لاپتا شخص کی بازیابی میں ناکامی، سیکریٹری داخلہ، پولیس افسران پر 60 لاکھ روپے کے جرمانے

اپ ڈیٹ 17 جولائ 2020

ای میل

پٹیشن کے مطابق سلیمان کو بظاہر ایک طاقتور ادارے نے اٹھالیا ہے—تصویر:  شٹراسٹاک
پٹیشن کے مطابق سلیمان کو بظاہر ایک طاقتور ادارے نے اٹھالیا ہے—تصویر: شٹراسٹاک

اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتا افراد سے متعلق کیس میں سیکریٹری داخلہ اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس اور سپرنٹنڈنٹ پولیس (انویسٹیگیشن) پر 20، 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ان افسران کے خلاف انضباطی کارروائی کرنے کی بھی ہدایات دیں کیوں کہ یہ افسران لاپتا شہری سلیمان فاروق کو بازیاب کروانے میں ناکام رہے۔

اسلام آباد پولیس کے ایک عہدیدار نے عدالت کو بتایا کہ سلیمان فاروق کی گمشدگی کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے۔

پروفیسر محمد شریف کی دائر کردہ پٹیشن کے مطابق ان کا 27 سالہ بیٹا سلیمان فاروق الیکٹریکل انجینئر ہے جو 4 اکتوبر کو بحریہ ٹاؤن فیز 3 سے لاپتا ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: لاپتا افراد کے مقدمات سول عدالتوں میں چلانے کا فیصلہ

پٹیشنر کا کہنا تھا کہ انہوں نے لوہی بھیر پولیس اسٹیشن پہنچ کر گمشدگی کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کروائی۔

پٹیشن کے مطابق سلیمان کو بظاہر ایک طاقتور ادارے نے اٹھالیا ہے اور ان کے والد ان کی تلاش میں دربدر پھرتے رہے۔

درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ گمشدگی کی شکایت کمیشن برائے لاپتا افراد میں بھی کی گئی لیکن بے سود رہی۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سیکیورٹی ایجنسی اور وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں کو ان کے لاپتا بیٹے کا اتا پتا معلوم کرنے کی ہدایت ککی جائیں اور اگر اس نے کوئی جرم کیا ہے تو اس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

اسی سے متعلقہ کیس میں عمران خان نامی ایک لاپتا شخص کی والدہ نے بھی اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا ان کا بیٹا کمپیوٹر انجینئر ہے اور متحدہ عرب امارات میں ملازمت کرتا تھا۔

مزید پڑھیں: حیدر آباد میں ’لاپتا افراد‘ کے اہلخانہ کی بھوک ہڑتال

درخواست میں خاتون نے کہا کہ ان کے بیٹے کو اسلام آباد کے علاقے جی-10 میں قائم ان کے گھر سے اٹھایا اور ڈبل کیبن گاڑی میں لے جایا گیا۔

درخواست کے مطابق عمران خان 4 سال قبل لاپتا ہیں اور اہلِ خانہ نے مقامی پولیس کے پاس مقدمہ بھی درج کروایا تھا لیکن پولیس انہیں بازیاب کروانے میں ناکام رہی۔

درخواست گزار نے یہ معاملہ لاپتا افراد کے کمیشن کے سامنے بھی پیش کیا اور سماعت کے دوران کمیشن نے کہا تھا کہ یہ معاملہ جبری گمشدگی کا ہے ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی معلومات حاصل کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

عمران خان، شادی شدہ تھے اور ان کا ایک 6 سالہ بیٹا بھی ہے تاہم ان کے اہلیہ نے اپنے شوہر کی طویل گمشدگی کے باعث خلع کا کیسز دائر کردیا تھا اور اسلام آباد کے فیملی جج نے شادی تحلیل کر کے بیٹے کو ماں کی تحویل میں دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی سے انسانی حقوق کے صوبائی سیکریٹری لاپتا

پٹیشن میں کہا گیا کہ عمران خان ایک تعلیم یافتہ پروفیشنل شخص تھے اور ان کے خلاف کسی بھی پولیس اسٹیشن میں کوئی مقدمہ درج نہیں تھا اگر ان کے خلاف کچھ موجود تھا تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ ان کی گرفتاری آئین کی ان دفعات کی خلاف ورزی ہے جو شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت ہیں۔

عمران خان کی والدہ نسیم بیگم نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکومت سے عمران خان کی گمشدگی پر رپورٹ طلب کرلی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے عدالت سے لاپتا شخص کا سراغ لگانے کے لیے مہلت کی درخواست کی، بعدازاں عدالت نے سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی۔


یہ خبر 17 جولائی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔