لڑکی کی لڑکی سے شادی کا معاملہ: 'دلہا' کے وارنٹ گرفتاری جاری

اپ ڈیٹ 04 اگست 2020

ای میل

عدالت نے کہا کہ کل تک اگر مبینہ دلہا پیش نہ ہوا تو ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کریں گے—فائل فوٹو: ٹوئٹر
عدالت نے کہا کہ کل تک اگر مبینہ دلہا پیش نہ ہوا تو ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کریں گے—فائل فوٹو: ٹوئٹر

لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے جنس تبدیلی کے بعد لڑکی سے لڑکا بن کر شادی کرنے کے معاملے میں عدم حاضری پر لڑکا بننے کے دعویدار دلہا علی آکاش (عاصمہ بی بی) کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

عدالت عالیہ کے راولپنڈی بینچ کے جج چوہدری عبدالعزیز کے سامنے ٹیکسلا میں مبینہ طور پر لڑکی کی لڑکی سے شادی کے معاملے پر سماعت ہوئی۔

واضح رہے کہ لڑکی نیہا علی کے والد کی جانب سے اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: جنس تبدیلی کے بعد لڑکی کی لڑکی سے شادی، معاملے پر میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

اس معاملے پر پہلی سماعت میں عدالت نے میڈیکل بورڈ قائم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم معاملے کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں ابھی تک پیش نہیں کی جاسکی جبکہ یہ بات بھی سامنے آئی کی جنس تبدیلی کے بعد لڑکا بننے کا دعویٰ کرنے والے علی آکاش (عاصمہ بی بی) نے اپنی مبینہ بیوی نیہا علی کو طلاق دے دی ہے اور لڑکی اب شیلٹر ہوم لاہور میں موجود ہے۔

تاہم جب آج عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی تو علی آکاش اور نیہا علی کی عدم حاضری پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

ساتھ ہی عدالت نے پوچھا کہ مبینہ شوہر کہاں ہے؟ وہ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوا؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ علی آکاش بیمار ہے اور عدالت نہیں آسکتا، اس پر عدالت نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

عدالت نے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ٹیکسلا اور ایس ایچ او گارڈن ٹاؤن لاہور کو مبینہ شوہر کو گرفتار کرکے 5 اگست کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے ریمارکس دیے کہ عدالت اپنے احکامات پر عمل کرانا جانتی ہے، اگر کل علی آکاش پیش نہ ہوا تو ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتار جاری کریں گے۔

علاوہ ازیں عدالت میں لڑکا بننے کا دعوے دار علی آکاش اور نیہا علی کے درمیان ہوئے مبینہ طلاق نامے کو بھی پیش کیا گیا، جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

معاملے کا پس منظر

خیال رہے کہ ٹیکسلا کی رہائشی مبینہ طور پر ان دونوں لڑکیوں نے آپس میں شادی کی تھی۔

تاہم عاصمہ بی بی نے اپنی جنس تبدیل کرواکر شناختی کارڈ میں اپنا نیا نام آکاش رکھا تھا، دونوں نے عدالت میں پیش ہوکر کورٹ میرج کی تھی۔

تاہم دلہن یعنی نیہا کے والد کو معاملے کا پتا لگنے پر انہوں نے اسے لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ کے سامنے چیلنج کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جنس تبدیلی کی خواہشمند خاتون کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

عدالت میں یہ درخواست وکیل راجا امجد جنجوعہ کے توسط سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ دونوں لڑکیوں کے نکاح نامے کا اندراج کنٹونمنٹ بورڈ وارڈ 10 میں ہوا۔

وکیل کے مطابق آکاش علی کے لڑکی ہونے کی تمام دستاویزات عدالت کو فراہم کی گئیں جبکہ نادرا سے عاصمہ بی بی نے اپنا شناختی کارڈ تبدیل کروایا۔

امجد جنجوعہ کے مطابق عاصمہ بی بی کہتی ہیں کہ انہوں نے جنس تبدیل کروائی جبکہ پاکستان میں جنس کی تبدیلی ناممکن بھی ہے اور یہ غیر شرعی عمل بھی ہے۔