ممکن ہے اسکول 6 سے 8 ماہ تک نہ کھلیں، وزیر تعلیم سندھ

اپ ڈیٹ 12 مئ 2020

ای میل

سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے— فوٹو:ڈان نیوز
سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے— فوٹو:ڈان نیوز

صوبہ سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ حکومت نے پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کو سالانہ کارکردگی اور گزشتہ سال کے نتائج کی بنیاد پر پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ معلوم نہیں کہ موجودہ بحران کب ختم ہو، لہٰذا ممکن ہے کہ اسکول 6 سے 8 ماہ تک نہیں کھلیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس میں وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ اگر ایک یا دو مضمون میں طالب علم فیل ہوں گے تو اسکولز کو یہ اجازت ہوگی کہ وہ اس مخصوص مضمون کا امتحان لیکر بلبہ کو پاس کریں۔

اس موقع پر سعید غنی نے یہ اعلان بھی کیا کہ صوبے میں یکم جون سے اسکول نہیں کھلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا 9 سے 12 ویں جماعت تک کے طلبہ کو پروموٹ کرنے کے فیصلے میں چند پیچیدگیاں ہیں جس کا اعتراف وفاق بھی کرچکی ہے۔

مزید پڑھیں: یکم جون سے اسکول کھولنا ممکن نظر نہیں آرہا، وزیر تعلیم سندھ

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا تھا کہ تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رہیں گے جبکہ 9 سے 12 جماعت کے طلبہ کو پروموٹ کردیا جائے گا۔

ادھر سعید غنی نے اپنی گفتگو کے دوران یہ نشاندہی کی کہ بورڈ کے امتحانات کے حوالے سے قانون امتحان نہ دینے والے طالب علموں کو پروموٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور ایسا کرنے کے لیے قانون میں ترمیم کرنا پڑے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کام کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو مسئلے کو دیکھے گی اور تجاویز وفاقی حکومت کو ارسال کرے گی۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کا پاکستان میں پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے ہماری زندگیاں تبدیل ہوگئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی کو نہیں معلوم کہ یہ بحران کب ختم ہوگا اور ممکن ہے کہ اسکول 6 سے 8 ماہ تک نہیں کھلیں، تاہم ایسی صورتحال میں تعلیم کو غیر معینہ مدت تک کے لیے معطل نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک متبادل نظام سامنے لایا جائے۔

صوبائی وزیر تعلیم نے یہ نشاندہی بھی کی کہ سرکاری اسکول اور کالجز میں آن لائن کلاسز دینے کی سہولت موجود نہیں ہے جبکہ صوبے میں اساتذہ کے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ آن لائن کلاسز شروع کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: ’ٹیلی اسکول‘ چینل کیلئے وزارت تعلیم، پی ٹی وی میں معاہدہ

ان کا کہنا تھا کہ اس کام کے لیے چند دنوں میں ایک نظام متعارف کرائیں گے اور اساتذہ کو تربیت دیں گے کہ وہ اسکول آئیں اور وہاں سے گھروں میں موجود طلبہ کو پڑھائیں۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ سندھ کے دوردراز علاقوں تک آن لائن تعلیم کی سہولت پہنچانے کے لیے سیلولر کمپنیز سے رابطہ کیا ہے تاکہ تمام علاقوں تک سہولت میسر ہوسکے۔

واضح رہے کہ 26 فروری کو سندھ میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا تھا۔

کورونا وائرس کی صورتحال بگڑنے کے ساتھ صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں کی بندش میں وقتاً فوقتاً توسیع کی تھی اور یکم جون سے انہیں کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ اس وقت ملک میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ ہے جہاں کیسز کی تعداد ساڑھے 12 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ یہاں اموات 211 ہے۔

منگل (12 مئی) کو بھی سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 593 کیسز اور 18 اموات سامنے آئیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 ہزار 64 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 593 کے نتائج مثبت آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 18 اموات ہوئی ہیں جو اب تک صوبے میں ایک روز میں سب سے زیادہ اموات ہیں، جس کے بعد مجموعی طور پر وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 218 ہوگئی ہے۔