سانحہ ماڈل ٹاؤن: عوامی تحریک کے 93 کارکنوں کی سزائیں معطل

اپ ڈیٹ 08 جولائ 2020

ای میل

عوامی تحریک کے کارکنوں پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا
—فائل فوٹو
عوامی تحریک کے کارکنوں پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا —فائل فوٹو

لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دوران ہنگامہ آرائی کرنے کے الزام میں گرفتار پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے 93 کارکنوں کی سزائیں معطل کردیں۔

واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ہنگامہ آرائی کرنے کے الزام میں پی اے ٹی کے 93 کارکنوں کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر طاہر القادری کا ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے عوامی تحریک کے تمام 93 کارکنوں کو 2، 2 لاکھ کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ عوامی تحریک کے کارکنوں کو 2014 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

دوران سماعت درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی قرآن خوانی میں شرکت کے لیے لاہور آرہے تھے کہ پولیس نے گرفتار کر لیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں بھیرہ انٹر چینج پر روک کر تشدد کیا گیا اور دہشت گردی کا مقدمہ درج کردیا گیا۔

درخواست گزار نے عدالت میں بتایا کہ پولیس نے 100 کارکنان کو گرفتار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’کیا ماڈل ٹاؤن سانحے میں دوسری جے آئی ٹی بنائی جاسکتی ہے؟‘

سانحہ ماڈل ٹاؤن

17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں تحریک منہاج القران کے مرکزی سیکریٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔

آپریشن کے دوران پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت کے دوران ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 90 کے قریب زخمی بھی ہوئے تھے۔

درخواست گزار بسمہ امجد نے اپنی والدہ کے قتل کے خلاف سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل میں درخواست دائر کی تھی اور واقعے کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کی تھی۔

مزید پڑھیں: ماڈل ٹاؤن کیس میں نواز شریف، شہباز شریف کی طلبی کی درخواست خارج

عدالت عظمیٰ کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا گیا 5 رکنی لارجر بینچ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس فیصل عرب اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل تھا۔

یہ بھی یاد رہے کہ 2014 میں ہونے والے ماڈل ٹاؤن سانحے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے پنجاب حکومت کے حوالے کردی تھی، جسے منظرعام پر نہیں لایا گیا۔

تاہم بعد ازاں عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد حکومت جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو منظر عام پر لے آئی۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جس وقت واقعہ پیش آیا ڈی آئی جی عبدالجبار موقع پر موجود نہیں تھے، واقعے کے دوران کانسٹیبل کی ہلاکت کی اطلاع ملی تو اُس وقت کے ایس پی سیکیورٹی علی سلمان نے اپنے ماتحتوں کو فائرنگ کا حکم دیا جس سے پی اے ٹی کے کچھ کارکن ہلاک ہوئے۔

سانحے میں ذمہ دار ٹھہرائے جانے والے سابق ایس پی سیکیورٹی علی سلمان بیرون ملک پرواز کرچکے ہیں جبکہ ایک انسپکٹر عامر سلیم سمیت 5 پولیس اہلکار جیل میں قید ہیں۔

مزید پڑھیں: ’شہباز، رانا ثناء سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار نہیں‘

رپورٹ کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے تمام اراکین نے واقعے کے مقدمے میں نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب اور سابق وزیر قانون کے خلاف موجود الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے گناہ قرار دیا تھا۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثنا اللہ کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں کلین چٹ دیئے جانے پر پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئےملک گیر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔