جب شادی کے فوٹوشوٹ کے دوران بیروت دھماکوں سے لرز اٹھا

اپ ڈیٹ 06 اگست 2020

ای میل

ڈاکٹر دلہن دھماکوں کے عین وقت فوٹو شوٹ کروا رہی تھیں—فوٹو: محمد نقیب
ڈاکٹر دلہن دھماکوں کے عین وقت فوٹو شوٹ کروا رہی تھیں—فوٹو: محمد نقیب

مشرق وسطی کے ملک لبنان کے دارالحکومت بیروت میں 4 اگست کو ہونے والے دھماکوں سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 135 تک جا پہنچی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد بھی بڑھ کر 5 ہزار تک پہنچ گئی۔

بیروت 4 اگست کو اس وقت دھماکوں سے لرز اٹھا تھا جب وہاں کے ہزاروں شہری اپنے روز مرہ کے معمولات میں مصروف تھے۔

دھماکے بیروت کی بندرگاہ میں ہوئے اور دھماکوں سے بندرگاہ کے قریبی علاقوں میں بھی شدید نقصان ہوا جس کا تخمینہ تقریبا 5 ارب ڈالر لگایا جا رہا ہے۔

دھماکوں سے درجنوں عمارتیں منہدم ہوگئیں، درجنوں گاڑیاں اور دیگر تنصیبات بھی شدید متاثر ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: بیروت دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 135 سے تجاوز کر گئی، 5 ہزار زخمی

اگرچہ تاحال واضح طور پر دھماکوں کا سبب سامنے نہیں آ سکا، تاہم متعدد مصری حکام کے مطابق دھماکے بندرگاہ کے ایک گودام میں 6 سال سے پڑے 2 ہزار 700 ٹن سے زائد امونیم نائٹریٹ نامی دھماکا خیز مواد کے پھٹنے سے ہوئے۔

دھماکے اس قدر شدید تھے کہ ان کی آوازیں پڑوسی ملک اسرائیل کے شہر قبرص تک سنی گئیں اور دھماکوں کے بعد بیروت کو آفت زدہ مقام بھی قرار دیا گیا۔

جس وقت بیروت دھماکوں سے لرز اٹھا، عین اس وقت بیروت کے فوٹوگرافر محمد نقیب معمول کے مطابق نو بیاہتا جوڑے کا فوٹو شوٹ کر رہے تھے۔

محمد نقیب اپنے کیمروں اور موبائل کے ذریعے 29 سالہ دلہن اسریٰ سیبلانی اور ان کے 34 سالہ شوہر احمد صبیح کا فوٹو شوٹ کرنے میں مصروف تھے۔

محمد نقیب کی شوٹ کی گئی دولہا اور دلہن کی ویڈیو ابتدائی طور پر لبنانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر میں وائرل ہوگئی اور لوگوں نے نو بیاہتا جوڑے کی بہادری کی تعریفیں کیں۔

وائرل ہونے والی ویڈیو میں دلہن کو سفید رنگ کے عروسی لباس میں بیروت کے بندرگاہ کے قریب ہاربر کے علاقے کی گلیوں میں فوٹو شوٹ کرواتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

مختصر دورانیے کی ویڈیو میں اس وقت اچانک دلہن اور دیگر افراد کو پریشان ہوکر محفوظ مقام کی جانب بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب بیروت دھماکوں سے لرز اٹھا۔

مزید پڑھیں: بیروت دھماکا: امونیم نائٹریٹ نے لبنان کو کیسے خون میں نہلایا

ویڈیو میں ابتدائی طور پر دلہن کو انتہائی خوشگوار موڈ میں فوٹو شوٹ کرواتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور بعد ازاں انہیں اپنے دلہا کے ساتھ محفوظ مقام کی جانب پریشانی کے عالم میں بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

فوٹو گرافر محمد نقیب کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کئی نشریاتی اداروں نے فوٹوگرافر سمیت دلہا اور دلہن سے بھی بات کرکے تاثرات جاننے کی کوشش کی۔

فوٹو شوٹ کروانے والے دلہا، دلہن نے دھماکوں سے قبل شادی کی تھی—فوٹو: رائٹرز
فوٹو شوٹ کروانے والے دلہا، دلہن نے دھماکوں سے قبل شادی کی تھی—فوٹو: رائٹرز

خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے دلہا اور دلہن نے واقعے کو خوفناک مگر یادگار قرار دیا۔

خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے دلہن اور دلہا نے اعتراف کیا کہ دھماکوں کی شدت اتنی تھی کہ وہ خوف زدہ ہوگئے اور ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ وہ محفوظ اور سلامت رہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کی بیروت دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید

فوٹوگرافر محمد نقیب نے یورو نیوز سے بات کرتے ہوئے شادی کے فوٹو شوٹ کو یادگار قرار دیا اور کہا کہ وہ بھی دھماکوں کی شدت سے پریشان ہوگئے تھے، جس وجہ سے انہوں نے شادی کا فوٹو شوٹ چھوڑ کر دھماکوں سے ہونے والی تباہی کو شوٹ کرنا شروع کردیا تھا۔

انہوں نے دھماکوں کے باوجود فوٹو شوٹ کے مقام پر موجود رہنے پر دلہا اور دلہن کی ہمت کی تعریف بھی کی اور ساتھ ہی کہا کہ انہیں یہ موقع اسریٰ اور احمد نے فراہم کیا۔