شام میں امریکا نے فوجی اڈا اور ایئربیس بنانے کی تیاری شروع کردی

اپ ڈیٹ 04 جولائ 2020

ای میل

امریکی ایئربیس کے اطراف کنکریٹ کی دیوار تعمیر کی گئی ہے
—فائل فوٹو: اے ایف پی
امریکی ایئربیس کے اطراف کنکریٹ کی دیوار تعمیر کی گئی ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی

امریکا نے جنگ زدہ ملک شام میں فوجی اڈے اور ہوائی جہازوں کے لیے ایک رن وے تیار کرنا شروع کردیا۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے شامی مبصر گروپ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکی افواج نے حسکہ کے مشرق میں الیعربیہ کے علاقے تل کوجر میں اپنی عسکری افواج کے لیے بیس قائم کرنا شروع کردیا ہے جس میں فوجی اڈا اور جہازوں کے لیے ایک رن وے شامل ہے۔

مزید پڑھیں: ‘امریکا نے شام میں رہائشی علاقوں پر کیمیائی ہتھیار داغے‘

یہ امریکی ایئر بیس عراق کی سرحد کے قریب قائم کی جارہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئے امریکی ایئربیس کو بیرونی خطرے سے بچانے کے لیے اس کے اطراف میں کنکریٹ بلاکس کی دیوار کھڑی کی گئی ہے۔

چند روز قبل شامی مبصر گروپ ہی نے بتایا تھا کہ امریکی عسکری ساز و سامان کا فوجی قافلہ عراق کے صوبہ کردستان کی الولید کراسنگ کے راستے شمال مشرقی شام میں داخل ہوا تھا۔

امریکی عسکری قافلے میں 19 گاڑیاں شامل تھیں جن میں اس کی حفاظت کے لیے 13 لاجسٹک اور ملٹری سازو سامان والے 13 ٹرک اور 5 بکتر بند گاڑیاں شامل تھیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی اتحادی فوجیوں کا ایک قافلہ اسی راستے شامل میں داخل ہوا تھا جس میں تقریباً 50 ٹرک شامل تھے اور ان میں عسکری ساز و سامان تھا۔

اطلاعات کے مطابق مذکورہ فوجی قافلہ شمالی حسکہ کے تل بیدر میں موجود فوجی اڈے پر منتقل ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی کا شام میں زمینی اور فضائی حملے کرنے کا اعلان

بعد ازاں فوجی اڈوں پر سامان اتارنے کے بعد تمام 50 فوجی ٹرک عراق کے کردستان علاقے میں واپس آئے تھے۔

یاد رہے کہ شام میں 2011 میں حکومت کے خلاف مظاہروں سے شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک ایک اندازے کے مطابق 4 لاکھ سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے اور بہت سے لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔

شام کے حکام ملک میں پھیلی غربت کا ذمہ دار مغربی ممالک کی پابندیوں کو ٹھہراتے ہیں جس کے باعث کرنسی کی قیمت گر گئی اور شہری کھانے پینے اور دیگر بنیادی اشیا کے حصول کے لیے مشکلات کا شکار ہیں۔

12 ستمبر 2019 کو واشنگٹن نے جنگ زدہ ملک شام میں ’جنگی جرائم‘ کے مرتکب ہونے والے امریکی فضائی حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کردیا تھا۔

شام کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندہ جیم جیفری نے اقوام متحدہ کی رپورٹ مسترد کردی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ’امریکی اتحادی فورسز کے فضائی حملوں میں عسکری اہداف اور شہریوں کے درمیان فرق کے لیے ضروری احتیاط کو خاطر میں نہیں لایا گیا‘۔

مزید پڑھیں: ترکی نے شام میں کردوں پر حملہ کیوں کیا؟

واضح رہے کہ نیٹو کا رکن ترکی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کو اپنی بقا کی جنگ کہتا ہے۔

کرد جنگجو شام میں امریکی اتحادی تھے اور امریکا، عالمی اتحاد کی سربراہی کرتے ہوئے کرد اور عرب جنگجوؤں کی مدد کر رہا ہے۔

دوسری جانب روسی فوج، شام کے صدر بشارالاسد کی حمایت میں 2015 سے مداخلت کر رہا ہے۔

ایران اور روس نے مغربی حمایت یافتہ باغیوں اور مسلح اسلامی گروپوں کے خلاف جنگ میں بشار الاسد کی مدد کی ہے جبکہ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ دونوں ممالک شام میں موجود مخالفین کے سب سے بڑے حامی ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شام میں بڑے پیمانے پر حملے سے انسانی بحران جنم لے سکتا ہے، جس میں لاکھوں شہری متاثر ہوسکتے ہیں۔