کورونا وائرس موسمی نہیں، ایک بڑی لہر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2020

ای میل

یہی بہتر ہے کہ اس کا خاتمہ کردیا جائے، عہدیدار عالمی ادارہ صحت — فائل فوٹو / اے پی پی
یہی بہتر ہے کہ اس کا خاتمہ کردیا جائے، عہدیدار عالمی ادارہ صحت — فائل فوٹو / اے پی پی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کو 'ایک بڑی لہر' قرار دیتے ہوئے شمالی نصف کرہ میں موسم گرما کے دوران وبا کی منتقلی سے متعلق خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس انفلوئنزا کی طرح نہیں جو موسمی رجحانات کی پیروی کرے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق جنیوا میں ورچوئل بریفنگ کے دوران عالمی ادارہ صحت کی عہدیدار مارگریٹ ہیریس نے کہا کہ لوگ تاحال موسموں کے بارے میں سوچ رہے ہیں، لیکن ہم سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ نیا وائرس ہے اور یہ مختلف طرح سے برتاؤ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی وبا کی پہلی لہر ہے، یہ 'ایک بڑی لہر' بننے جارہا ہے، اس میں اتار چڑھاؤ آئیں گے لہٰذا یہی بہتر ہے کہ اس کا خاتمہ کردیا جائے۔

مارگریٹ ہیرس نے امریکا میں گرمی کے موسم کے باوجود بڑھتے ہوئے کیسز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وائرس کی سست منتقلی کے لیے اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ یہ لوگوں کے بڑے اجتماعات کے ذریعے پھیل رہا ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی ادارہ صحت کا یورپ میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے پر اظہار تشویش

انہوں نے شمالی نصف کرہ میں سردی کے دوران موسمی انفلوئنزا کے ساتھ کورونا کیسز سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ایچ او اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک لیبارٹری نمونوں میں انفلوئنزا کے زیادہ کیسز سامنے نہیں آئے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او عہدیدار نے کہا کہ 'اگر سانس کی بیماری اس وقت بڑھے جب آپ پر پہلے ہی سانس کی بیماری کا بہت زیادہ بوجھ ہو، تو یہ صحت کے نظام پر اور زیادہ دباؤ ڈالے گا۔'

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت اس سے قبل بھی کئی بار کورونا وائرس کے سنگین صورتحال اختیار کرنے سے متعلق اپنی تشویش و خدشات کا اظہار کرچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈبلیو ایچ او کا وائرس کی روک تھام کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپنانے پر زور

عالمی ادارے کی جانب سے وبا کے کیسز میں کمی کے بعد بندشوں میں نرمی اور معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کے حوالے سے سخت تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

دنیا بھر میں مہلک وائرس اب تک ایک کروڑ 64 لاکھ 26 ہزار سے زائد لوگوں کو متاثر اور 6 لاکھ 54 ہزار سے زائد اموات کا سبب بن چکا ہے۔