صومالیہ کے آرمی چیف خودکش حملے میں بال بال بچ گئے

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2020

ای میل

جنرل یوسف ریج 32 سال کی عمر میں صومالیہ کے آرمی چیف بنے—فوٹو:رائٹرز
جنرل یوسف ریج 32 سال کی عمر میں صومالیہ کے آرمی چیف بنے—فوٹو:رائٹرز

صومالیہ کے آرمی چیف جنرل یوسف ریج دارالحکومت موغادیشو میں ایک خودکش حملے میں بال بال بچ گئے جبکہ ایک شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنرل یوسف ریج کا قافلہ موغادیشو میں جارہا تھا کہ خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری کار ٹکرانے کی ناکام کوشش کی۔

رپورٹ کے مطابق القاعدہ سے منسلک دہشت گرد گروپ 'الشباب' نے کہا کہ اس حملے کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے۔

مزید پڑھیں: صومالیہ: ریسٹورنٹ پر حملے میں 6 افراد ہلاک

صومالیہ کی فوج کے ترجمان کرنل عبدیقانی علی نے کہا کہ جنرل یوسف ریج کا وفد موغادیشو کے ضلع ہودان میں فوجی ہسپتال کے قریب پہنچا تھا کہ حملہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 'بارود سے بھری کار جب وفد کی طرف تیزی سے بڑھ رہی تھی تو آرمی چیف کے گارڈز نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بمبار مارا گیا اور کار دھماکے سے اڑ گئی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آرمی چیف اور ان کے گارڈ محفوظ رہے'۔

موغادیشو کی امین ایمبولینس سروس کا کہنا تھا کہ اس کو ایک شہری کی لاش ملی ہے جبکہ نصف درجن افراد زخمی ہوگئے، تاہم ان کی حالت کے بارے میں کچھ نہیں معلوم نہیں۔

خیال رہے کہ جنرل یوسف ریج کو گزشتہ برس اگست میں 32 سال کی عمر میں آرمی چیف مقرر کیا گیا تھا جو ملک کی تاریخ میں کم عمر ترین آرمی چیف ہیں۔

دوسری جانب الشباب کے ترجمان عبدالیاسیز ابو مصعب نے بیان میں کہا کہ 'ہم نے موغادیشو میں شہادت آپریشن کیا، جس کا نشانہ اعلیٰ سطح کے کمانڈر کا تحفظ کرنے والا وفد تھا'۔

خیال رہے کہ صومالیہ میں الشباب کی جانب سے 2008 سے حملے کیے جارہے ہیں اور مرکزی حکومت پر قبضے کی کوشش کی جارہی ہے۔

الشباب کے خلاف افریقی یونین کی امن فوج 2011 سے برسر پیکار ہے اور کئی آپریشن کیے گئے۔

افریقی فوجی اتحاد کی کارروائیوں کے باوجود الشباب گروپ صومالیہ کے کئی علاقوں میں فعال ہے اور بدترین حملے بھی کیے جاچکے ہیں اور خاص کر غیر ملکیوں، سرکاری شخصیات اور عمارتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صومالیہ میں کار بم دھماکا، 76 افراد ہلاک

یاد رہے کہ 5 جولائی کو صومالیہ کے علاقے ہر بیدوا میں مبینہ دہشت گردوں نے ایک ریسٹورنٹ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے اور اس کی ذمہ داری بھی الشباب نے قبول کی تھی۔

دسمبر 2019 میں صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے مصروف علاقے میں ایک کار بم دھماکے میں 76 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

نجی ایمبولینس سروس امین کے ڈائریکٹر عبدالقدیر عبدالرحمٰن نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ’ہلاک افراد میں 2 ترک شہری بھی شامل ہیں، تاہم ہمیں اس کی ابھی اطلاع نہیں کہ وہ راہ گیر تھے یا اس علاقے میں قیام پذیر تھے‘۔

صومالیہ کی تاریخ میں سب سے خونریز حملہ اکتوبر 2017 میں موغادیشو میں پیش آیا تھا جہاں ٹرک دھماکے کی وجہ سے 512 افراد ہلاک اور 295 زخمی ہوگئے تھے۔