چین کا جوابی اقدام، امریکا کو چینگڈو میں قونصل خانہ بند کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 24 جولائ 2020

ای میل

ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق یہ قونصل خانہ 1985 میں کھولا گیا تھا —تصویر: رائٹرز
ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق یہ قونصل خانہ 1985 میں کھولا گیا تھا —تصویر: رائٹرز

امریکا کی جانب سے ہیوسٹن میں قائم چینی قونصل خانہ بند کرنے کے حکم کے جواب چین نے امریکا کو چینگڈو شہر میں قونصل خانہ فوری طور پر بند کرنے کا حکم دے دیا۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جب امریکا نے چین کو ہیوسٹن کا قونصل خانہ 72 گھنٹوں میں خالی کرنے کا حکم دیا تھا تو چین نے خبردار کیا تھا کہ وہ جوابی کارروائی کرے گا ساتھ ہی امریکا پر زور دیا تھا کہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔

چینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’امریکا کے اقدام نے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی روایات کی علاوہ چین، امریکا قونصلر کنویشن کی شرائط کو پامال کیا‘۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’چین کی وزارت خارجہ ملک میں موجود امریکی سفارتخانے کو چینگڈو میں امریکی قونصل خانے کے افعال اور قیام کی رضامندی سے دستبردار ہونے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کررہی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا چینی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم، دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھ گئی

ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق یہ قونصل خانہ 1985 میں کھولا گیا تھا اور اس میں 200 ملازمین کام کرتے ہیں جن میں 150 ملازمین مقامی ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں کے کتنے امریکی اہلکار اب بھی موجود ہیں کیوں کہ کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد امریکی سفارتکاروں کی بڑی تعداد چین سے واپس چلی گئی تھی۔

گلوبل ٹائمز اخبار کے مطابق قونصل خانے کو بند کرنے کے لیے پیر کے روز صبح 10 بجے یعنی 72 گھنٹوں کا وقت دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے امریکی ڈپارٹمنٹ آف اسٹیٹ اور بیجنگ میں موجود امریکی سفارتخانے کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: سان فرانسکو میں چینی قونصل خانے میں مشتبہ 'محقق' کی پناہ پر نیا تنازع

تاہم اس فیصلے کے اثرات چینی اسٹاک مارکیٹ پر واضح طور پر نظر آئے اور بڑی تعداد میں حصص فروخت ہوئے۔

اس حوالے سے چین کے ایک سرکاری اخبار کے مدیر کا کہنا تھا کہ چین ڈرامائی طور پر ہانک کانگ میں موجود امریکی قونصل خانے کا عملہ کم کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔

شنگھائی یونیورسٹی میں امریکن اسٹیڈیز کے ایک پروفیسر کا کہنا تھا کہ چیگ ڈو قونصل خانہ ووہان کے قونصل خانے سے زیادہ اہم ہے کیوں کہ یہاں تبت اور چین کے پڑوسی علاقوں میں تیار کیے جانے والے اسٹریٹجک ہتھیاروں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان تعلقات رواں برس متعدد معاملات پر تنزلی کا شکار رہے جس میں تجارت، ٹیکنالوجی، کورونا وائرس اور چین کا جنوبی چینی سمندر پر دعویٰ اور ہانگ کانگ میں سیکیورٹی قانون نافذ کرنا شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین اور امریکا کے درمیان کورونا وائرس کے حوالے سے لفظی جنگ میں تیزی

یاد رہے کہ 2 روز قبل امریکا نے دانشورانہ املاک اور معلومات کے تحفظ کے لیے چین کو ہیوسٹن میں موجود قونصلیٹ تین دن میں بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

بعدازاں امریکا کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ سان فرانسکو میں واقع چین کے قونصل خانے میں ایک چینی سائنس دان نے پناہ لی ہے جو ویزا فراڈ میں ملوث ہے اور اس کے فوج سے خفیہ تعلقات ہیں۔

جس کے جواب میں وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک میں چینی اسکالرز کی نقل و حرکت کو محدود، انہیں ہراساں یا ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بہانے استعمال کررہے ہیں۔