وفاقی وزیر کا سپریم کورٹ سے عذیر بلوچ و دیگر جے آئی ٹیز پر ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 07 جولائ 2020

ای میل

وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیر بحری امور علی زیدی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا— تصویر بشکریہ ٹوئٹر
وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیر بحری امور علی زیدی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا— تصویر بشکریہ ٹوئٹر

وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے عذیر بلوچ، بلدیہ فیکٹری اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز پر ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔

وزیر اطلاعات شبلی فراز نے وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس پاکستان سے لوگوں کو نجات دلائیں گے جہاں لوگ سیاست، ملک کو آگے لے جانے کے بجائے مفادات کے فروغ کے لیے کرتے ہیں اور اداروں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ذاتی گینگز کو فروغ دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ، عذیر بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز میں سامنے آنے والے انکشافات

انہوں نے کہا کہ اس کی حالیہ مثال ہے وہ مسئلہ ہے جسے رکن قومی اسمبلی علی حیدر زیدی نے اٹھایا کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ جو بھی چیزیں ہوتی ہیں اس کے لیے جو بھی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں ان کا مقصد صرف رسمی کارروائی نہیں بلکہ عوام کے سامنے حقائق لانا ہوتا ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ وہ صوبہ جو شاہ عبدالطیف بھٹائی اور لعل شہباز قلندر کی سرزمین ہے، اس میں جو جماعتیں اقتدار میں رہیں کس طرح سے انہوں نے سندھ کے عوام کے مفادات کو نقصان پہنچایا، اپنی ذاتی جائیدادوں کو بڑھایا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے قانون کی بالادستی کے بجائے اپنی ایک ذاتی ریاست بنالی۔

پاکستان میں صحیح اور غلط کی سیاست ہو رہی ہے، علی زیدی

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا کہ تہذیب یافتہ ممالک میں سیاسی مباحثے دائیں اور بائیں بازو کے درمیان ہوتے ہے لیکن پاکستان میں صحیح اور غلط کی سیاست ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم طویل جدوجہد کے بعد اقتدار میں آئے اور اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ہمیں وزیر بنانے کے قابل سمجھا لیکن اس ملک میں وزیر بننے کے بعد لوگ کیا کرتے رہے ہیں، ہم سب جانتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عذیر بلوچ کا جاسوسی، 198 افراد کے قتل کا اعتراف، جے آئی ٹی رپورٹ جاری

ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک بدلنے اور ملک کو صحیح راہ پر لگانے کے لیے آئے ہیں اور اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے سزا اور جزا کے نظام پر عمل کیا جائے۔

158 افراد کے قتل کا عذیر بلوچ خود اعتراف کر چکا ہے، وفاقی وزیر

انہوں نے کہا کہ یہ موٹر سائیکل اور گاڑی کی چوری کی بات نہیں ہے بلکہ 158 افراد کے قتل کا عذیر بلوچ خود اعتراف کر چکا ہے اور جے آئی ٹی ریلیز کی گئی تو ان کے ترجمان نبیل گبول کہنے لگے کہ یہ جے آئی ٹی پوری نہیں ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے پیپلز پارٹی رہنماؤں کی عذیر بلوچ سے ملاقات سمیت مختلف ویڈیوز بھی چلائیں اور 4 مارچ 2013 کا حکومت سندھ کا اعلامیہ بھی دکھایا جس میں حکومت سندھ نے عذیر بلوچ کی سر کی قیمت مقرر کی تھی۔

علی حیدر زیدی نے عذیر بلوچ کا بیان حلفی سناتے ہوئے کہا کہ صفحہ نمبر 7 میں عذیر بلوچ نے کہا تھا کہ سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور فریال تالپور سے ملاقات کی اور اپنے خلاف ہیڈمنی ختم کروانے کا کہا جسے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے حکم پر ہٹادیا گیا تھا۔

عذیر بلوچ نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں اور ان کے گھر والوں کو مار دیا جائے گا، علی زیدی

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے آخری صفحے پر عذیر بلوچ کے حوالے سے بتایا گیا کہ 'مجھے خدشہ ہے کہ ان انکشافات کے بعد مجھے اور میرے گھر والوں کو جان سے ماردیا جائے گا جس کے لیے میں درخواست کرتا ہوں کہ مکمل حفاظت کی جائے کیونکہ مجھے آصف زرداری اور دیگر سیاسی لوگ بشمول ان کے جن کا ذکر میں نے بیان حلفی میں کیا ان کی جانب سے انتقامی کارروائی کا خطرہ ہے'۔

مزید پڑھیں: نثار مورائی سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے، جے آئی ٹی

وزیر بحری امور نے کہا کہ گزشتہ روز حکومت سندھ نے اپنی ویب سائٹ پر بڑی مشکل سے بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ جاری کی، اس میں جو انکشافات اور جن جن کے نام ہیں وہ آپ کو معلوم ہے۔

بلدیہ فیکٹری حادثہ پولیس کی نااہلی کی واضح مثال، وفاقی وزیر

انہوں نے کہا کہ آخری صفحے پر سندھ پولیس، ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے، ایم آئی، ایس ایس پی شرقی، ڈی جی رینجرز، سب کے دستخط ہیں جس میں لکھا ہے کہ بلدیہ فیکٹری کا خونی اقدام پولیس کی نااہلی کی واضح مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے مذکورہ تفتیش پر تنقید کی اور نتیجہ اخذ کیا کہ خوف اور احسان کے غالب رہنے والے عناصر نے پولیس کی کارکردگی کو متاثر کیا اور یہ جے آئی ٹی غلط بنی تھی اور دوبارہ ایف آئی آر کاٹ کر تفتیش کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی میں یہ لکھا گیا تھا، اس طرح اداروں کو تباہ کیا گیا ہے۔

ایس پی نے رپورٹ نکالی تو ان کا ٹرانسفر کردیا گیا، علی زیدی

وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ پولیس کے ایس پی ڈاکٹر رضوان احمد نے جب یہ رپورٹ نکالی تو ان کا یہاں سے شکارپور ٹراسنفر کردیا گیا، وہاں انہوں نے دوسری رپورٹ نکال دی کہ وہاں ڈکیتیوں میں کون کون سیاسی لوگ ڈاکوؤں کی سرپرستی کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: حماد صدیقی نے 20 کروڑ روپے بھتہ نہ ملنے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگوائی، جے آئی ٹی رپورٹ

علی زیدی نے کہا کہ اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ چنیسر گوٹھ، محمود آباد میں مجرموں، منشیات فروشوں کی تفصیلی رپورٹ یہ ہے اور اب یہ میرا حلقہ ہے، پی ایس-104 اور یہ سندھ پولیس کی رپورٹ ہے جس میں ایک ایماندار پولیس والا آ گیا۔

منشیات فروشوں کا سہولت کار سعید غنی کا بھائی ہے، وفاقی وزیر

ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں ایک نام فرحان غنی ہے جو منشیات فروشوں کے سہولت کار ہیں اور وہ سعید غنی کے بھائی ہیں اور اس رپورٹ کے بعد انہیں فارغ کردیا گیا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ میں نے 2017 میں چیف سیکریٹری سندھ کو خط لکھا کہ یہ جے آئی ٹی رپورٹس رائٹ آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت مجھے دیجیئے لیکن موصوف نے خط کا جواب دینے سے بھی انکار کردیا اور خاموشی چھا گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد میں سندھ ہائی کورٹ چلا گیا کیونکہ ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت پبلک ہو چکی تھی، اکتوبر 2017 سے یہ کیس چلتا رہا اور ججز بدلتے رہے، بالآخر رواں سال 28 جنوری کو سندھ ہائی کورٹ نے رپورٹس پبلک کرنے کا حکم جاری کردیا۔

مزید پڑھیں: عذیر بلوچ، نثار مورائی، بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹی رپورٹس پبلک کرنے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے اعتراض اٹھایا کہ ہمارا اس میں کوئی نقصان نہیں ہوا اور دوسری بات یہ کہ اس سے نیشنل سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہو جائیں گے لیکن ہائی کورٹ نے اسے پڑھنے کے بعد بند لفافے میں واپس کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نیشنل سیکیورٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں جے آئی ٹی رپورٹ رکھنے لگا ہوں اور واٹس اپ گروپس پر وائرل کردوں گا، اس کے ہر صفحے پر دستخط ہے لیکن یہ وہ رپورٹ نہیں جو انہوں نے ریلیز کی ہے۔

جے آئی ٹی میں موجود 6 میں سے 4 افسران نے دستخط کیے، علی زیدی

ان کا کہنا تھا کہ عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں 6 لوگ تھے، ایک اسپیشل برانچ سے تھے جو سندھ حکومت کے زیر انتٖظام آتی ہے، دوسرے سی آئی ڈی سے تھے اور وہ بھی سندھ حکومت کے زیر انتظام ادارہ ہے، ایک آئی ایس آئی سے تھے جو وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے، ایک انٹیلی جنس بیورو سے تھے، وہ بھی وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے، ایک پاکستان رینجرز اور ایک ملٹری انٹیلی جنس سے تھے اور یہ دونوں بھی وفاقی حکومت کے زیر انتظام ادارے ہیں، اس جے آئی ٹی رپورٹ کے ہر صفحے پر ان چاروں کے دستخط ہیں اور سندھ حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والوں کے دستخط نہیں ہیں اور یہ چاروں اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

علی حیدر زیدی نے کہا کہ جو رپورٹ حکومت سندھ نے ریلیز کی ہے وہ بھی بہت تفصیلی 35 صفحات پر مشتمل ہے لیکن اصل رپورٹ جس پر ڈیڈ لاک ہو گیا تھا، وہ 43 صفحات پر مشتمل ہے لیکن اس پر کسی کے دستخط نہیں ہیں۔

جے آئی ٹی میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ناموں کا انکشاف، وفاقی وزیر

انہوں نے کہا کہ جس رپورٹ پر چار آدمیوں کے دستخط ہیں، اس میں دوستوں کے نام لکھے ہوئے ہیں، پہلے چھ نام میں سے ایک نام ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا بھی ہے، اس کے علاوہ فریال تالپور، عبدالقادر پٹیل، ڈاکٹر نثار مورائی، سینیٹر یوسف بلوچ اور شرجیل میمن کا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'سیکیورٹی خدشات' پر عزیر بلوچ سینٹرل جیل سے رینجرز کے میٹھا رام ہاسٹل منتقل

ان کا کہنا تھا کہ جو رپورٹ حکومت سندھ نے جاری کی ہے اس میں شروع کے چھ نام نکالے ہوئے ہیں اور یہ وہی بات ہے جو نبیل گبول صاحب کل رات کہہ رہے تھے کہ یہ رپورٹ نامکمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس رپورٹ پر آئی ایس آئی، ایم آئی، رینجرز اور آئی بی کے دستخط ہیں، اس کے مطابق ملزم نے انکشاف کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے قادر پٹیل نے ملزم کو رزاق کمانڈو کو قتل کرنے کی ذمے داری سونپی کیونکہ اس نے قادر پٹیل کے کوآرڈینیٹر ایدھی امین کا قتل کیا تھا۔

علی زیدی نے کہا کہ ملزم نے اصل رپورٹ میں مزید انکشاف کیا کہ 2011 میں ذوالفقار مرزا کے استعفے کے بعد معاملات بگڑ گئے تو اویس مظفر ٹپی اور شرجیل میمن سارے کام مجھ سے کرواتے رہے۔

چیف جسٹس ازخود نوٹس لیں، علی زیدی

وزیر بحری امور نے کہا کہ میں وفاقی وزیر کی حیثیت سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں کہ 184(3) کے تحت اس معاملے پر آج آپ از خود نوٹس لیں اور آپ مجھ سے بھی جے آئی ٹی لیں اور ان سے بھی مانگیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے جے آئی ٹی پر دستخط کیے ہیں، انہیں چیف جسٹس عدالت میں طلب کر کے پوچھیں کہ کیا یہ ان کے دستخط ہیں اور اس جے آئی ٹی میں یہ چیزیں کیوں تھیں۔

مزید پڑھیں: بجلی بل کی ادائیگی کے لیے ارشد وارثی گردے فروخت کرنے پر آمادہ

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پٹیشن نہیں کرے گا تو اپنے طور پر بھی جا کر 184(3) کے تحت ایک پٹیشن کر دوں گا کہ سپریم کورٹ اس پر از خود نوٹس لے کیونکہ جن لوگوں کے احکامات پر قتل ہوتے رہے، وہ ابھی بھی پارلیمنٹ میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔

علی زیدی نے کہا کہ یہ قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوتے ہیں، ٹیکس کے پیسے پر رہ رہے ہوتے ہیں، قبضوں، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، اور جوئے کے اڈوں میں ملوث ہیں اور یہ سب جے آئی ٹی میں لکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے جو بھی نتائج ہوں گے میں ان کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں، میں نے آج صبح وزیر اعظم اور اور کابینہ کو بتا دیا تھا اور انہوں نے مجھے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد ملک بھر میں آپریشن شروع کیا گیا اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا لیکن بہت بہت سارے سہولت کار تو اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں، صوبائی وزارتیں لے کر بیٹھے ہیں، شرجیل میمن کا نام ہے، وہ دوبارہ صوبائی وزیر بننے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی الزام نہیں لگایا کیونکہ جے آئی ٹی میری حکومت میں تو بنی نہیں، نہ ہم اس وقت وفاق میں تھے، نہ صوبے میں تھے، یہ جے آئی ٹی تو 2016 میں بنی تھی۔

یاد رہپے کہ گزشتہ روز حکومت سندھ نے عذیر بلوچ، بلدیہ ٹاؤن فیکٹری حادثہ اور نثار مورائی کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ جاری کی تھی۔

ان تینوں رپورٹس میں سنسنی خیز انکشافات کیے گئے تھے جہاں بلدیہ ٹاؤن جے آئی ٹی میں کہا گیا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اعلیٰ عہدیدار حماد صدیقی نے 20 کروڑ روپے بھتہ نہ ملنے پر بلدیہ میں قائم گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگوائی۔

لیاری گینگ وار اور لیاری امن کمیٹی کے سربراہ عذیر بلوچ کی جوائنٹ انویسٹی ٹیم کی رپورٹ میں ملزم نے سیاسی و لسانی بنیادوں پر 198 افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔

فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے سابق چیئرمین نثار مورائی کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے ملزم کو سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔