'زندگی تماشا' پر پابندی کی درخواست پر بحث کیلئے فلم کی ٹیم عدالت طلب

اپ ڈیٹ 30 جولائ 2020

ای میل

فلم کے خلاف مذہبی تنظیموں کے احتجاج کی وجہ سے اس کی نمائش روک دی گئی تھی—اسکرین شاٹ
فلم کے خلاف مذہبی تنظیموں کے احتجاج کی وجہ سے اس کی نمائش روک دی گئی تھی—اسکرین شاٹ

فلم ساز سرمد کھوسٹ کی آنے والی فلم 'زندگی تماشا' پر تاحیات پابندی لگانے کے لیے دائر درخواست پر بحث کے لیے لاہور کی مقامی عدالت نے فلم ساز کی قانونی ٹیم کو حتمی بحث کے لیے طلب کرلیا۔

واضح رہے کہ 'زندگی تماشا' پر تاحیات پابندی کے لیے انجمن ماہریہ نصیریہ نامی سماجی تنظیم نے 16 جولائی کو لاہور کی سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

تنظیم کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر 16 جولائی کو ہی ایڈیشنل سیشن جج وسیم احمد نے مختصر سماعت کے بعد سرمد کھوسٹ سے 27 جولائی تک جواب طلب کیا تھا۔

تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ فلم میں مذہبی فرقے کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اگر فلم ریلیز ہوئی تو معاشرے میں ہنگامہ برپا ہوجائے گا۔

مزید برآں درخواست میں عدالت سے زندگی تماشا پر تاحیات پابندی عائد کرنے کی استدعا بھی کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: 'زندگی تماشا' پر تاحیات پابندی کے لیے عدالت میں درخواست

درخواست دائر کیے جانے کے بعد 30 جولائی کو سیشن کورٹ میں مذکورہ کیس پر دوبارہ مختصر سماعت ہوئی اور ایڈیشنل سیشن جج شکیل امین نے فلم پر حتمی بحث کے لیے سرمد کھوسٹ اور ان کے وکلا کو آئندہ ماہ 8 اگست کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ 'زندگی تماشا' پر تاحیات پابندی کے لیے درخواست ایک ایسے وقت میں دائر کی گئی جب حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت دی تھی۔

فلم کو ابتدائی طور پر رواں برس کے آغاز میں ریلیز کیا جانا تھا—اسکرین شاٹ
فلم کو ابتدائی طور پر رواں برس کے آغاز میں ریلیز کیا جانا تھا—اسکرین شاٹ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے 14 جولائی کو کہا تھا کہ کمیٹی نے فلم کا جائزہ لیا، تاہم فلم میں کوئی بھی قابل اعتراض مواد نہیں پایا گیا۔

کمیٹی کے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ 'زندگی تماشا' کو کورونا وبا کے بعد ریلیز کیا جا سکتا ہے۔

یہاں یہ مدنظر رہے کہ 'زندگی تماشا' کا ٹریلر گزشتہ برس سامنے آیا تھا اور مذکورہ فلم کو جنوبی کوریا میں ہونے والے بوسان فلم میں پیش بھی کیا جا چکا ہے۔

مزید پڑھیں: سینیٹ کمیٹی نے فلم 'زندگی تماشا' ریلیز کرنے کی منظوری دے دی

فلم کا ٹریلر سامنے آنے کے بعد مذہبی جماعت نے فلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد فلم ساز نے ابتدائی طور پر فلم کا ٹریلر یوٹیوب سے ہٹایا تھا جبکہ بعد ازاں حکومت نے فلم کی نمائش بھی روک دی تھی۔

اگرچہ فلم سینسر بورڈ نے ابتدائی طور پر فلم کو ریلیز کے لیے کلیئر قرار دیا تھا، تاہم مذہبی جماعت کے احتجاج کے بعد وفاقی حکومت نے فلم کی نمائش روکتے ہوئے معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

فلم پر مذہبی افراد کو غلط انداز میں دکھائے جانے کا الزام ہے—اسکرین شاٹ
فلم پر مذہبی افراد کو غلط انداز میں دکھائے جانے کا الزام ہے—اسکرین شاٹ

فلم کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھجوائے جانے کے بعد سینیٹ کی انسانی حقوق سے متعلق ذیلی کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فلم کا جائزہ لیا اور کمیٹی نے 14 جولائی کو فلم کو ریلیز کے لیے کلیئر قرار دیا تھا۔

فلم کی نمائش روکے جانے اور مذہبی تنظیم کی جانب سے فلم کے خلاف مظاہروں کی دھمکیوں کے بعد فلم ساز سرمد کھوسٹ نے لاہور کی سول کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی، تاہم تاحال ان کی درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں آیا۔

یاد رہے کہ ’زندگی تماشا‘ پر مذہبی افراد کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے جب کہ فلم ساز ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ فلم کی کہانی ’ایک اچھے مولوی کے گرد گھومتی ہے اور فلم میں کسی بھی انفرادی شخص، کسی فرقے یا مذہب کی غلط ترجمانی نہیں کی گئی‘۔

مذہبی جماعتوں کے احتجاج کی وجہ سے فلم کا ٹریلر بھی یوٹیوب سے ہٹادیا گیا تھا—اسکرین شاٹ
مذہبی جماعتوں کے احتجاج کی وجہ سے فلم کا ٹریلر بھی یوٹیوب سے ہٹادیا گیا تھا—اسکرین شاٹ