قہوے کا بل دیکھ کر شہری کے ہوش اڑ گئے

اپ ڈیٹ 09 جولائ 2020

ای میل

سعودی شہری کا کہنا تھا کہ قہوے کی اتنی زیادہ رقم وصول کرنا سمجھ سے باہر ہے— فائل فوٹو: رائٹرز
سعودی شہری کا کہنا تھا کہ قہوے کی اتنی زیادہ رقم وصول کرنا سمجھ سے باہر ہے— فائل فوٹو: رائٹرز

سعودی عرب میں ایک شہری نے قہوے کی کئی گنا زیادہ قیمت طلب کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان طریقوں سے سیاحت کو کامیاب نہیں بنایا جاسکتا۔

سعودی عرب کے صوبے اسیر کے دارالحکومت میں اہلخانہ کے ہمراہ سیاحت کے لیے جانے والے شہری کے ہوش اس وقت اڑ گئے جب اس نے ایک قہوہ خانے میں قہوہ پینے کے بعد اس کا بل دیکھا۔

اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی شہری نے خاندان کے 8 افراد کے ساتھ قہوہ پینے اور اس کے بھاری بل کی کہانی ایک ویڈیو میں بیان کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کی جو بعدازاں وائرل ہوگئی۔

شہری کا کہنا تھا کہ 8 افراد کے قہوے کا بل 400 ریال پیش کیا گیا جس کا مطلب ہے کہ فی قہوہ 50 ریال وصول کیے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں سیاحت کی اجازت، خواتین کیلئے عبایا کی شرط ختم

سعودی شہری کا کہنا تھا کہ قہوے کی اتنی زیادہ رقم وصول کرنا سمجھ سے باہر ہے۔

اس کے ساتھ ہی شہری نے شکوہ کیا کہ ان طریقوں سے سیاحت کو کامیاب نہیں بنایا جاسکتا، سیاحت اس وقت کامیاب ہوگی جب بنیادی ڈھانچا اور خدمات اچھی ہوں گی۔

انہوں نے کیا کہ قہوے کے بل سے متعلق قہوہ خانے کے مالک سے بات چیت کی کوشش بھی کی مگر اس میں کامیابی حاصل نہ ہوئی۔

علاوہ ازیں ویڈیو میں سعودی شہری کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ قہوہ خانے کے کیشیئر کے پاس ایک انتباہ آویزاں کیا گیا ہے جس میں درج ہے کہ اگر رقم 50 ریال سے کم ہوگی تو بقایا رقم واپس نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور حیرانی کن بات یہ ہے کہ قہوہ خانے میں بچوں کے لیے کرسیوں کا انتظام ہے اور نہ ہی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بل کی ادائیگی کا کوئی طریقہ کار موجود ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند سالوں سے سعودی عرب کی تیل سے ہونے والی آمدن میں مسلسل کمی آرہی ہے اور حکومت تیل کی کمائی پر انحصار کم کرنے کے لیے سیاحت اور انٹرٹینمنٹ سمیت دیگر متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھین: سعودی عرب کا مستقبل کا شہر دنیا کو دنگ کردے گا

گزشتہ برس سعودی عرب نے سیاحت کے آغاز کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ غیر ملکیوں کو 90 دن تک کا سیاحتی ویزا جاری کیا جائے گا جبکہ گزشتہ برس 28 ستمبر سے دنیا کے 49 ممالک کے شہریوں کو ویزوں کا آن لائن اجرا بھی شروع ہوگیا تھا۔

سیاحت کے لیے دروازے کھولنے سے سعودی عرب کو آنے والے چند سال میں کم سے کم 5 لاکھ کمروں پر مشتمل پرتعیش ہوٹلوں کی ضرورت پڑے گی اور خیال کیا جا رہا ہے کہ سیاحت کے آغاز کے بعد مختلف حصوں میں تعمیراتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

سعودی حکومت پہلے ہی ’نیوم‘ نامی سیاحتی شہر بنانے میں مصروف ہے، ساتھ ہی حکومت ’القدیہ‘ نامی انٹرٹینمنٹ و اسپورٹس شہر بنانے میں بھی مصروف ہے۔

علاوہ ازیں سعودی حکومت نے بحیرہ احمر کے کنارے موجود 50 جزیروں پر پُرتعیش ریزورٹس بنانے کا اعلان بھی کررکھا ہے اور ان منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔