'میں نہیں چاہتی کہ لیاری کی پہچان منشیات یا گن کلچر ہو‘

31 جولائ 2020

ای میل

مانا کہ لیاری میں غربت ہے لیکن یہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ دراصل یہاں لوگ اپنے شوق کو پورا کرنے کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہتے ہیں۔ بچپن کا شوق جنون میں ڈھل جاتا ہے اور جنون انہیں صلاحیتوں سے مالامال کردیتا ہے۔ محنت مزدوری کرنے والے بھی اپنے شوق کے لیے وقت نکالنا فرض سمجھتے ہیں۔

اگر ہم یہ کہیں کہ لیاری کی پہلی پہچان فٹبال کا کھیل ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ ہماری اس بات کی تصدیق لیاری کی فٹبالر مائیکاں واحد بلوچ بھی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یوں سمجھیے کہ فٹبال تو ہمیں جنیاتی طور پر وراثت میں ملی ہے۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے ہر جانب فٹبال کا کھیل اور جنون پایا۔ یہ کھیل یہاں کی ثقافت کا ایک اہم جزو بن چکا ہے۔

لیاری کی فٹبالر مائیکاں جب پہلی بار ککری گراؤنڈ میں لڑکوں کے ساتھ کھیلتی نظر آئیں تو یہ غیر معمولی لمحہ تھا۔ یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کہ ماضی قریب میں فٹبال صرف مردوں کا ہی کھیل سمجھا جاتا تھا، اسی وجہ سے لیاری میں تمام تر فٹبالر مرد تھے، لیکن اب یہ بڑی انقلابی تبدیلی آرہی ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی بال کو کِک مارتے ہیں۔ مائیکاں کا کہنا ہے کہ وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کھل کر کھیلتی ہیں۔ لیاری میں مائیکاں بہت سی لڑکیوں کے لیے فٹبال اسٹار ہیں۔

مائیکاں واحد بلوچ
مائیکاں واحد بلوچ

ان کی باتوں میں لیاری کی محبت جھلکتی ہے 'میں نہیں چاہتی کہ لیاری کی پہچان منشیات، گن کلچر سے ہو۔ چونکہ ہمارا یہ علاقہ شروع ہی سے کھیلوں کے ٹیلنٹ سے بھرپور رہا ہے لہٰذا اب ہم لیاری کو اس کی اصل پہچان واپس لوٹانا چاہتے ہیں'۔

جب ہم نے مائیکاں سے پوچھا کہ جب آپ فٹبال کٹ پہن کر کھیلنے گھر سے نکلتی ہیں تو اردگرد کے لوگوں کا ردِعمل کیسا ہوتا ہے؟

اس پر انہوں نے کہا کہ ’شروع میں تو ماحول سازگار نہیں تھا لیکن پھر بابا، امّاں اور بہنوں کی مسلسل حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہمت پیدا ہوتی گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کے رویوں میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔

مائیکاں اب پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھنا چاہتی۔ گھر سے میدان تک جانے کے بعد اب وہ لیاری سے باہر کراچی کے دیگر علاقوں اور سندھ کے مختلف شہروں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ 'مجھے پرائڈ آف سندھ سمیت کئی ایوارڈ اور انعامات سے نوازا گیا۔ ہماری اکیڈمی کی خوبی ہمارے کوچ جاوید جافا ہیں۔ ہم نے ان کی نگرانی میں کئی مقابلوں میں حصہ لیا ہے۔ اس وقت ہم 45 کے قریب لڑکیاں فٹبالر ہیں، اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ لڑکوں کی تعداد تو پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ ہماری اکیڈمی میں کوئی بھی ہیرو یا زیرو نہیں بلکہ تمام لڑکیوں اور لڑکوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ میں ابھی نیشنل چیمپئن کے طور کھیل چکی ہوں، لیکن مجھے اور بہت آگے جانا ہے'۔

میں نے جب ان سے پوچھا کہ لڑکوں کے ساتھ کھیلنے پر کسی نے اعتراض نہیں کیا؟

تو انہوں نے جواب دیا کہ 'نہیں بالکل نہیں، ہمارے والدین روشن خیال ہیں اور معاشرے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا انہیں احساس ہے، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ کم سے کم کھیل کے میدان میں تو صنفی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ لیاری جو مرد فٹبالر کا مسکن رہا ہے، اب وہاں لڑکیاں بھی اپنا لوہا منوائیں گی'۔

مائیکاں نے بتایا کہ جب انہوں نے لیاری سے باہر حیدرآباد میں پہلا گول کیا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور وہاں سے انہیں ایک نیا جذبہ ملا۔

بابا، امّاں اور بہنوں کی مسلسل حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہمت پیدا ہوتی گئی

مائیکاں لیاری کو کسی طور پر بھی دیگر علاقوں سے پیچھے تصور نہیں کرتیں، وہ کہتی ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو لیاری کی ہر گلی سے فٹبالر، فوٹو گرافر، آرٹسٹ، ریپر اور باکسر نہ نکلتا۔

ماضی قریب میں جب لیاری گینگ وار کا مرکز بنا ہوا تھا تو ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے مائیکاں کہتی ہیں کہ 'حالات کافی خراب تھے اور ہم پریشان بھی تھے۔ گولیوں کی گرج سن کر ڈر بھی لگتا تھا مگر ہم نے دھیرے دھیرے ڈر پر قابو پالیا اور فٹبال پریکٹس کا کوئی موقع نہیں گنوایا'۔

وہ کہتی ہیں کہ تمام افراد ایک بار پھر ہنستی بستی لیاری کو دیکھنا چاہتے ہیں جہاں چنچل بچے اور ہنستے مسکراتے چہرے گلی کوچوں کی رونق بنیں، اب محسوس ہوتا ہے کہ لیاری کی زندگی کے اصل رنگ نکھر کر سامنے آ رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ فٹبال جنون کی وجہ سے لیاری کو منی برازیل تو کہا جاتا ہے، لیکن یہاں مناسب سہولیات کا فقدان ہے۔ اگر سندھ کا محکمہ کھیل توجہ دے تو بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ ہم لیاری کے ساتھ سندھ کا نام بھی روشن کرنا چاہتے ہیں۔ اب بھی کئی بچے معاشی مشکلات کے باعث مایوسی کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں، بہت سی لڑکیاں اور ان کے والدین معاشی و معاشرتی دباؤ سے خائف ہیں۔ اگر یہاں کی لڑکیوں اور لڑکوں کو اپنا ٹیلنٹ دکھانے کے مواقع ملیں تو امن کو مزید فروغ ملے گا اور وہ منشیات سے تو کوسوں دُور چلے جائیں گے۔

مزید پڑھیے: جب فٹبال ہیڈکوارٹرز گینگ ہیڈکوارٹرز بن گیا

لیاری سے تعلق رکھنے والے سمین ابراہیم فٹبال کے ٹرینر کوچ ہیں۔ وہ 16 برسوں تک پروفیشنل فٹبال کھلاڑی رہے اور اس دوران نجی بینک اور قومی ٹیم کے لیے بھی کھیل چکے ہیں۔ وہ لیاری میں فٹبال کے کھیل سے مایوس نہیں ہیں۔

لیاری میں مائیکاں بہت سی لڑکیوں کے لیے فٹبال اسٹار ہیں
لیاری میں مائیکاں بہت سی لڑکیوں کے لیے فٹبال اسٹار ہیں

وہ سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے کھلاڑیوں کے معاشی حالات ٹھیک کرنا ہوں گے ورنہ لیاری کا ٹیلنٹ ضائع ہوجائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'پہلے 25 سے 30 ایسے محکمے تھے جہاں اسپورٹس میں بچوں کو ملازمتیں ملتی تھیں لیکن اب ان کے دروازے لیاری کے نوجوانوں کے لیے بند ہوچکے ہیں۔ لیاری میں فٹبال کلبوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن کھلاڑیوں کی مالی طور پر مدد کرنے والا کوئی نہیں'۔

سمین ابراہیم نے کھیلوں کی سرگرمیوں کی اہمیت اور افادیت کو سمجھاتے ہوئے بتایا کہ جب نوجوانوں کو کھیلوں جیسی صحت بخش تفریحی سرگرمیوں کے مواقع میسر نہیں ہوتے تو وہ منشیات اور دیگر ایسی ہی برائیوں کی جانب مائل ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے بتایا کہ 'ایسا بھی ایک وقت تھا جب کے ایم سی، واٹر بورڈ، نیشنل بینک، پی آئی اے، پورٹ قاسم، اسٹیل ملز کی اپنی اپنی ٹیمیں ہوا کرتی تھیں، لیکن اب چڑیا کھیت چگ چکی ہیں۔ ویرانہ ہی ویرانہ ہے۔ اب تو اچھی تربیت کرنے والے استاد بھی نہیں رہے جبکہ دیگر کھیلوں کی طرح فٹبال کے سینئر کھلاڑیوں کو بھی بھلا دیا گیا ہے'۔

سمین ابراہیم نے گفتگو کے دوران بتایا کہ ’میں متحدہ عرب امارات، عمان، انڈیا، نیپال اور بنگلہ دیش میں فٹبال کھیل چکا ہوں اور ان ممالک میں آج بھی کیپٹن عمر، یعقوب، عبداللہ راہی، ماسٹر امین جیسے لیاری کے سینئر کھلاڑیوں کا بڑا ہی احترام پایا جاتا ہے۔ کھلاڑی تو کسی بھی ملک کے سفیر ہوتے ہیں اور ان کا تاحیات خیال رکھا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں تو وہ زندگی کے آخری ایّام میں کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہوئے چل بستے ہیں۔

مزید پڑھیے: فٹبال کی کہانی، اسی کی زبانی

فٹبال ایسوسی ایشن سندھ کے صدر ناصر کریم سے جب ہم نے سندھ اور بالخصوص کراچی کے علاقے لیاری میں فٹبال کی حالتِ زار اور بڑے کھلاڑیوں کے منظرِ عام پر نہ آنے کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ماضی میں مختلف محکمے فٹبالروں کی مدد کرتے تھے، ان کی جسمانی اور ذہنی صحت اچھی تھی، لیکن اب تو کھلاڑیوں کی نیند بھی پوری نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے ایک سے زائد جگہوں پر کام کرتے ہیں۔ معاشی مشکلات کے باعث وہ فٹنس اور کھیل کی جانب اپنی پوری توجہ مرکوز نہیں کرپا رہے ہیں۔

ناصر کریم نے بتایا کہ سندھ کے 23 ایسے محکمے ہیں جہاں فٹبال کی ٹیمیں ختم ہوچکی ہیں۔ حتیٰ کہ کے ایم سی کی فٹبال ٹیم بھی ختم کردی گئی، اب آپ ہی بتائیے کہ ایسے حالات میں فٹبال کا کوئی بڑا نام کیسے پیدا ہوگا؟