بھارتی سفارت کار کلبھوشن کی کوئی بات سنے بغیر چلے گئے، شاہ محمود

16 جولائ 2020

ای میل

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا — فائل فوٹو: اسکرین شاٹ
بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا — فائل فوٹو: اسکرین شاٹ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت کے سفارت کاروں نے جاسوس کلبھوشن یادیو کی قونصلر رسائی کے دوران کوئی بات نہیں سنی اور چلے گئے۔

اپنے بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج بھارت کے 2 سفارت کاروں کو قونصلر رسائی دی گئی، کلبھوشن بار بار انہیں پکارتا رہا اور کہتا رہا کہا کہ اس کی بات سنی جائے لیکن سفارت کاروں نے اس کی ایک نہ سنی اور چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ قونصلر رسائی کی ضرورت کے مطابق تمام اقدامات اٹھائے لیکن بھارتی سفارت کاروں نے کلبھوشن تک رسائی کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بات طے ہوئی تھی اس کے تحت بھارتی جاسوس کو قونصلر رسائی دی گئی لیکن بھارت کی بدنیتی سامنے آگئی کہ یہ قونصلر رسائی ہی نہیں چاہتے تھے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی سفارتکاروں کا رویہ حیران کن تھا، سفارت کاروں نے کلبھوشن سے بات ہی نہیں کرنی تھی تو رسائی کیوں مانگی۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی سفارت کاروں کو درمیان میں شیشے پر اعتراض تھا وہ بھی ہٹا دیا، انہوں نے آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ پراعترض کیا وہ بھی نہیں کی، بھارتی سفارت کاروں کی تمام خواہشات پوری کیں پھر بھی وہ چلے گئے۔

بھارتی جاسوس کو دوسری مرتبہ قونصلر رسائی

قبل ازیں پاکستان نے زیر حراست اور سزا یافتہ بھارت کی خفیہ ایجنسی 'را' کے جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو دوسری مرتبہ قونصلر رسائی دی تھی۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ایک بیان میں بتایا کہ پاکستان نے بھارت کی درخواست پر بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو دوسری مرتبہ قونصلر رسائی دے دی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے قونصلر تعلقات سے متعلق 1963 کے ویانا کنونشن (وی سی سی آر) کے تحت کلبھوشن یادیو کو پہلی مرتبہ قونصلر رسائی 2 ستمبر 2019 کو دی تھی۔

مزید پڑھیں: کلبھوشن یادو کیس میں فتح کس کی ہوئی؟ ماہرین کیا کہتے ہیں؟

اس سے قبل کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کو بھی 25 دسمبر 2017 کو ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بیان میں بتایا کہ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے 2 قونصلر افسران کو آج (16 جولائی) سہ پہر 3 بجے بلا روک ٹوک اور بلاتعطل قونصلر رسائی دی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ کلبھوشن یادیو کو ایک خفیہ آپریشن کے نتیجے میں بلوچستان سے 3 مارچ 2016 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

دوران تفتیش کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کا اعتراف کیا تھا جس کے نتیجے میں سیکڑوں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کلبھوشن کیس، کب کیا ہوا؟

بھارتی جاسوس نے پاکستان میں ریاستی دہشت گردی میں بھارت کی خفیہ ایجنسی 'را' کے کردار کے حوالے سے اہم انکشافات بھی کیے تھے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے 17 جولائی 2019 کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے اور امید کرتا ہے کہ بھارت اس فیصلے پر پاکستانی عدالت میں مکمل عملدرآمد کے سلسلے میں تعاون کرے گا۔

خیال رہے کہ رواں برس 8 جولائی کو اسلام آباد میں دفتر خارجہ میں ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا، سارک زاہد حفیظ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے بتایا تھا کہ پاکستان نے بھارت کو دوسری مرتبہ قونصلر رسائی کی پیشکش کی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید کہا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والد سے ملاقات کی بھی پیشکش کی ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ کلبھوشن یادیو نے اپنی سزا کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل دائر کرنے سے انکار کردیا ہے اور اس کے بجائے اپنی زیر التوا رحم کی اپیل پر جواب کے انتظار کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ستمبر 2019 میں کلبھوشن یادیو کو دی گئی پہلی قونصلر رسائی ویانا کنونشن اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے تحت دی گئی تھی جو 2 گھنٹوں تک جاری رہی تھی۔

اس حوالے سے اس وقت کے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ کلبھوشن یادیو سے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور گورو اہلووالیا نے قونصلر رسائی حاصل کی،قونصلر رسائی دن 12 بجے دی گئی تھی جو دو گھنٹے جاری رہی۔

بھارتی قونصلر کی ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہا تھا کہ ‘بھارت کی درخواست پر ملاقات کے دوران تبادلہ خیال کے لیے زبان پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی، تاہم شفافیت کو یقینی بنانے اور قواعد کے تحت ملاقات ریکارڈ کی گئی جس کے بارے میں بھارت کو پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا’۔

کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور عالمی عدالت میں مقدمہ

یاد رہے کہ ’را‘ کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کہ انہیں ’را‘ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے کلبھوشن یادیو کیس میں بھارتی وکیل کے بے بنیاد الزامات مسترد کردیے

کلبھوشن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد 'را' کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی جس میں اس نے اعتراف کیا تھا کہ اس کا پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا۔

بعدازاں اپریل 2017 کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت نے پاکستان کی جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا، جس کی توثیق بعد میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی تھی۔

بھارت نے 9 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کی تھی، اور درخواست کی تھی کہ آئی سی جے پاکستان کو بھارتی جاسوس کو پھانسی دینے سے روکے جسے سماعت کیلئے مقرر کرلیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت مکمل

عالمی عدالت انصاف میں کی گئی درخواست میں بھارت نے پاکستان پر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا تھا کہ ویانا کنونشن کے مطابق جاسوسی کے الزام میں گرفتار شخص کو رسائی سے روکا نہیں جاسکتا۔

بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو ایک بے قصور تاجر ہے جسے ایران سے اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر زبردستی را ایجنٹ ہونے کا اعتراف کروایا گیا لیکن بھارت اغوا کیے جانے کے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا تھا۔

13 دسمبر 2017 کو کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارت کی شکایت پر پاکستان کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں جوابی یاد داشت جمع کرائی گئی تھی۔

جس کے بعد 18 مئی 2018 کو عالمی عدالت انصاف نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کلبھوشن کی پھانسی روکنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد دفتر خارجہ نے آگاہ کیا تھا کہ آئی سی جے کے حکم پر حکومتِ پاکستان نے متعلقہ اداروں کو اس پر عمل کرنے کی ہدایت کردی۔

مزید پڑھیں: کلبھوشن کیس: پاکستان نے عالمی عدالت میں تحریری جواب جمع کرا دیا

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے کیے گئے دعوؤں پر پاکستان اور بھارت کی جانب سے 2، 2 جوابات داخل کروائے گئے تھے۔

تاہم بھارت یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا تھا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ سے کب اور کس طرح ریٹائر ہوا، کیونکہ پکڑے جانے کے وقت کلبھوشن کی عمر 47 برس تھی۔

علاوہ ازیں بھارت کو اس بات کی وضاحت دینے کی ضرورت تھی کہ کلبھوشن یادیو کے پاس جعلی شناخت کے ساتھ اصلی پاسپورٹ کیسے آیا، جس کو اس نے 17 مرتبہ بھارت آنے جانے کے لیے استعمال بھی کیا اور اس میں اس کا نام حسین مبارک پٹیل درج تھا۔

دسمبر 2017 میں پاکستان نے کلبھوشن کے لیے ان کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کے انتطامات کیے تھے۔

یہ بھی دیکھیں: کلبھوشن کیس: پاکستانی وکیل کے دلائل پر بھارتی وکیل پریشان

یہ ملاقات پاکستان کے دفترِ خارجہ میں ہوئی جہاں کسی بھی بھارتی سفیر یا اہلکار کو کلبھوشن کے اہلِ خانہ کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں تھی۔

مذکورہ ملاقات کے دوران کلبھوشن یادیو نے اپنی اہلیہ اور والدہ کے سامنے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے جاسوسی کا اعتراف کیا تھا۔

گزشتہ سال 2019 میں 18 سے 22 فروری کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان کلبھوشن یادیو کیس کی عوامی سماعت مکمل ہوگئی تھی۔

بعد ازاں 17 جولائی 2019 کو عالمی عدالت نے کیس کا فیصلہ سنادیا تھا جس کے مطابق کلبھوشن یادیو کو پاکستانی فوجی عدالت کی جانب سے دیا جانے والا سزائے موت کا فیصلہ منسوخ اور کلبھوشن کی حوالگی کی بھارتی استدعا مسترد کردی گئی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ وہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے، جس پر پاکستان نے بھارتی جاسوس کو قونصلر رسائی فراہم کردی تھی۔