پاکستان اور چین کے درمیان ڈیڑھ ارب ڈالر کے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے معاہدے پر دستخط

اپ ڈیٹ 07 جولائ 2020

ای میل

آزاد پتن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ  سی پیک کا حصہ ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
آزاد پتن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سی پیک کا حصہ ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان اور چین نے ڈیڑھ ارب ڈالر کے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے معاہدے پر دستخط کردیے جس سے 700.7 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ملک کے لیے ایک ’گیم چینجر‘ ثابت ہوگی جو ملک میں غیرمعمولی خوشحالی اور ترقی لارہی ہے۔

وزیر اعظم آفس میں منعقدہ تقریب میں آزاد پتن ہائیڈرو پاور منصوبے پر چین کے گیژوبا گروپ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد وزیراعظم نے کہا کہ 'یہ (سی پیک) وہ منصوبہ ہے جو پاکستان کو خوشحالی کی نئی بلندیوں پر لے جائے گا'۔

عمران خان نے کہا کہ 'پاکستان گزشتہ 30 برس کے دوران ابھرتی ہوئی معاشی طاقت چین کی ترقی سے سیکھ سکتا ہے'۔

مزید پڑھیں: سی پیک کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا، وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سی پیک کے تحت چل رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پہلے سی پیک صرف روڈ کنیکٹیوٹی تک محدود تھا لیکن اب اس کے دیگر پہلوؤں کو سامنے لایا جارہا ہے۔   واضح رہے کہ یہ پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ ہے جس پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی لاگت آئے گی اور اس سے 700.7 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔

آزاد پتن کے لیے ایندھن درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی چنانچہ ملک کو سستی اور آلودگی سے پاک بجلی پیدا کرنے میں مدد دے گا اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔

یہ منصوبہ دریائے جہلم پر واقع ہے جو 2026 میں مکمل ہونے کی امید ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وقت، سی پیک کے طویل المدتی فوائد کو ثابت کرے گا، جو پاکستان اور چین کے مابین اقتصادی تعاون پر مبنی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ابھرتی ہوئی عالمی معاشی طاقت چین سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔

وزیراعظم نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں باہمی تعاون سے مستفید ہوتے رہیں گے۔

آزاد پتن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر دستخط کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ یہ آلودگی سے پاک توانائی پر مبنی پاور پروجیکٹ کو مکمل کرنے کی سرمایہ کاری کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے سی پیک پر تنقید مسترد کرتے ہوئے اسے 'احمقانہ' قرار دے دیا

انہوں نے کہا کہ ماضی کے برعکس یہ منصوبہ لوگوں پر بوجھ نہیں بنے گا، ماضی کی حکومتوں نے مہنگے منصوبوں کا آغاز کیا جنہیں درآمد کردہ ایندھن سے فعال بنایا گیا جس سے بجلی مہنگی ہوئی اور ملک کی کرنسی پر دباؤ پڑا۔

وزیراعظم نے کہا کہ درآمدی ایندھن پر مبنی بجلی کے منصوبوں پر بہت لاگت آئی جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یہ صنعت کم لاگت کی توانائی استعمال کرنے والے پڑوسی ممالک کا مقابلہ نہیں کرسکی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے گھریلو صارفین پر بھی بوجھ پڑا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہائیڈرو پاور کی پیداوار کو صاف توانائی کا ایک بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے جو حکومت کی 'کلین اینڈ گرین پاکستان' پالیسی کے مطابق ہے اور اسے ماحول دوست قرار دیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے گلوبل وارمنگ کے اثرات بھی کم ہوں گے۔

عمران خان نے بجلی کے منصوبے سے متعلق معاہدے پر وزارت توانائی، سی پیک اتھارٹی، آزاد جموں و کشمیر اور پنجاب کی حکومتوں کو سراہا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ منصوبے کو مقامی وسائل بروئے کار لاکر مکمل کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے سی پیک سے متعلق دعوؤں کو مسترد کردیا

انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کے باوجود سی پیک کے منصوبے پر پوری قوت کے ساتھ کام جاری ہے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

 عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ پچھلے 10روز میں کم لاگت پر 1800 میگاواٹ بجلی کرنے کے لیے 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان منصوبوں سے تقریباً 8 ہزار مقامی افراد کو روزگار بھی ملے گا۔

معاہدے پر دستخط کے موقع پر پاکستان میں چینی سفیر یاؤ جِنگ، چینی کمپنی کے حکام، وزرا اور اعلی عہدیدار بھی شریک تھے۔  


یہ خبر 7 جولائی، 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی