مالی سال 20-2019: آٹو سیکٹر میں فروخت میں غیر معمولی کمی

اپ ڈیٹ 15 جولائ 2020

ای میل

کار کی پیداوار اور فروخت میں بالترتیب 55 فیصد اور 53.5 فیصد تک کمی دیکھی گئی جو 94 ہزار 325 یونٹ اور 96 ہزار 455 رہی ۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
کار کی پیداوار اور فروخت میں بالترتیب 55 فیصد اور 53.5 فیصد تک کمی دیکھی گئی جو 94 ہزار 325 یونٹ اور 96 ہزار 455 رہی ۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

کراچی: آٹو سیکٹر کا 2019-20 کا اختتام ناخوشگوار رہا کیونکہ مختلف گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت میں 23 سے 55 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کار کی تیاری اور فروخت میں بالترتیب 55 فیصد اور 53.5 فیصد، 94 ہزار 325 یونٹ اور 96 ہزار 455 تک کمی دیکھی گئی۔

اسی طرح دو/تین پہیوں والی سواری کی فروخت میں 23 فیصد کمی دیکھی گئی جس کے 13 لاکھ 70 ہزار یونٹس فروخت ہوئے۔

مزید پڑھیں: جولائی میں گاڑیوں کی فروخت 42 فیصد کم

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاؤن سے گاڑیوں کی اپریل میں فروخت اور پیداوار بری طرح متاثر ہوئی تھی جبکہ سیکٹر میں مئی کے دوران 3 ہزار 800 یونٹ اور جون میں 7 ہزار 325 یونٹس کی فروخت دیکھی گئی۔

مالی سال 2020 میں ٹرکوں کی پیداوار اور فروخت بالترتیب 51 فیصد اور 47 فیصد کی کمی کے بعد 2 ہزار 945 اور 3 ہزار 88 یونٹ رہی جبکہ بس کی پیداوار اور فروخت بالترتیب 42 فیصد اور 40 فیصد کی کمی کے بعد 3 ہزار 477 اور 3 ہزار 647 ہوگئی۔

مالی سال 2020 میں ٹریکٹرز کی پیداوار اور فروخت بالترتیب 35 فیصد کی کمی کے بعد 32 ہزار 608 اور 32 ہزار 727 یونٹ رہ گئی۔

جیپوں کی مجموعی پیداوار اور فروخت بالترتین 53 فیصد اور 55 فیصد تک کم ہو کر 3 ہزار 564 اور 3 ہزار 459 یونٹ رہی جبکہ پک اپس میں بالترتیب 51 فیصد اور 52.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی جو 12 ہزار 68 اور 12 ہزار 48 یونٹ رہی۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد مئی سے بہت سے اسمبلرز نے گاڑیوں کی پیداوار شروع کردی تھیں تاہم پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ نے اس کا دیر سے آغاز کیا۔

اس کے نتیجے میں سوزوکی ویگن آر کی پیداوار اپریل سے جون تک 'صفر' رہی جبکہ سوزوکی سوئفٹ، کلٹس، آلٹو اور بولان کی اپریل سے مئی تک 'صفر' رہی۔

یہ بھی پڑھیں: بندرگاہ سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کلیئرنس کا مطالبہ

لاک ڈاؤن اور کم طلب کے باوجود کار اسمبلرز نے ٹویوٹا یارس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جو مئی میں ہی انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) کی اسمبلی لائن میں آئی تھی اور اس مہینے اس کی پیداوار اور فروخت بالترتیب 389 اور 167 یونٹ رہی تھی تاہم جون میں اس میں اضافہ ہوا اور یہ ایک ہزار 33 اور ایک ہزار 160 رہی، یارس کو ٹویوٹا کمپنی نے کرولا 1300 سی سی کی جگہ متعارف کرایا ہے۔

انڈس موٹرز نے ٹویوٹا کی مختلف گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک لاکھ دس ہزار سے پانچ لاکھ روپے کا اضافہ کیا جبکہ ہونڈا اٹلس نے بھی 60 ہزار سے ایک لاکھ 20 روپے تک کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔

چند روز قبل ہی پاک سوزوکی موٹر کمپنی نے آلٹو 660 سی سی وی ایکس ماڈل کی قیمت میں 63 ہزار روپے اضافہ کرکے 11 لاکھ 98 ہزار روپے کردیا تھا۔

لاک ڈاؤن سے پہلے (جولائی 2019 سے مارچ 2020 کے وسط تک) کار اسمبلرز نے روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے درآمدی سامان کی بڑھتی قیمت پر کئی بار نرخوں میں اضافہ کرکے صارفین کو پریشانی میں مبتلا کیا۔