طویل دورہ انگلینڈ میں قومی ٹیم میں جھگڑے ہو سکتے ہیں، انضمام الحق

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2020

ای میل

انضمام الحق نے دانش کنیریا کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر بھی افسوس کا اظہار کیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
انضمام الحق نے دانش کنیریا کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر بھی افسوس کا اظہار کیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

قومی ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر اور مایہ ناز بلے باز انضمام الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کو عالمی معیار کی ٹیم بنانے کے لیے پاکستان کرکٹ کو بورڈ اور ٹیم میں بورڈ کی سطح پر مستقل مزاجی کی ضرورت ہے۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'ری پلے' میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی معیار کی ٹیم بنانے کے لیے ٹیم اور بورڈ کی سطح پر مستقل مزاجی کی ضرورت ہے، ایک کھلاڑی کو بنانے کے لیے دو تین سال درکار ہوتے ہیں لیکن جب وہ اچھے اور برے تجربات سے سیکھتے ہوئے بہترین کارکردگی دکھانے کی پوزیشن میں آتے ہیں تو کپتان تبدیل کردیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: گاڑی کی ٹکر سے ایک شخص کی ہلاکت پر سری لنکن کرکٹر مینڈس گرفتار

ان کا کہنا تھا کہ یہی سرفراز اور مکی آرتھر کے ساتھ ہوا ہے خصوصاً سرفراز احمد کو ٹی20 ٹیم کی قیادت سے ہٹانے کا فیصلہ مشکل تھا خصوصاً اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ دو سال تک ایک فارمیٹ میں ان کی قیادت میں ٹیم عالمی نمبر ایک رہی۔

انضمام نے کہا کہ میرے خیال میں مکی آرتھر گزشتہ چھ ماہ سے پاکستانی ٹیم کے ساتھ اچھی کارکردگی دکھا رہے تھے لیکن ہم نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد انہیں تبدیل کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم کو طویل المدتی منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے، ہر دو سے تین سال بعد ہم ٹیم میں تبدیلی کر دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم جدوجہد کررہے ہیں، میرے خیال میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان ٹیم مینجمنٹ کو طویل وقت دینا چاہیے تاکہ ہمیں مطلوبہ نتائج مل سکیں۔

انضمام نے کہا کہ انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم کا بڑا چیلنج خود کو ذہنی طور پر ایڈجسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے باعث عائد نئی پابندیوں اور ماحول سے خود کو ایڈجسٹ کرنا ہے اور ہمیں جھگڑے اور مسائل کی اطلاعات موصول ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان، حیدر علی اور کاشف بھٹی کا دوسرا کورونا ٹیسٹ بھی منفی آگیا

انضمام نے کہا کہ میں اپنے ذاتی تجربے سے بتا سکتا ہوں کہ پاکستان یا کوئی اور ٹیم طویل دوروں پر ساتھ رہتی ہے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں، اب جبکہ ٹیم ایک ہی جگہ رہنے پر مجبور ہے اور انہیں باہر جانے کی اجازت نہیں ہے تو مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں، مجھے ڈر ہے کہ جھگڑے ہو سکتے ہیں اور یہ سخت ذہنی چیلنج ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ ایک مضبوط ٹیم ہے، ہم نے گزشتہ دونوں اپنی سیریز برابر کی ہیں اور انگلینڈ میں ہمارا مجموعی ریکارڈ بہت اچھا بھی ہے لیکن یہ ایک مختلف چیلنج ہے اور مشکل بھی ہے۔

سابق عظیم بلے باز نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ ٹیم میں بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی میں عظیم کھلاڑی بننے کی صلاحیت موجود ہے، بابر پہلے ہی بہترین کھیل پیش کر رہے ہیں جبکہ شاہین شاہ آفریدی کا ورلڈ کپ بھی بہترین رہا اور وہ دن بدن بہتر رہے، اگر ہم انہیں مزید اعتماد دیں تو یہ دونوں پاکستان کی ایک طویل عرصے تک خدمت کر سکتے ہیں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ چیمپیئنز ٹرافی کی جیت کے حوالے سے پراعتماد نہیں تھے لیکن تمام تر سہرا سرفراز احمد اور مکی آرتھر کے سر ہے۔

مزید پڑھیں: 2011 ورلڈ کپ فائنل: سری لنکا نے میچ فکسنگ کی تحقیقات یکدم بند کردیں

ان کا کہنا تھا کہ سچ کہوں تو بھارت کے خلاف پہلے میچ میں شکست کے بعد میں توقع نہیں کر رہا تھا کہ پاکستان چیمپیئنز ٹرافی جیتنے میں کامیاب رہے گا لیکن نوجوان ٹیم نے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے کایا پلٹ دی اور تمام تر کریڈٹ سرفراز، مکی آرتھر اور فخر زمان، شاداب خان، حسن علی، فہیم اشرف اور رومان رئیس جیسے نوجوانوں کو جاتا ہے جن کی بدولت پاکستان ٹائٹل جیتنے میں کامیاب رہا اور پاکستان کرکٹ کو امید ملی، میرا خیال ہے کہ یہ تمام نوجوان کھلاڑی اگر محنت کر یں تو یہ مزید بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں اور 90کی دہائی جیسے اسٹارز بن سکتے ہیں۔

اس موقع پر انضمام نے لیگ اسپنر دانش کینیریا کے ساتھ روا رکھے گئے رویے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دانش سے بہت اچھا رویہ رکھا جاتا تھا اور وہ دیگر ٹیم کے کھلاڑیوں کی طرح برابر تھے، مجھے یہ تمام میڈیا رپورٹس اور دانش کے بیانات دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ ان کے ساتھ صحیح رویہ روا نہیں رکھا جاتا تھا۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان نے کہا کہ دانش نے اپنے کیریئر کی 80 فیصد کرکٹ میری قیادت میں کھیلی اور میرے ان سے بہت اچھے تعلقات تھے، وہ میرے اہم ترین باؤلرز میں سے ایک تھے لہٰذا میں ان سے رابطے میں رہتا تھا لیکن میرے خیال میں وہ بہت مطمئن تھے اور ان سے دیگر کھلاڑیوں کی طرح برابری کا رویہ روا رکھا جاتا تھا، مجھے یہ پڑھ کر دھچکا لگا کہ ان سے اچھا رویہ نہیں رکھا جاتا تھا۔

انضمام نے کہا کہ دانش کنیریا میں 500 وکٹیں لینے کی صلاحیت موجود تھی لیکن فکسنگ اسکینڈل نے سب کچھ ختم کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: دورہ انگلینڈ میں سرفراز پر رضوان کو ترجیح دیں گے، بابر

ان کا کہنا تھا کہ 'مجھے دانش کے فکسنگ اسکینڈل کے بارے میں سن کر بہت دھچکا لگا تھا اور بعد میں ان پر انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پابندی لگا دی، ان میں بے پناہ صلاحیت تھی اور 500 سے زائد ٹیسٹ وکٹیں لے سکتے تھے لیکن فکسنگ اسکینڈل نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا'۔

انضمام نے یونس خان پر سابق بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گرانٹ فلاور نے جو کچھ بھی کہا مجھے اس پر یقین نہیں، میں نے ایک عرصے تک یونس خان کے ساتھ کھیلا ہے اور میں انہیں بہت اچھے سے جانتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں سنا کہ یونس نے کسی کو چھری دکھائی ہو اور دوسری اور سب سے اہم بات یہ کہ گرانٹ فلاور اب اور اتنے عرصے بعد اس بارے میں کیوں بات کر رہے ہیں، میرے خیال میں بعض اوقات چند افراد خبروں میں رہنے کے لیے اس طرح کے بیانات دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سے دو سال بعد اس طرح کے دعوے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، میں جب چیف سلیکٹر تھا تو میں نے اس طرح کی کوئی بات نہیں سنی لہٰذا اتنے عرصے بعد ان دعوؤں کی کوئی حیثیت نہیں۔