بچی اغوا کیس: سینیٹر سرفراز بگٹی کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2020

ای میل

سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سرفراز بگٹی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ہدایت دی کہ کوشش کریں بچی مل جائے۔ فائل فوٹو:ڈان
سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سرفراز بگٹی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ہدایت دی کہ کوشش کریں بچی مل جائے۔ فائل فوٹو:ڈان

سپریم کورٹ نے 10 سالہ بچی کے اغوا سے متعلق کیس میں سینیٹر سرفراز بگٹی، جو بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ بھی رہے ہیں، کی عبوری ضمانت کی استدعا مسترد کردی۔

10 9 سالہ بچی کے اغوا سے متعلق کیس میں سینیٹر سرفراز بگٹی کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سپریم کورٹ کے جسٹس مظہر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی امین پر مشتمل میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سرفراز بگٹی نے اپنے وکیل کامران مرتضٰی کے ذریعے آئندہ سماعت تک عبوری ضمانت دینے کی استدعا کی۔

دوران سماعت انہوں نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ عبوری ضمانت نہ ملی تو مشکل ہوجائے گی۔

مزید پڑھیں: بچی کو حبس بے جا میں رکھنے پر سینیٹر سرفراز بگٹی کی گرفتاری کا حکم

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ ضمانت بنتی ہوگی تو دیں گے، سرفراز بگٹی کو 6 ماہ سے کسی نے گرفتار نہیں کیا اب کون گرفتار کرے گا۔

اس موقع پر جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیے کہ سرفراز بگٹی با اثر شخص ہیں، کوشش کریں بچی مل جائے۔

بعد ازاں عدالت نے عبوری ضمانت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت 14 جولائی تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ سرفراز بگٹی کے خلاف کوئٹہ کے بجلی گھر پولیس اسٹیشن میں یاسمین اختر نامی خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج ہے۔

یاسمین اختر کا مؤقف ہے کہ 7 دسمبر 2019 کو ان کی نواسی ماریہ علی کو اس کے والد توکل علی بگٹی سے ملوانے کے لیے کوئٹہ کی فیملی کورٹ لے کر گئی تھیں تاہم وہاں توکل علی نے ماریہ کو اغوا کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرداخلہ بلوچستان سرفرازبگٹی کا نئی جماعت بنانے کااعلان

ان کا کہنا تھا کہ 'توکل علی کا پیچھا کرنے پر پتا چلا کہ وہ ماریہ علی کو لے کر کینٹ میں واقع سرفراز بگٹی کے گھر لے کر گئے'۔

یاد رہے کہ 9 دسمبر کو سینیٹر سرفراز بگٹی کو اغوا کے کیس میں سیشن عدالت سے عبوری ضمانت مل گئی تھی۔

بعد ازاں 16 جنوری کو کوئٹہ کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 9 سالہ بچی کو زبردستی ساتھ رکھنے کے مقدمے میں سینیٹر سرفراز بگٹی کی عبوری درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما سرفراز بگٹی نے ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے اور وہ اس فیصلے کے خلاف آج اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں گے۔