سانحہ بلدیہ، عذیر بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز میں سامنے آنے والے انکشافات

اپ ڈیٹ 08 جولائ 2020

ای میل

حکومت سندھ نے یہ جے آئی ٹیز جاری کی تھیں—تصاویر: اے ایف پی/ فیس بک/ ٹوئٹر
حکومت سندھ نے یہ جے آئی ٹیز جاری کی تھیں—تصاویر: اے ایف پی/ فیس بک/ ٹوئٹر

حکومت سندھ نے کراچی میں سال 2012 میں پیش آنے والے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کے آتشزدگی کے واقعے، لیاری گینگ وار اور لیاری امن کمیٹی کے سربراہ عذیر بلوچ اور فشرمین کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی سابق چیئرمین نثار مورائی کے حوالے سے الگ الگ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹس جاری کردی ہیں۔

ان رپورٹس میں سے سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی میں یہ سامنے آیا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اعلیٰ عہدیدار حماد صدیقی نے 20 کروڑ روپے بھتہ نہ ملنے پر بلدیہ میں قائم گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگوائی جبکہ عذیر بلوچ نے سیاسی و لسانی بنیادوں پر 198 افراد کے قتل کا اعتراف کیا تھا اور جے آئی ٹی میں نثار مورائی کو سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔

سانحہ بلدیہ جے آئی ٹی

جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ تحقیقات کے دوران ملزم رضوان قریشی نے انکشاف کیا کہ اگست 2012 میں پارٹی کے جانے مانے عہدیدار حماد صدیقی نے اپنے فرنٹ مین رحمٰن بھولا کے ذریعے علی انٹرپرائزز کے مالک سے 20 کروڑ روپے کا بھتہ مانگا۔

فیکٹری مالکان یہ معاملہ بلدیہ ٹاؤن کے سیکٹر انچارج اصغر بیگ کے علم میں لائے جو انہیں اپنے بھائی ماجد بیگ کے ہمراہ عزیز آباد 90 لے گئے اور کے ٹی سی انچارج حماد صدیقی اور فاروق سلیم سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ فیکٹری مالکان ان کے حامی ہیں جبکہ بھتے کی رقم کے مطالبے سے متعلق بھی بات ہوئی۔

رضوان قریشی نے بتایا کہ اس موقع پر ان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور حماد صدیقی اور فاروق سلیم نے پارٹی پالیسی کا حوالہ دے کر مطالبے سے پیچھے ہٹنے سے صاف انکار کردیا۔

چند روز بعد حماد صدیقی نے بلدیہ ٹاؤن کے سیکٹر انچارج اصغر بیگ کو معطل کردیا اور جوائنٹ سیکٹر انچارج رحمٰن بھولا کو سیکٹر انچارج بنا دیا جس کے بعد حماد صدیقی اور فاروق سلیم نے رحمٰن کو حکم دیا کہ وہ فیکٹری مالکان سے بھتے کی رقم وصول کریں۔

مزید پڑھیں: عذیر بلوچ کا جاسوسی، 198 افراد کے قتل کا اعتراف، جے آئی ٹی رپورٹ جاری

ان کا کہنا تھا کہ رحمٰن بھولا نے فیکٹری مالکان سے 20 کروڑ روپے بھتے کا مطالبہ کیا اور ان کے انکار پر رحمٰن اور اس کے نامعلوم ساتھیوں نے 11 ستمبر 2012 کو فیکٹری میں کیمیکل پھینکا جس سے آگ لگی۔

اس جے آئی ٹی رپورٹ میں کمیٹی نے دستیاب شواہد اور ماہرین کے رائے حاصل کرنے کے بعد کچھ سفارشات بھی دیں۔

1۔ فیکٹری میں آتشزدگی کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ منصوبہ بندی کے تحت آگ لگائی گی جو تخریب کاری تھی اور جو فیکٹری مالکان کی جانب سے ایم کیو ایم (اے) کے رحمٰن بھولا اور حماد صدیقی کو 20 کروڑ روپے بھتہ اور منافع میں حصہ دار نہ بنانے پر لگائی گئی۔

2۔ واقعے سے 'غیر ذمہ دارانہ طریقے' سے نمٹا گیا اور کسی 'فائدے' کے لیے اسے اس طرح ہینڈل کیا گیا جس سے 'متاثرین' کی بجائیے 'مجرمان' کو فائدہ پہنچا، واقعے کے مقدمے کا اندراج اور تحقیقات ناصرف بدنیتی پر مبنی تھی بلکہ اندرونی و بیرونی سطح پر اسے شدید دباؤ کا بھی سامنا تھا، ایف آئی آر میں واقعے کو پہلے ایک عام قتل کی طرح پیش کیا گیا پھر حادثے کی شکل دے دی گئی، جبکہ اس میں بھی اصل مجرمان کی بجائے فیکٹری مالکان اور اس کی انتظامیہ کو شامل کیا گیا۔

واقعے کی جس طرح تحقیقات کی گئی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس 'زیر اثر' تھی، اس لیے مقدمے اور پہلی تحقیقات میں کہیں بھتے کا ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ جے آئی ٹی کا ماننا ہے کہ یہی اس دردناک واقعے کی بنیادی وجہ تھی۔

3۔ تحقیقاٹی ٹیم کی طرف سے ریاست سے 2012 کی ایف آئی آر واپس لیتے ہوئے تعزیرات پاکستان اور انسداد دہشت گردی قانون کی متعلقہ شقوں کے تحت رحمٰن بھولا، حماد صدیقی، زبیر عرف چریا، زبیر کے چار نامعلوم ساتھیوں، عمر حسان قادری، ڈاکٹر عبدالستار، علی حسان قادری اور اقبال ادیب خانم کے خلاف نیا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

4۔ تحقیقاتی ٹیم نے محمد زبیر سے واقعے میں اس کے کردار کے متعلق تحقیقات کی کوشش کی کیونکہ تمام شواہد واقعے میں اس کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اس سلسلے میں جے آئی ٹی نے سعودی عرب میں موجود محمد زبیر کے والد محمد نذیر کو تحقیقات کا حصہ بننے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کردیا، تحقیقات میں مزید پیشرفت کا محمد زبیر سے تفتیش پر بہت انحصار ہے جو پہلے ہی ملک سے فرار ہے اور اس کے پاسپورٹ کی منسوخی لے لیے ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کو تین خطوط بھی لکھے گئے ہیں۔

عذیر بلوچ جے آئی ٹی

حکومت سندھ کی جاری کردہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم مختلف مجرمانہ واقعات میں ملوث ہونے کے باعث 2006 سے 2008 تک کراچی سینٹرل جیل میں قید رہا جبکہ ملزم جون 2013 میں کراچی سے براستہ ایران دبئی فرار ہو گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق وہ ایک نامعلوم راستے سے کراچی واپس آئے لیکن کراچی سے بلوچستان میں داخل ہوتے ہوئے 30 جنوری 2016 کو پاکستان رینجرز نے گرفتار کر لیا تھا۔

2001 میں لیاری ناظم کا الیکشن ہارنے والے سردار عذیر جان بلوچ کے والد فیض بلوچ، جو ٹرانسپورٹ کا کام کرتے تھے اور انہیں 2003 میں ارشد پپو کے والد نے قتل کر دیا تھا اور اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے وہ رحمٰن ڈکیت گروپ میں شامل ہوئے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2003 میں انہیں سجاول سے چوہدری اسلم نے گرفتار کیا تھا لیکن انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور بعد میں انہیں مفرور قرار دے دیا گیا۔

جے آئی ٹی کے مطابق 2008 میں پولیس مقابلے میں رحمٰن ڈکیٹ کی موت کے بعد عذیر بلوچ نے گینگ کو سنبھالا اور پیپلز امن کمیٹی کا آغاز کیا اور اسی جماعت کے زیر سایہ لیاری میں مجرمانہ سرگرمیاں اور ارشد پپو اور غفار ذکری گروپ کے خلاف گینگ وار کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے علاقے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ٹارگٹ کلرز کو بھی مارنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

یہ بھی پڑھیں: نثار مورائی سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے، جے آئی ٹی

2012 میں پولیس نے لیاری میں پیپلز امن کمیٹی کے خلاف ایک آپریشن شروع کیا لیکن اس میں پولیس کو نفری کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور پیپلز امن کمیٹی کی مسلح مزاحمت کے باعث وہ لیاری میں داخل بھی نہیں ہو سکی تھی اور چیل چوک تک محدود رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مارچ 2013 میں ارشد پپو کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرنے کے بعد عذیر بلوچ لیاری کے بے تاج بادشاہ بن گئے تھے تاہم اس کے بعد لیاری امن کمیٹی اندرونی اختلافات سے دوچار ہو گئی اور بالآخر ستمبر 2013 میں کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد وہ بیرون ملک فرار ہو گئے۔

ملزم نے انکشاف کیا کہ 2010 میں انہوں نے مختلف گینگسٹر گروپوں کو اپنے حریفوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جن کی کل تعداد 158 بنتی ہے۔

دوران تفتیش ملزم نے 198 افراد کو سیاسی و لسانی بنیادوں اور گینگ وار میں قتل کرنے کا اعتراف کیا اور 2006 میں اسے گرفتار بھی کیا گیا تھا جہاں ملزم کا 7 مقدمات میں چالان منظور کیا گیا اور وہ 10 ماہ تک جیل میں رہے، ملزم کو ضمانت پر رہا کردیا گیا لیکن پیشی پر عدم حاضری کے باعث عذیر بلوچ کو اشتہاری قرار دے دیا گیا۔

اس کے علاوہ ملزم نے پولیس اہلکاروں، سیاسی حریفوں، ارشد پپو سمیت گینگ وار میں اپنے مخالفین اور دیگر کے قتل کا بھی اعتراف کیا جبکہ 2012 کے پولیس آپریشن میں مسلح مزاحمت کے احکامات دینے کے الزامات بھی تسلیم کیے جبکہ پولیس اسٹیشنز پر بھی متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔

جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹ نے اپنی فائنڈنگز میں کہا کہ ملزم بڑی تعداد میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ سیاسی اور لسانی بنیادوں پر لوگوں کو قتل کرنے میں ملوث ہے جبکہ ملزم پر پولیس اور رینجرز اہلکاروں کے قتل کا بھی الزام ہے۔

ملزم 50 سے زائد کیسز میں مفرور ہے جن میں بالواسطہ اور بلاواسطہ ملوث ہے جبکہ اس کی پاکستان اور دبئی میں بلیک منی سے بنائی گئی بڑی تعداد میں جائیدادیں بھی موجود ہیں۔

نثار مورائی جے آئی ٹی

حکومت سندھ کی جانب سے اپریل 2016 میں تشکیل دی گئی 4 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے سابق چیئرمین نثار مورائی کو ان کی مجرمانہ اور کرپشن کی تاریخ پر 'مجرم' قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے دوست نے تفتیش کے دوران سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے متعدد مجرمانہ سرگرمیوں کا انکشاف کیا۔

جے آئی ٹی کے مطابق نثار مورائی نے محکمہ فشریز میں 50 سے 200 جعلی ملازمین بھرتی کیے اور فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے سابق چیئرمین سلطان قمر صدیقی سے ماہانہ بنیادوں پر بھتہ وصول کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ نثار مورائی نے بھاری رشوت کے بدلے زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کو سہولت فراہم کی، جواخانوں کی سرپرستی کی اور زمینوں نے چالان کلیئر کرنے کے لیے بھی رشوت وصول کی۔

مزید پڑھیں: حماد صدیقی نے 20 کروڑ روپے بھتہ نہ ملنے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگوائی، جے آئی ٹی رپورٹ

نثار مورائی نے انکشاف کیا کہ ذوالفقار مرزا نے مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کو متحدہ قومی موومنٹ (الطاف) کے خلاف مضبوط کرنے کے لیے مالی معاونت، اسلحہ و گولہ بارود فراہم کیا۔

ملزم نے کہا کہ انہوں نے ذوالفقار مرزا کے ساتھ اور تنہائی میں عذیر بلوچ سے بھی ملاقاتیں کیں۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نثار مورائی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ سجاد حسین کے قتل میں ملوث تھے، جبکہ اس کیس میں وہ پہلے ہی اشتہاری مجرم قرار دیے جاچکے ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم نے سفارش کی کہ نثار مورائی کے خلاف مجرمانہ کارروائی کا آغاز کیا جانا چاہیے، انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے اور ان کے خلاف کیسز کے چالان متعلقہ عدالتوں میں جمع کرائے جائیں۔