کووڈ 19 کے نتیجے میں ہواوے نے ناممکن کو ممکن کردکھایا

30 جولائ 2020

ای میل

— رائٹرز فوٹو
— رائٹرز فوٹو

ہواوے نے رواں سال اپریل میں کئی سال کی کوششوں کے بعد پہلی بار سام سنگ سے دنیا کی نمبرون کمپنی کا اعزاز چھین کر اپنے نام کیا تھا۔

اب امریکی پابندیوں سے مشکلات کی شکار کمپنی نے اپریل سے جون تک کی سہ ماہی کے دوران دنیا کی نمبرون کمپنی کا اعزاز اپنے نام کرکے سام سنگ کو نیچے دھکیل دیا ہے۔

چینی میڈیا کی رپورٹ میں ٹیکنالوجی مارکیٹ کا تجزیہ کرنے والی کمپنی کانالیز کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہواوے نے اپریل سے جون کے دوران 5 کروڑ 58 لاکھ ڈیوائسز فروخت کیں جبکہ اس عرصے میں سام سنگ ڈیوائسز کی تداد 5 کروڑ 37 لاکھ تھی۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کی آمدنی میں اضافہ

امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کی جانب سے سام سنگ کو پیچھے چھوڑنے میں چینی مارکیٹ نے اہم کردار ادا کیا کیونکہ عالمی سطح پر فونز کی فروخت کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں کم ہوچکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہواوے نے اپنے دوتہائی فونز چین میں فروخت کیے، جہاں کورونا وائرس کی وبا دنیا میں سب سے پہلے پھیلی تھی مگر اب وہاں صورتحال کافی بہتر ہوچکی ہے۔

اس کے مقابلے میں دیگر ممالک میں کورونا وائرس کے نئے کیسز میں اضافے کے نتیجے میں دیگر کمپنیوں کی فروخت متاثر ہوئی ہے۔

اپریل سے جون کے دوران ہواوے کی ڈیوائسز کی فروخت میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5 فیصد کمی آئئی جبکہ سام سنگ فونز کی طلب میں 30 فیصد کمی دیکھی گئی جس کی وجہ اس کی اہم مارکیٹوں بشمول برازیل، امریکا اور یورپ میں وبائی مرض کی صورتحال ہے۔

چین سے باہر ہواوے کے فونز کی فروخت میں سال کی دوسری سہ ماہی میں 27 فیصد کمی آئی مگر چین میں فروخت 8 فیصد بڑھ گئی اور اب وہاں اس کمپنی کا مارکیٹ شیئر 70 فیصد سے زیادہ ہوچکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس حیران کن نتیجے کا بیشتر افراد نے ایک سال پہلے اندازہ بھی نہیں لگایا تھا، اگر کووڈ 19 کی وبا نہ پھیلتی تو ہواوے کے لیے سام سنگ کی جگہ لینا بھی ممکن نہ ہوتا۔

سخت لاک ڈاؤنز کے نتیجے میں متعدد ممالک میں اسمارٹ فون کی مانگ لگ بھگ صفر تک پہنچ گئی جبکہ چین میں کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے بعد سے مارچ 2020 سے معاشی بحالی پر کام کررہا تھا، اس طرح ہواوے کے لیے سب سے اہم مارکیٹ اوپن ہوگئی۔

خیال رہے کہ گوگل سروسز سے محرومی کے باعث چین سے باہر دیگر خطوں میں ہواوے کے نئے فونز کی فروخت میں کمی آئی ہے۔

اب ہواوے کی یہ کامیابی آئندہ کب تک برقرار رہ پاتی ہے وہ تو کہنا مشکل ہے کیونکہ عالمی سطح پر وبا کی پابندیوں میں نرمی آرہی ہے اور سام سنگ کی فروخت میں دوبارہ اضافے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ 2019 ہواوے کے لیے ایک اچھا سال ثابت ہوا تھا اور اس نے عالمی سطح پر اپنی دوسری پوزیشن کو امریکی پابندیوں کے باوجود برقرار رکھا تھا۔

واضح رہے کہ نوول کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں 2020 کی پہلی سہ ماہی کے دوران اسمارٹ فون مارکیٹ کو تاریخ کی سب سے بدترین کمی کا سامنا ہوا ہے۔

ڈیوائسز کی فروخت پر نظر رکھنے والی کمپنی گارٹنر کی رپورٹ کے مطابق جنوری سے مارچ کے دوران اسمارٹ فونز کی فروخت میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20.2 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دسمبر سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں چین میں متعدد کمپنیوں کی ڈیوائسز کی تیاری اور فروخت متاثر ہوئی اور پھر یہ وائرس دنیا بھر میں پھیل کر اسمارٹ فونز کی فروخت کو متاثر کرنے میں کامیاب رہا۔

رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران سب سے زیادہ فونز سام سنگ نے فروخت کیے جن کی تعداد 55 ملین سے زیادہ اور مارکیٹ شیئر 18.5 فیصد رہا مگر گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں جنوبی کورین کمپنی کو 22.7 فیصد کمی کا سامنا ہوا۔

مزید پڑھیں : کورونا وائرس، بھارت میں اسمارٹ فونز کمپنیوں کی پروڈکشن شروع

اسی طرح 14.2 فیصد شیئر کے ساتھ ہواوے دوسرے نمبر پر رہا جس نے 42 ملین سے زیادہ فونز فروخت کیے مگر اسے اس سہ ماہی کے دوران 27.3 فیصد کمی کا سامنا ہوا۔

کورونا وائرس کی وبا کے ساتھ ساتھ چینی کمپنی کو امریکی پابندیوں کے نتیجے میں بھی فونز کی فروخت میں سب سے زیادہ کمی کا سامنا ہوا۔

ایپل 13.7 فیصد کے تیسرے نمبر پر موجود ہے اور 40 ملین سے زیادہ آئی فونز فروخت کیے، مگر ڈیوائسز کی فروخت میں اس سہ ماہی کے دوران 8.2 فیصد کمی آئی۔