کورونا وائرس کی ابتدا ممکنہ طور پر چین سے نہیں ہوئی، برطانوی ماہر کا دعویٰ

05 جولائ 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کورونا وائرس چین سے پھیلنا نہیں شروع ہوا بلکہ دنیا بھر میں چھپا ہوسکتا ہے اور اس وقت نمودار ہوتا ہے جب ماحولیاتی صورتحال اس کی نشوونما کے لیے درست ہو۔

یہ دعویٰ برطانیہ کی معتبر آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک ماہر نے کیا ہے۔

ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق آکسفورڈ کے سینٹر فار ایویڈنس بیسڈ میڈیسین (سی ای بی ایم) کے سنیئر ایسوسی ایٹ ٹیوٹر ڈاکٹر ٹام جیفرسن نے زور دیا کہ ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ یہ وائرس ایشیا میں ابھرنے سے پہلے بھی دیگر مقامات میں موجود تھا۔

گزشتہ ہفتے اسپین کے طبی ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ انہوں نے اس وائرس کے آثار مارچ 2019 میں اکٹھے کیے گئے نکاسی آب کے نمونوں میں دریافت کیے ہیں، یعنی دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان میں اس کے پھیلنے سے 9 ماہ قبل۔

جون میں اٹلی کے سائنسدانوں نے بھی میلان اور تورین کے نکاسی آب کے نمونوں میں دریافت کیا تھا کہ کورونا وائرس دسمبر کے وسط میں وہاں موجود تھا، جبکہ وہاں پہلا کیس فروری میں سامنے آیا تھا، جبکہ ماہرین نے برازیل میں اس وائرس کے آثار نومبر میں دریافت کیے تھے۔

ڈاکٹر ٹام جیفرسن کا ماننا ہے کہ متعدد وائرسز ایسے ہوتے ہیں جو اس وقت تک چھپے رہتے ہیں جب تک حالات ان کے لیے موزوں نہ ہوں، اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ جس طرح آتے ہیں، اس طرح اچانک غائب بھی ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا 'سارس 1 کہا گیا؟ وہ بس اچانک غائب ہوگیا۔ تو ہم ان چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں اور ہمیں وائرس کے ماحول کے بارے میں تحقیق شروع کرنے کی ضرورت ہے اور سمجھنا چاہیے کہ وہ کیسے بنتے اور مختلف اقسام میں بدلتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا 'میرے خیال میں یہ نیا کورونا وائرس پہلے سے یہاں موجود تھا، یہاں سے مراد ہر جگہ ہے، موزوں ماحولیاتی صورتحال میں وہ متحرک ہوگیا'۔

انہوں نے مزید کہا ' ایک صدی قبل یعنی 1918 کے اسپینش فلو میں بھی حیران کن چیزیں ہوئی تھیں، جیسے مغربی سمووا کی 30 فیصد آبادی اس وبا کے نتیجے میں ہلاک ہوگئی، حالانکہ ان کا باہری دنیا سے کوئی رابطہ بھی نہیں تھا'۔

ان کے بقول 'اس کی وضاحت یہی ہوسکتی ہے کہ یہ وائرس یہاں وہاں سے نہیں آیا تھا بلکہ وہ ہمیشہ سے یہاں موجود تھا اور کسی طرح متحرک ہوگیا، شاید گنجان آبادی یا ماحولیاتی صورتحال، اور اس کو ہی ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے'۔

ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ وائرس نکاسی آب کے نظام یا شیئر ٹوائلٹس سے بھی پھیل سکتا ہے اور صرف کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے ذرات ہی اس کی منتقلی کا واحد ذریعہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا ' ہم اس حوالے سے باریک بینی سے تحقیق کررہے ہیں، ماحولیاتی صورتحال کی جانچ پڑتال، ان وائرسز کے حوالے سے ابھی بہت کچھ جاننے کی ضرورت ہے'۔

اپریل میں برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں کہا گیا تھا کہ نوول کورونا وائرس کی وبا ممکنہ طور پر گزشتہ سال ستمبر کی وسط میں پھیلنا شروع ہوئی تھی اور چین کا شہر ووہان سے اس کا آغاز نہیں ہوا۔

کیمبرج یونیورسٹی کی اس تحقیق کے دوران کووڈ 19 کی وبا کی بنیاد ڈھونڈنے پر کام ہورہا ہے اور تحقیقی ٹیم کو توقع ہے کہ وہ اس پہلے فرد کو شناخت کرنے میں کامیاب ہوجائے گی جو اس وائرس کا پہلا شکار بنا، جس کے بعد یہ آگے پھیلنا شروع ہوا۔

وائرس کے پھیلنے کے نیٹ ورک کا تجزیہ کرنے کے دوران وہ اب تک اس کے لیے پھیلائو کا چارٹ بشمول جینیاتی تبدیلیاں جاننے میں کامیاب ہوچکے ہیں یعنی کیسے یہ وائرس چین سے آسٹریلیا، یورپ اور باقی دنیا تک پھیلا۔

اس تحقیق کے دوران اس تحقیق میں کورونا وائرس کے 1 ہزار سے زائد مکمل جینومز کو دیکھا گیا جن کا سیکوئنس انسانی مریضوں سے تیار کیا گیا تھا۔

بعد ازاں جینیاتی تبدیلیوں کی بنیاد پر وائرس کو ٹائپ اے، بی اور سی میں تقسیم کیا گیا اور ٹائپ اے ٹائپ اے وائرس ممکنہ طور پر چمگادڑوں سے براستہ پینگولین انسانوں میں چھلانگ لگا کر پہنچا تھا۔

ٹائپ اے کو چینی اور امریکی شہریوں میں دریافت کیا گیا جس کا تبدیلیوں والا ورژن آسٹریلیاں اور امریکا تک پہنچا۔

تحقیق کے مطابق ووہان میں زیادہ تر کیسز میں ٹائپ اے وائرس نظر نہیں آیا بلکہ ٹائپ بی وائرس متحرک تھا جس سے عندیہ ملتا ہے کہ وہاں کسی ایونٹ سے یہ بدلنا شروع ہوا۔

ٹائپ سی ورژن ٹائپ بی کے بطن سے نکلا جو یورپ کے ابتدائی کیسز میں نظر آیا جبکہ جنوبی کوریا، سنگاپور اور ہانگ کانگ میں بھی اس کے مریض تھے مگر چین میں اس کے آثار نہیں ملے۔

محققین کے مطابق جمع شدہ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا 13 ستمبر سے 7 دسمبر کے دوران پھیلنا شروع ہوئی اور اس کی بنیاد وائرس میں تبدیلیوں کی شرح کی رفتار ہے۔

تاہم سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وقت کا تخمینہ غلط بھی ہوسکتا ہے مگر فی الحال یہی تخمینہ درست لگتا ہے، اس حوالے سے مزید مریضوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا جائے گا۔

تحقیقی ٹیم کے قائد پیٹر فورسٹر کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر اس وبا کے آغاز ووہان سے نہیں ہوا کیونکہ وہاں تمام مریضوں میں ٹائپ بی وائرس دریافت ہوا، البتہ ووہان سے 500 میل دور واقع صوبے گوانگ ڈونگ میں 11 میں سے 7 جینومز میں ٹائپ اے کو دیکھا گیا، یہ تعداد بہت کم ہے کیونکہ وبا کے ابتدائی مرحلے کے جینومز کی تعداد بہت کم تھی۔

وائرس کی اصل بنیاد کی شناخت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ آئندہ ایسا ہونے سے بچا جاسکے اور اس سے یہ معلوم ہوگا کہ وہ کونسے عوامل ہیں جس کی وجہ سے کووڈ 19 پھیلا۔

سائنسدانوں نے پہلی بار اس وائرس کی بنیاد جاننے کے لیے قدم زمانے کے انسانوں کی ہجرت کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے وائرس کے پھیلائو کو ٹریک کیا۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے۔

خیال رہے کہ مارچ میں ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس وائرس کا پہلا کیس 17 نومبر کو سامنے آیا تھا۔

یہ بات ساﺅتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے چینی حکومت کے کورونا وائرسز کے کیسز کے تجزیے کے حوالے سے بتائی۔

چینی حکومتی ڈیٹا کے مطابق 17 نومبر کو یہ ممکنہ پہلا مریض سامنے آیا تھا۔

اس کے بعد روزانہ ایک سے 5 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور 15 دسمبر تک کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد 27 تک پہنچ گئی تھی جبکہ 17 دسمبر کو پہلی بار 10 کیسز رپورٹ ہوئے اور 20 دسبمر کو مصدقہ کیسز کی تعداد 60 تک پہنچ گئی تھی۔

27 دسمبر کو ہوبے پرویژنل ہاسپٹل آف انٹیگرٹیڈ کے ڈاکٹر زینگ جی شیان نے چینی طبی حکام کو اس نئے کورونا وائرس سے ہونے والے مرض کے بارے میں بتایا تھا، جب تک مریضوں کی تعداد 180 سے زائد ہوچکی تھی، مگر اس وقت بھی ڈاکٹروں کو اس کے حوالے سے زیادہ شعور نہیں تھا۔

2019 کے آخری دن یعنی 31 دسمبر کو مصدقہ کیسز کی تعداد 266 تک پہنچی اور یکم جنوری کو 381 تک چلی گئی۔

رپورٹ کے مطابق چینی حکومت کا یہ ریکارڈ عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا، مگر اس سے ابتدائی دنوں میں مرض کے پھیلاﺅ کی رفتار کے بارے میں اہم سراغ ملتے ہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک چین میں کتنے کیسز رپورٹ ہوچکے تھے۔

سائنسدان اس پہلے مرض کی تلاش اس لیے بھی کرنا چاہتے ہیں تاکہ نئے کورونا وائرس کا باعث بننے والے ذریعے کا سراغ لگایا جاسکے، جس کے بارے میں ابھی سوچا جاتا ہے کہ یہ کسی جانور جیسے چمگادڑ سے ایک اور جانور میں گیا اور پھر انسانوں میں منتقل ہوگیا۔

حکومتی ڈیٹا کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے کیسز نومبر سے بھی پہلے رپورٹ ہوئے ہوں جن کی تلاش کا کام ہورہا ہے۔