سندھ کے سوا پاکستان میں وائرس کی روک تھام کی صورتحال بہتر ہوئی، اسد عمر

اپ ڈیٹ 03 جولائ 2020

ای میل

وفاقی وزیر اسد عمر نے این سی او سی میں میڈیا بریفنگ دی—تصویر: ڈان نیوز
وفاقی وزیر اسد عمر نے این سی او سی میں میڈیا بریفنگ دی—تصویر: ڈان نیوز

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و مراعات اسد عمر نے کہا کہ پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن اور حفاظتی تدابیر اپنانے سے مجموعی طور پر کورونا وائرس کی روک تھام کی صورتحال بہتر ہوئی ہے لیکن سندھ بالخصوص کراچی میں بہتری نظر نہیں آرہی۔

اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ سندھ کی صورتحال پر چیف سیکریٹری سندھ اور صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو کے ساتھ ایک اجلاس ہوا ہے جس میں صورتحال کی بہتری کے لیے مزید مربوط طریقے سے کام کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ وزیر صحت سندھ کی میڈیا کو آرڈنیٹر میران یوسف نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا تھا کہ کراچی میں کورونا وائرس کے باعث جاں بحق ہونے والے مریضوں کی تعداد 12 سو سے زائد ہوچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 1367 نئے کیسز، صحتیاب افراد کی تعداد میں تقریباً 9 ہزار کا اضافہ

خیال رہے کہ ملک میں کورونا کے باعث اموات کی تعداد 4 ہزار 551 ہے اس لحاظ سے مجموعی تعداد کی تقریباً ایک چوتھائی اموات کراچی میں ہوئیں۔

اسی طرح 3 جولائی کی صبح تک ملک میں کورونا وائرس کے 2 لاکھ 21 ہزار سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے 40 فیصد یعنی 89 ہزار 222 کیسز سندھ سے تعلق رکھتے ہیں۔

میڈیا بریفنگ میں اسد عمر نے کہا کہ مئی سے اسمارٹ لاک ڈاؤن کا آغاز کردیا گیا تھا جسے جون کے وسط میں مزید پھیلایا گیا اور صوبوں کے لیے 20 شہروں میں ہاٹ اسپاٹ کی نشاندہی کر کے ان علاقوں کو بند کیا گیا۔

مزید پڑھیں: قربانی سے متعلق حکومت سندھ کے ساتھ ایس او پیز پر اتفاق ہوگیا، مفتی منیب الرحمٰن

جس کے نتیجے میں جون کے وسط کے مقابلے میں آج کے اعداد و شمار بہتر ہیں جس میں نہ صرف وینٹیلیٹر پر موجود تشویشناک مریضوں کی تعداد میں کمی آئی بلکہ کورونا سے انتقال کرنے والوں کی تعداد بھی کم ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہر ہفتے ملک کے مختلف حصوں میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عملدرآمد اور دیگر معاملات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

اسد عمر نے کہا یہ بہتری اس لیے نظر آرہی ہے کہ عوام نے حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کو بہتر کیا ہے اس لیے یہ نہ سوچا جائے کہ بیماری خود بخود کم ہورہی ہے کیوں کہ ہم نے دنیا کے کئی ممالک میں دیکھا کہ وبا کی شدت میں کمی آئی لیکن پھر اس میں دوبارہ تیزی سے اضافہ ہوا جس کی ایک مثال امریکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کا شکار ہونے والے مریضوں کے تجربات جانیے اور محفوظ رہیے

لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ان اقدامات مثلاً ہاتھ نہ ملانا، ہاتھ دھونا، فاصلہ رکھنا، ماسک پہننا وغیرہ کو سنجیدگی کے ساتھ جاری رکھیں جس کی وجہ سے گزشتہ 3 ہفتوں میں بہتری دیکھنے کو ملی۔

انہوں نے یاد دہانی کروائی کے ہمیں جون کے وسط میں بتایا تھا کہ ماہرین نے حفاظتی تدابیر نہ اپنانے اور انتظامی کارروائیاں نہ ہونے کی صورت میں جولائی کے آخر تک ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 12 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے کہا یہ وہ صورت تھی کہ حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد یا انتظامی کارروائی نہ ہوتی تاہم ان دونوں چیزوں پر عمل ہوا جس کی وجہ سے آج کی صورتحال قدرے بہتر ہے اور ماہرین کے مطابق یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو جولائی کے آخر تک کورونا کیسز کی تعداد 4 لاکھ سے کم رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کی بنائی گئی 'کورونا ایپ' میں سیکیورٹی خامیوں کا انکشاف

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس سے آپ طبی ماہرین کے مشوروں پر عمل اور حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد ہونے اور نہ ہونے سے فرق کا خود مشاہدہ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس بات کو دہرایا کہ اس مرض سے بچاؤ کافی حد تک ہمارے ہاتھ میں ہے جس کا طریقہ طبی ماہرین کی ہدایات پر عمل اور حفاظتی اقدامات اختیار کرنا ہے۔