دو شیروں پر تشدد اور قتل کا مقدمہ تین افراد کیخلاف درج

02 اگست 2020

ای میل

شیر اور شیرنی دونوں 8سال کے تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی
شیر اور شیرنی دونوں 8سال کے تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: مبینہ طور پر تشدد کے نتیجے میں شیروں کی موت کا مقدمہ تین افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 429 اور اینیمل ایکٹ 1990 کی دفعہ 5 کے تحت اسلام آباد کے کوہسار پولیس اسٹیشن میں صحافی شکیل احمد کی شکایت پر درج کیا گیا۔

مزید پڑھیں: لاک ڈاؤن کے دوران شیروں نے سڑکوں پر ڈیرے جمالیے

ایف آئی آر کے مطابق ویڈیو میں تین افراد کو اسلام آباد کے چڑیا گھر میں جانوروں کے پنجرے میں آگ جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے تاکہ وہ اندر جا سکیں، انہوں نے شیر کو باہر بلانے کے لیے اسے لکڑی سے مارا، دونوں شیر بعد میں مر گئے اور انہیں قصور میں شیروں کی افزائش کی جگہ پر لے جایا گیا اور اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔

پولیس نے شکایت گزار کو واقعے کی فوٹیج جمع کرانے کی ہدایت کی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی امین اسلم نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے تاکہ دونوں شیروں کی موت کے ذمے داران کا پتہ چلایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: جب شیروں اور ایک زرافے کے درمیان 5 گھنٹے طویل جنگ ہوئی

اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر اس جوڑے کو مارغزار چڑیا منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن یہ قصور جاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

شیر اور شیری دونوں 8سال کے تھے، انہیں 2016 میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور حکومت پنجاب کے درمیان جانوروں اور پرندوں کے ایکسچینج پروگرام کے تحت لاہور سفاری پارک لایا گیا تھا۔

یہ خبر یکم اگست 2020 بروز ہفتہ ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔