کورونا وائرس سے متعلق گمراہ کن معلومات کی جانچ کیلئے حتمی پالیسی تشکیل

اپ ڈیٹ 17 جولائ 2020

ای میل

کورونا وائرس سے متعلق گمراہ کن معلومات سے بچاؤ کی کمیٹی کا پہلا اجلاس گزشتہ روز وزارت داخلہ میں منعقد ہوا تھا—فائل فوٹو: اے پی
کورونا وائرس سے متعلق گمراہ کن معلومات سے بچاؤ کی کمیٹی کا پہلا اجلاس گزشتہ روز وزارت داخلہ میں منعقد ہوا تھا—فائل فوٹو: اے پی

کراچی: حکومت نے مین اسٹریم اور سوشل میڈیا دونوں پر کورونا وائرس سے متعلق گمراہ کن معلومات کی نگرانی سے متعلق فریم ورک کو حتمی شکل دے دی اور میڈیا ریگولیٹری اداروں کو 'جعلی خبریں' پھیلانے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے گزشتہ ہفتے وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کی سربراہی میں عالمی وبا سے متعلق جعلی معلومات کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے لیگل فریم ورک تیار کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی۔

وزیر داخلہ اعجاز شاہ کی سربراہی میں کورونا وائرس سے متعلق گمراہ کن معلومات سے بچاؤ کی کمیٹی کا پہلا اجلاس گزشتہ روز وزارت داخلہ میں منعقد ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: ’خطرناک افواہیں‘: کورونا وائرس سوشل میڈیا کے لیے ڈراؤنا خواب بن گیا

کمیٹی میں وزیر داخلہ کے علاوہ وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر فیصل سلطان اور فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد 'سینئر اراکین' کے طور پر موجود تھے۔

اس میں انٹر-سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر)، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کا سائبر کرائم سیل، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے سائبر ویجیلینس اور ویب اینالیسز ڈپارٹمنٹس، این سی او سی کے تجزیاتی گروپ کے ساتھ ساتھ وزارت صحت اور اطلاعات کے عہدیداران بھی شامل ہیں۔

پریس ریلیز کے مطابق وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ ' ہم کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خلاف سخت کارروائی کریں گے'۔

وزیر داخلہ نے ایف آئی کے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر کو میڈیا کی نگرانی کرنے اور غلط معلومات پھیلانے والے لوگوں کو ان کے اقدامات پر ذمہ دار ٹھہرانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایسے افراد کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کی جانی چاہیے۔

'کوئی جعلی خبر نہیں چلائی جائے گی'

اجلاس کے دوران وزیر داخلہ نے عالمی وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں میڈیا کے کردار پر بھی غور کیا۔

انہوں نے پیمرا کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وہ یقینی بنائیں کہ الیکٹرانک میڈیا پر اس حوالے سے کوئی جعلی خبریں نہ چلیں۔

پریس ریلیز کے مطابق وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ایسے افراد جو اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہیں وہ ملک کے حامی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد انتظامیہ کا کورونا سے متعلق غلط معلومات پر کارروائی کی تنبیہ

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد لوگوں تک درست اور معتبر معلومات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کورونا وائرس سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلانے والے لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لائیں گے۔

اعجاز شاہ نے ہر ادارے اور فرد پر زور دیا کہ وہ عالمی وبا سے متعلق غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اس وبا کی روک تھام کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنا چاہیے۔  

کمیٹی جعلی مواد کا پتا کیسے لگائے گی؟

وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد، جو کمیٹی کا حصہ بھی ہیں، کے مطابق وزیر داخلہ این سی او سی کو کورونا وائرس سے متعلق گمراہ کن معلومات کا پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کمیٹی کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر ہر ہفتے بریفنگ دیں گے۔

ڈاکٹر خالد نے ہر فرد کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے ڈان کو بتایا کہ فوکل پرسن آن لائن جعلی مواد کا پتا لگانے کے ذمہ دار ہوں گے جبکہ آئی ایس پی آر اور وزارت داخلہ کی مدد سے ٹی وی پر جعلی مواد کا پتا لگایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے بحران میں تعلیم کو پہنچتا نقصان اور نئی راہیں

انہوں نے کہا کہ اس مواد کو پھر وزارت صحت کو ارسال کیا جائے گا جہاں ماہرین صحت یہ فیصلہ کریں گے کہ ماہرین کی رائے کی بنیاد پر مواد جعلی ہے یا نہیں۔

فوکل پرسن کے مطابق اگر طبی ماہرین کو معلوم ہوتا ہے کہ تشخیص کردہ مواد 'حکومت یا عوام میں خوف، افراتفری یا عدم تٖحفظ' کا احساس پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (پیکٹا) کے تحت پی ٹی اے یا پیمرا ذمہ داران تک رسائی حاصل کریں گے۔

انہوں نے ڈان کو بتایا کہ اگر ذمہ دار شخص پی ٹی اے کی بات نہیں سنتا اور مواد نہیں ہٹاتا تو وزارت صحت، افراتفری پھیلانے سے متعلق سائبر کرائم قانون کے سیکشن 10 اے کے تحت تحریری حکم کے ذریعے ایف آئی اے سے رجوع کرسکتی ہے۔

پلیٹ فارمز کا کردار

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسا کہ فیس بک پہلے ہی حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات کو محدود کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔

قبل ازیں اپریل میں فیس بک نے کہا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کی تجاویز اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جاری کردہ ہدایات کے مخالف مواد کو فیس بک کے پلیٹ فارم سے اس کی پالیسی کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہٹادیا جائے گا۔

فیس بک نے کہا تھا کہ انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے لیے براہ راست چینل قائم کیا ہے تاکہ وہ فہرست شیئر کرسکیں جو ان کے مطابق مقامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس رپورٹ ہونے کے 2 ماہ بعد پی ٹی اے نے کورونا وائرس سے متعلق 42 آئٹمز پی ٹی اے کو رپورٹ کیے تھے۔


یہ خبر 17 جولائی، 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی