حکومت سندھ نے بین الاضلاع بس سروس بحال کرنے کی اجازت دے دی

اپ ڈیٹ 03 جولائ 2020

ای میل

سندھ حکومت نے مارچ میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کردی تھی — فائل فوٹو / ڈان
سندھ حکومت نے مارچ میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کردی تھی — فائل فوٹو / ڈان

حکومت سندھ نے انٹرسٹی (ایک ضلع سے دوسرے ضلع کے درمیان) ٹرانسپورٹ بحال کرنے کی اجازت دے دی جبکہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر بدستور پابندی ہوگی۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ 'حکومت سندھ نے ایک ضلع سے دوسرے ضلع کے لیے عوام کی ٹرانسپورٹ کی ضروریات پوری کرنے لیے بس سروس اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پیز) کے تحت بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے'۔

مزید پڑھیں:سندھ حکومت نے کراچی میں ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دے دی

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سید اویس شاہ کا کہنا تھا کہ ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں چلنے والی تمام مسافر گاڑیوں کو ایس او پیز کہ تحت اجازت دی ہے۔

ایس اوپیز کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ بسوں میں مسافروں کو تین فٹ کا فاصلہ رکھنا لازمی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تمام مسافر کوچ، وین اور بسوں میں ماسک، سینیٹائزر کا استعمال بھی لازمی ہوگا۔

اویس شاہ نے کہا کہ تمام مسافر گاڑیاں سندھ حکومت کے مقرر کردہ بس اڈوں سے روانہ ہوں گی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی۔

سندھ حکومت سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ دوسرے صوبوں کے لیے ٹرانسپورٹ بدستور بند رہے گا۔

متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے اضلاع کے ٹرانسپورٹرز سے ملاقات کرکے ٹرمینل میں محکمے کی جانب سے جاری ایس اوپیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ کووڈ-19 کے پھیلاؤ سے بچا جاسکے۔

ایس او پیز پر عمل درآمد کی رپورٹ بھی مستقل بنیادوں پر جمع کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت سندھ کا پبلک ٹرانسپورٹ اور سفری سہولیات کی دیگر سروسز پر پابندی ہٹانے سے انکار

صوبائی ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جب حکومت بین الصوبائی روٹ بحال کرنے کا فیصلہ کرے گی تو یوسف گوٹھ کے ایم سی ٹرمینل کو کھول دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ حکومت سندھ نے 26 فروری کو کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد 23 مارچ کو باضابطہ طور پر لاک ڈاؤن کے نفاذ سے قبل ہی ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ سروس پر پابندی لگادی تھی۔

لاک ڈاؤن کے نفاذ سے رائیڈ-شیئرنگ سروسز کے آپریشنز بھی معطل ہوگئے تھے جس کے باعث لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے نجی یا ذاتی گاڑیوں پر انحصار کر رہے ہیں۔

صوبائی حکومت نے ایک سے دوسرے شہر لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے انٹرسٹی بس سروس پر بھی پابندی لگادی تھی۔

بعد ازاں 2 جون کو حکومت نے کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ اور سفری سہولیات کی دیگر سروسز بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سندھ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد حکومت نے کراچی میں چلنے والی ٹرانسپورٹ کو کھولنے کی اجازت دی تھی۔

وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا تھا کہ تمام ٹرانسپورٹرز کو متعلقہ ایس او پیز پر عمل کرنا پڑے گا اور ایس او پیز پر عمل نہ کیا گیا تو گاڑیاں بند کردی جائیں گی۔