بنگلہ دیش کا ایک تہائی حصہ مون سون بارشوں کے باعث زیر آب آگیا

اپ ڈیٹ 15 جولائ 2020

ای میل

بارشوں کی مزید 10 روز کی پیشگوئی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ اگر مزید دریاؤں کے کنارے پھٹے تو ملک کا 40 فیصد حصہ زیر آب آسکتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
بارشوں کی مزید 10 روز کی پیشگوئی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ اگر مزید دریاؤں کے کنارے پھٹے تو ملک کا 40 فیصد حصہ زیر آب آسکتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

جنوبی ایشیاء میں مون سون بارشوں کے باعث سیلاب سے تقریبا چار لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، حکام نے بتایا ہے کہ ایک دہائی کی ریکارڈ طوفانی بارشوں سے بنگلہ دیش کا ایک تہائی حصہ زیر آب آگیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مون سون کا سیزن، جو عام طور پر جون سے ستمبر تک جاری رہتا ہے، برصغیر پاک و ہند کی معیشت کے لیے بہت اہم ہے تاہم اس سے ہر سال اس خطے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں اور تباہی بھی ہوتی ہے۔

بنگلہ دیش میں سیلاب کی پیش گوئی والے ادارے اور انتباہی مرکز کے سربراہ عارف الزمان بھویان نے اے ایف پی کو بتایا کہ 'یہ ایک دہائی کا بدترین سیلاب ہے'۔

شدید بارشوں کی وجہ سے دو اہم ہمالیائی دریا متاثر ہوئے ہیں، برہم پتر اور گنگا، جو بھارت اور بنگلہ دیش سے گزرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چین میں بدترین سیلابی صورتحال، 33 دریا اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

عارف الزمان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ بنگلہ دیش کا ایک تہائی حصہ زیر آب آگیا ہے اور گاؤں میں گھروں اور سڑکوں کے علاوہ کم از کم 15 لاکھ افراد بھی متاثر ہوئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ فاروق احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ بنگلہ دیش کے شمال وسطی علاقوں میں دریائے برہم پتر معمول سے 40 سینٹی میٹر (16 انچ) اونچا ہے اور جس سے اس کے پھٹنے کا خطرہ تھا۔

حکام نے بتایا کہ زیادہ تر دیہاتی اپنے سیلاب سے متاثرہ گھروں کے قریب ہی رہنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم تقریبا 15 ہزار شدید متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرگئے ہیں۔

10 روز کی پیشگوئی کے ساتھ بڑھتے ہوئے پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، عارف الزمان نے کہا کہ اگر مزید دریاؤں کے کنارے پھٹ گئے تو ملک کا 40 فیصد حصہ 'انتہائی خراب صورتحال میں' سیلاب کی زد میں آسکتا ہے۔

شمالی قصبے بسوامبھر پور کے دیہاتیوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش کے شمال مشرقی حصے کا ایک بڑا دریا سورما کے کنارے پھٹ جانے کے بعد زیادہ تر مکانات جزوی طور پر زیر آب آگئے تھے۔

35 سالہ کسان عبدالرشید نے بتایا کہ اس نے اپنی اہلیہ اور تین بچوں کو گاؤں کے کثیر المنزلہ اسکول میں بھیج دیا ہے جو ایک سرکاری شیلٹر میں تبدیل ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میرا پورا گھر زیر آب آگیا ہے، میں نے اپنے تمام اہلخانہ کو اسکول بھیج دیا ہے تاہم میں خود نہیں گیا اور یہاں اپنی جائیدادوں کی حفاظت کے لیے رک گیا ہوں'۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش، بھارت میں خوفناک طوفان نے تباہی مچادی، 84 افراد ہلاک

بھارت کے شمال مشرقی علاقے آسام میں مئی کے وسط سے اب تک 21 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے سیلاب کے پانی میں اضافے کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو ئے تھے۔

ایمرجنسی سروسز کے عملے نے سیلاب اور کورونا وائرس سے خود کو بچانے کے لیے سر سے پیر تک نارنجی رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا اور وہ پھنسے ہوئے دیہاتیوں تک پہنچنے کے لیے کشتیوں کا استعمال کررہے تھے۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس نے آسام میں تقریبا 17 ہزار افراد کو متاثر کیا ہے۔

مقامی ریسکیو ٹیم کے سربراہ ابھیجیت کمار ورما نے اے ایف پی کو بتایا کہ 'ہمارے یہاں دو چیلینجز ہیں، ایک کورونا وائرس اور دوسرا سیلاب ہے'۔

نیپال میں مون سون بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے کم از کم 50 افراد ہلاک اور سیکڑوں مکانات بہہ گئے اور سڑکیں اور پل تباہ ہوگئے ہیں۔