حکومت نے آرڈیننس کی شکل میں کلبھوشن یادیو کو این آر او دیا، بلاول بھٹو

اپ ڈیٹ 23 جولائ 2020

ای میل

بلاول بھٹو کے مطابق حکومت کو سانحہ اے پی ایس کے بچوں کے والدین کو جواب دینا پڑے گا — 
فوٹو: ڈان نیوز
بلاول بھٹو کے مطابق حکومت کو سانحہ اے پی ایس کے بچوں کے والدین کو جواب دینا پڑے گا — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر حکومت عالمی عدالت کو نہیں مان رہی تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم کلبھوشن یادیو کو این آر او دیں، حکومت نے تازہ ترین این آر او کلبھوشن یادیو کو آرڈیننس کی شکل میں دیا ہے۔

قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی سربراہی میں اجلاس ہوا، جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم کہتے تھے کہ میں کوئی این آر او نہیں دوں گا اور جتنے این آر او وزیراعظم نے دیے پاکستان کی تاریخ میں کسی وزیراعظم یا آمر نے اتنے این آر او نہیں دیے۔

انہوں نے کہا کہ تازہ ترین این آر او کلبھوشن یادیو کو آرڈیننس کی شکل میں دیا گیا جو 28 مئی کو نافذ کیا گیا اور 29 مئی کو گزٹ میں شائع کیا گیا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ قوانین کے مطابق اگر ایوان کے اجلاس ہورہے ہیں تو آرڈیننس کو جلد از جلد ایوان میں پیش کیا جانا چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ جون میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس ہورہے تھے لیکن کسی کو نہیں بتایا گیا۔

مزید پڑھیں: حکومت کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرنے کی استدعا

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ حکومت نے آرڈیننس سے متعلق پاکستان کے عوام کو نہیں بتایا اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کو مصروف عمل کیا، اس ایوان اور ارکان کو اعتماد میں نہیں لیا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب یہ بات سینیٹ میں اٹھائی گئی اور پھر میں نے خود پریس کانفرنس میں پوچھا کہ کلبھوشن یادیو کو ریلیف کیوں دے رہے ہیں تو پھر ہمارے سامنے یہ آرڈیننس پیش کیا گیا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ شیریں مزاری نے کہا کہ ہمیں عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار نہیں ماننا چاہیے تھا، اگر حکومت کا یہ مؤقف تھا تو اس سے آرڈیننس کا کیا تعلق ہے؟ اگر حکومت عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار نہیں تسلیم کرتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے قانون سے اسے این آر او دے دیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی جاسوس کو این آر او دے رہے، بھارت کا جو پائلٹ حملہ کرنے آٰیا تھا اسے چائے پلا کر آرام سے واپس بھیج دیا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جب کلبھوشن یادیو مانتا ہے کہ اس نے پاکستان کی جاسوسی کی، یہاں دہشت گردی کرتا رہا لیکن اس پر عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کا جواب ہے کہ کلبھوشن یادیو کو این آر او دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نہ صرف کلبھوشن یادیو کو این آر او دینے کی کوشش کررہی ہے بلکہ احسان اللہ احسان کو تو این آر او دے دیا گیا، اسے آزاد کردیا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جس دن احسان اللہ احسان کو رہا کیا گیا میں نے اس ایوان میں سوال پوچھا تھا کہ اسے کیوں رہا کیا گیا لیکن اس کی رہائی کا جواب آج تک ایوان میں نہیں دیا گیا، کہ وہ کس کی قید میں تھا، کیسے آزاد ہوا، اسے دوبارہ گرفتار کرنے کے لیے کیا کوشش کررہے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ 'اگر آج بھی وزیراعظم کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہیں تو احسان اللہ احسان سے دھمکی آتی ہے، یہ آج سے نہیں شروع دن سے دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب میں شرم و حیا ہے تو استعفیٰ دے کر گھر جائیں، بلاول بھٹو

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے ہر بیان میں دہشت گردوں کی مخالفت تک نہیں کی جو ہماری قوم کے بچوں کو شہید کررہے تھے، احسان اللہ احسان نے جو میری جماعت اور اس کے کارکنوں کے ساتھ کیا وہ اس قوم کی تاریخ میں لکھا ہوا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ہمارے خون کا جواب نہ دیں لیکن سانحہ اے پی ایس کے بچوں کے والدین کو جواب دینا پڑے گا کہ ان کی حکومت کے دوران پاکستان کا سب سے بڑا دہشت گرد کیسے باہر نکلا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو جواب دینا پڑے گا کہ کلبھوشن کو این آر او دے رہے ہیں، احسان اللہ احسان کو این آر او دے رہے ہیں وہ کتنے این آر او دیں گے، وزیراعظم عمران خان، پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں؟

اس کے ساتھ ہی بلاول بھٹو نے کہا کہ جہانگیر ترین، بیس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی)، مالم جبہ، بلین ٹری سونامی، چینی چوری، آٹا چوری پر این آر او دیا گیا، اب تو سپریم کورٹ نے حکومت اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے گٹھ جوڑ پر فیصلہ سنادیا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور اصل سیاسی قیادت کو قید میں رکھا جارہا ہے، سپریم کورٹ نے 87 صفحات کا جو فیصلہ دیا ہے اس کے بعد حکومت، احتساب پر بات نہیں کرسکتی۔

انہوں نے کہا کہ نیب کا ادارہ غیرآئینی بن چکا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ ہم احتساب کا ایک نیا ادارہ کھڑا کریں جو حکومت اور اپوزیشن کا احتساب کرے، جس کے سامنے سب کے لیے ایک ہی قانون ہو کہ وہ اگر کسی سیاستدان، پارلیمانی رکن کی تحقیقات کرنا چاہے تو کرسکے لیکن اگر انہیں کسی جج یا جنرل کی تحقیقات کرنی ہوں تو ان کے پاس وہ اختیار بھی ہو۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جب سب کے لیے ایک قانون ہوگا تو ہم حتمی طور پر کرپشن کے مسئلے کو ختم کرسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا ضمیر یہ اجازت نہیں دیتا کہ ہم اس ایوان کے سیشن کو چلنے دیں اور اس آرڈیننس کو منظور ہونے دیں جس کے باعث میں کورم کی نشاندہی کررہا ہوں۔

ہم عالمی عدالت انصاف کے فیصلے میں پھنس گئے ہیں، شیریں مزاری

بلاول بھٹو سے قبل قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ ہمیں عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار تسلیم نہیں کرنا چاہیے تھا۔

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

شیریں مزاری نے کہا کہ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں، میں خود اور شاید نوید قمر بھی شریک تھے اور دونوں جماعتوں نے اعتراضات اٹھائے تھے کہ عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار کیوں تسلیم کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایک ملک عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار تسلیم نہیں کرتا تو وہ کیس نہیں سنا جاتا، شیری رحمٰن اور میں نے حقائق کی بنیاد پر اس حوالے سے اعتراضات اٹھائے تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سینیٹر شیری رحمٰن اور میں نے کہا تھا کہ کیس کا دفاع کرنے کے لیے دفتر خارجہ کا جو نمائندہ بھیجا وہ بھی غلط ہے۔

شیریں مزاری کا کلبھوشن یادیو کا کیس پاکستان مسلم لیگ(ن) نے عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار کیوں تسلیم کیا، وکیل مقرر کرنے کا کیا طریقہ اختیار کیا گیا، ہم نے پہلے دن کہا تھا کہ اس وقت کی حکومت نے کلبھوشن یادیو کا کیس تسلیم کرکے غلطی کی یہ صرف ہمارا نہیں پیپلزپارٹی کا مؤقف بھی تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی یہ ہونی چاہیے تھی کہ اس کا دائرہ کار تسلیم نہ کرتے لیکن جب تسلیم کرلیا تو اس کا فیصلہ بھی ماننا ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پوچھیں کہ مودی کا یار کون تھا؟ آئی سی جے کا دائرہ کار کس نے تسلیم کیا تھا؟ ہم ان کی کوتاہیوں کی وجہ سے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے میں پھنس گئے ہیں کیونکہ انہیں یہ تسلیم ہی نہیں کرنا چاہیے تھے۔

شیریں مزاری نے کہا کہ ن لیگ نے یہ مصیبت ہمارے ملک میں ڈالی جو کہ نہیں لانی چاہیے تھی، آئی سی جے میں یہ کیس کیوں لڑا تھا؟

انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے واضح کیا تھا کہ دائرہ کار تسلیم نہیں کرنا چاہیے تھا یہ ان کی غلطی ہے۔

بعدازاں ڈپٹی اسپیکر نے بلاول بھٹو کی جانب سے کورم کی نشاندہی کے بعد کورم مکمل ہونے تک قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا۔

کلبھوشن کے معاملے پر دوبارہ غور کے لیے آرڈیننس

واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے مئی میں جاری کردہ ایک آرڈیننس کے ذریعے غیر ملکیوں، ان کے مجاز نمائندوں یا اپنے ملک کے وفد کے قونصلر عہدیداروں کو فوجی عدالتوں کی جانب سے سزا یا فرد جرم پر ہائی کورٹ کے ذریعے نظرثانی کرنے کی اجازت دی تھی۔

عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر صحیح طور سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے 28 مئی کو ’انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ریویو اینڈ ری کنسیڈریشن آرڈینسس 2020‘ نافذ کیا۔

اس آرٹیننس کے تحت 60 روز میں ایک درخواست کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نظرِ ثانی اور دوبارہ غور کی اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔

آرڈیننس کے سیکشن 20 کے تحت کلبھوشن یادیو بذات خود، قانونی اختیار رکھنے والے نمائندے یا بھارتی ہائی کمیشن کے قونصلر اہلکار کے ذریعے نظرِ ثانی اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کے لیے سرکاری وکیل مقرر کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تا کہ سزا سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جاسکے۔