ٹرمپ کی انتخابی مہم، خاندان کے افراد، قریبی ساتھیوں کو رقم دینے کا الزام

30 جولائ 2020

ای میل

امریکا میں 3 نومبر کو صدارتی انتخاب ہوگا—فائل/فوٹو:اے پی
امریکا میں 3 نومبر کو صدارتی انتخاب ہوگا—فائل/فوٹو:اے پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں کروڑوں ڈالر اضافی خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ خاندان کے افراد اور قریبی ساتھیوں کو کمپنیوں کے ذریعے خطیر رقم منتقل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

سی این سی بی کی رپورٹ کے مطابق غیرمنافع بخش تنظیم نے فیڈرل الیکشن کمیشن (ایف ای سی) میں صدرڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں قانون کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات پر مبنی درخواست دائر کردی ہے۔

مزید پڑھیں:امریکی صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان

کمپین لیگل سینٹر کا کہنا تھا کہ 81 صفحات پر مشتمل درخواست میں صدر کی مہم اور مہم کمیٹی پر 17 کروڑ ڈالر اہم افراد پر خرچ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان افراد میں ٹرمپ کے خاندان کے افراد اور قریبی ساتھیوں کو بھی بریڈ پارسکیل کی سرابراہی میں چلنے والی کمپنیوں کے ذریعے نوازنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

بریڈ پاسکیل رواں ماہ کے اوائل میں مہم کے دیگر اہم عہدیداروں کے ہمراہ منیجر کے طور پر شامل ہوئے تھے۔

درخواست گزار تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ مہم کو مؤثر انداز میں داغدار کیا گیا ہے، ٹھیکیداروں، مشیروں سمیت مہم کی ایپ بنانے والوں کو بڑی رقم منتقل کی گئی ہے۔

انہوں نے درخواست میں کہا ہے کہ جن افراد کو رقم منتقل کی گئی ان میں صدر کی بہولارا ٹرمپ، فوکس نیوزکی سابق میزبان اور صدر ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی منگیتر کمبرلی گوئیلفوائل بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عہدہ سنبھالتے ہی 'مسلمانوں پر پابندی' ختم کردوں گا، امریکی صدارتی امیدوار

کمپین لیگل سینٹر کے صدر اور ریپبلکن کے سابق مالی امور کے سربراہ ٹریور پوٹر کا کہنا تھا کہ 'یہ اسکیم وفاقی قانون کی دھجیاں اڑارہی ہے اور ووٹرز کے ساتھ ساتھ فنڈز دینے والوں کو اندھیرے میں رکھا گیا ہے کہ مہم کا پیسہ کہاں خرچ ہورہا ہے'۔

رپورٹ کے مطابق اس درخواست پر جرمانے کی امکانات کم ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن کے پاس صرف تین کمشنرز ہیں جبکہ کارروائی کا فیصلہ سنانے کے لیے 4 کمشنرز کا ووٹ درکار ہوتا ہے۔

قبل ازیں ری پبلکن کمشنر کیرولین ہنٹر نے گزشتہ ماہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد ایک نشست خالی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم کے ترجمان ٹم نے اپنے بیان میں کہا کہ 'صدر کی مہم تمام مالی قوانین اور الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق ہے'۔

درخواست گزارنے کہا ہے کہ ٹرمپ کی مہم اور ٹرمپ میک امریکا گریٹ اگین کمیٹی نے امریکن میڈ میڈیا ہولڈنگ کارپوریشن کے ذریعے اپنے اخراجات کو چھپایا۔

انہوں نے کہا کہ اس کمپنی کے ڈائریکٹرز خود مہم کا حصہ ہیں، جن میں آپریشن ڈائریکٹر سین ڈولمین اور مہم کے مشیر الیکس کینن شامل ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ پارسکیل کی معاونتی کمپنی پارسکیل اسٹیریٹجی کے ذریعے چھپایا گیا۔

مزید پڑھیں:کانیے ویسٹ نے صدارتی انتخابات کیلئے مہم کا آغاز کردیا

خیال رہے کہ امریکا کے وفاقی انتخابی قوانین مہم میں 200 ڈالر سے زائد خرچ کرنے پر اس کی وضاحت کرنے کا پابند کرتے ہیں جبکہ شکایت کنندہ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی مہم میں غیرقانونی طریقے سے فنڈز کے استعمال کو جان بوجھ کر چھپایا۔

درخواست گزار نے کہا کہ ان اسکیموں میں مہم کے لیے کام کرنے والی کمپنیوں کو لاکھوں کی ادائیگیاں کی گئیں اور لارا ٹرمپ اور کمبرلی جیسی ٹرمپ کے خاندان کے اراکین اور مہم کے سینئرافراد کو بھی رقم دی گئی۔

خیال رہے کہ امریکا میں رواں سال تین نومبر کو 46 ویں صدر کے لیے انتخابات ہوں گے اور نئے صدر کے لیے ری پبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔