بیروت دھماکا: امونیم نائٹریٹ نے لبنان کو کیسے خون میں نہلایا

اپ ڈیٹ 06 اگست 2020

ای میل

بیروت دھماکے میں آخری اطلاعات تک 135 افراد ہلاک ہوگئے تھے—فوٹو:اے ایف ٌپی
بیروت دھماکے میں آخری اطلاعات تک 135 افراد ہلاک ہوگئے تھے—فوٹو:اے ایف ٌپی

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دھماکے سے 135 سے زائد افراد ہلاک اور 5 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ خدشہ ہے کہ دھماکا امونیم نائٹریٹ کے ڈپو میں ہوا۔

سی نیٹ کی رپورٹ میں وزیراعظم حسن دیاب کے بیان کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہاتھا کہ ڈپو میں 2 ہزار 700 ٹن سے زائد نیوامونیم نائٹریٹ ذخیرہ تھا اور تقریباً 6 برس سے پورٹ میں رکھا ہوا تھا۔

مزید پڑھیں:بیروت دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 135 سے تجاوز کر گئی، 5 ہزار زخمی

امونیم نائٹریٹ کے دھماکے کی نوعیت مسلمہ ہے اور اس کو 1995 میں اوکلاہاما سٹی بمباری سمیت اکثر دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

آئیے ان سوالوں کے جوابات ڈھونڈتے ہیں کہ امونیم نائٹریٹ کیا ہے، یہ دھماکا خیز کیوں ہے اور ہم اس کو استعمال کیوں کرتے ہیں۔

امونیم نائٹریٹ نائٹروجن(ہائیڈروجن اورآکسیجن) پر مشتمل کیمیکلز کا مجموعہ ہے اور اس کو زراعت میں کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

جو پودے فوٹوسینتھیسس پر انحصار کرتے ہیں وہ کلوروفل کو استعمال کرتے سورج کی روشنی کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔

نائٹروجن اس عمل کے لیے بنیادی جز ہے اور امونیم نائٹریٹ پودوں کی نشوونما کے لیے دیگر کھادوں کے مقابلے میں خاص طور پر اچھا ہے، اس ردعمل کے اثرات نقصان دہ نہیں ہیں اوریہ فضا میں بھی پائی جاتی ہے لیکن یہ عمل توانائی کی ایک بڑی مقدار کو خارج کردیتا ہے۔

یہ دھماکا خیز مواد کا بھی مجموعہ بھی ہے اور دنیا بھر میں کان کنی اور تعمیرات میں توڑ پھوڑ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

معمول کے حالات میں یہ کیمکل بالکل محفوظ ہے، یہ آلودگی یا ایندھن کے تیل اور پھر گرمی کی شدت سے پڑنے والی اثرات سے پھٹ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان کے دارالحکومت میں زور دار دھماکا، 25 افراد ہلاک

امونیم نائٹریٹ جب 170 ڈگری فارن ہائیٹ سے زائد حدت پکڑتا ہے تو گلنے کے عمل میں چلا جاتا ہے لیکن تیزحرارت یا ٹوٹ پھوٹ سے کیمیکل کا ارتعاش ہوسکتا ہے جوامونیم نائٹریٹ کو نائٹروجن، آکسیجن گیس اور پانی کے بخارات میں تبدیل کردیتا ہے۔

میلبورن یونیورسٹی کے پروفیسر آئن رائے نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ 'دھماکا خیز مواد بنانے کا منصوبہ توانائی کے اعلیٰ مرکب سے کم ترتوانائی کی جانب جارہا ہوتا ہے اور جتنی توانائی دی جاتی ہے اس قدر دھماکے میں شدت آجاتی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ شدت کو بڑھانے کے لیے اس کومنتشر ہوئے بغیر تنگ جگہ کی بھی ضرورت پڑتی ہے، کھلی جگہ میں امونیم نائٹریٹ کا جلنے سے دھماکے کے نتائج ممکنہ طور پر حاصل نہیں ہوتے۔

ان کاکہنا تھا کہ دھماکوں میں صرف امونیم نائٹریٹ کو استعمال نہیں کیا جاتا، کچھ نائٹروجن آہستہ آہستہ نائٹروجن گیس کی طرح زہریلی گیس پیدا کرتے ہوئے گلنے لگتا ہے۔

رائے کا کہنا تھا کہ یہ گیسز سرخ، سرمئی دھوئیں کا باعث بنتی ہیں جو بیروت دھماکے کے بعد دکھائی دیا۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

سڈنی یونیورسٹی کے بائیولوجسٹ برینٹ کیسر کا کہنا تھا کہ دھماکوں کے خطرے کے باعث ممالک اور تنظیمیں اس کو ذخیرہ کرنے کے لیے سخت قواعد کا نفاذ کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں:’لبنان کے لیے دعا کریں‘ شوبز شخصیات کا بیروت دھماکوں پر اظہار افسوس

ان کا کہنا تھا کہ 'اس کو عموماً محفوظ حالات میں رکھا جاتا ہے اور دھماکے کے خطرات کو کم سے کم کردیا جاتا ہے'۔

امونیم نائٹریٹ کے باعث بدترین حادثات

رپورٹ کے مطابق امونیم نائٹریٹ کے حادثاتی دھماکوں کے باعث گزشتہ صدی میں کئی واقعات پیش آئے تھے۔

اسی طرح 2015 میں چین کے دارالحکومت بیجنگ کے پورٹ تیجیان میں تقریباً 800 ٹن امونیم نائٹریٹ دھماکے کا موجب بنا تھا، جس کے نتیجے میں 173 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکا کی تاریخ میں 1947 میں امونیم نائٹریٹ بدترین صنعتی حادثے کا سبب بنا تھا، جب ٹیکساس سٹی کی بندرگاہ میں تقریباً 2300 ٹن امونیم نائٹریٹ سے لدے جہاز میں آگ لگی تھی۔

اس حادثے کی وجہ ممکنہ طور پر سگریٹ جلانے کو قرار دیا گیا تھا اور اس کی وجہ سے 581 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کی بیروت دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید

بیروت میں دودھماکوں کی اطلاعات ہیں اور بظاہر دوسرا دھماکا امونیم نائٹریٹ کا دھماکا تھا، جس سے بڑے پیمانے میں تباہی پھیلی اور لبنان تاحال اس کی وجوہات سمجھنے سے بالکل قاصر ہے اور اس حوالے سے تفتیش کی جائے گی۔

وزیراعظم حسن دیاب کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا ہے اس کا احتساب کیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا جبکہ انہوں نے بدھ کو قومی سوگ کابھی اعلان کیا تھا اور ساتھ ساتھ پورٹ اور ملحقہ علاقوں کو ڈیزاسٹر زون قرار دیا تھا۔

آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی میں میڈیسن کے سینئر کلینکل لیکچرار ڈیوڈ کیلڈیکوٹ کا کہنا تھا کہ 'یہ انتہائی خاص دھماکا تھا اور ہلاکتوں کی تعداد اب تک سامنے آنے والی تعداد سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے' ۔