکومت کو کسی بھی ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دوائیں اور صحت سے متعلقہ سامان فروخت کرنے کی اجازت بھی نہیں دینی چاہیے‘۔

انہوں نے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے ورکرز کی حفاظت اور ان کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 3 ہزار سے زیادہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے ورکرز وائرس سے متاثر ہونے کے بعد آئی سولیشن میں ہیں جبکہ 60 ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس جاں بحق ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور یہ ایک سنگین معاملہ ہے جس پر فوری طور پر حکومت کی توجہ کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری دوسری تشویش صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کی فلاح و بہبود سے متعلق ہے جو کورونا وائرس سے مر رہے ہیں، ہم ان کے لیے شہدا پیکیج اور رسک الاؤنس کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں لیکن ابھی تک کچھ نہیں کیا جاسکا ہے‘۔

پریس کانفرنس میں فیصل ایدھی، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی عظمیٰ نورانی، عورت فاؤنڈیشن کی مہناز رحمٰن اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے رکن انیس ہارون بھی شامل تھے۔