4 روز میں دنیا کے 7 ممالک میں آتشزدگی کے واقعات

اپ ڈیٹ 07 اگست 2020

ای میل

بیروت میں ہونے والے دھماکوں میں زیادہ جانی نقصان ہوا — فوٹو:اے ایف پی
بیروت میں ہونے والے دھماکوں میں زیادہ جانی نقصان ہوا — فوٹو:اے ایف پی

سال 2020 یوں تو عالمی وبا کورونا وائرس کے بعد دنیا کے لیے ایک آزمائش بنا ہوا ہے لیکن رواں ماہ اگست کے آغاز میں دنیا کے 7 ممالک میں آتشزدگی کے واقعات نے ان مشکلات اور اس سال سے متعلق توہمات و اوہام میں مزید اضافہ کردیا ہے جن میں سب سے زیادہ تباہ کن بیروت میں ہونے والا دھماکا تھا۔

3 سے 6 اگست کے درمیان 7 ممالک میں آگ لگی جبکہ چین اور بیروت میں ہونے والے دھماکوں میں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ جانی نقصان بھی ہوا۔

جن ممالک میں یہ واقعات پیش آئے ان میں چین، لبنان، فرانس، شمالی کوریا، عراق، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب شامل ہیں، جن کی تفصیل کچھ یوں ہے:

چین

3 اگست کو چین کے شہر ووہان کے قریب کیمیکل فیکٹری میں دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حوالے سے چین کے سرکاری میڈیا سے جاری فوٹیج میں چین کے صوبے ہوبے میں واقع کیمیکل پلانٹ سے دھوئیں کے کالے بادل اٹھتے دیکھے گئے تھے۔

چینی حکومت سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ ژیانتاؤ کے قصبے ژیلی ہوئے میں واقع لانہوا سیلیکون کمپنی میں مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے 5 بجے حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں 4 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

14 فائر انجنز اور 100 ریسکیو ورکرز بشمول فائر فائٹرز، پیرامیڈکس اور ماحولیاتی حکام نے آگ بجھانے کی کوششوں میں حصہ لیا تھا۔

بعدازاں چینی حکام نے کمپنی کو فوری طور پر اپنی پیداوار روکنے کا حکم دیا تھا اور متعقلہ حکام نے دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز بھی کردیا۔

لبنان

جس کے بعد 4 اگست کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ کے علاقے میں دھماکے سے عمارتیں لرز اٹھی تھیں اور سیاہ اور سرمئی رنگ کا دھواں پھیل گیا تھا۔

بیروت میں ہونے والے دھماکے سے اب تک 157 سے زائد افراد ہلاک اور 5 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

دھماکا بیروت کی بندرگاہ پر ہوا تھا اور اس سے بندرگاہ کے قریبی علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا جس کا تخمینہ تقریبا 5 ارب ڈالر لگایا جا رہا ہے۔

بیروت میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں درجنوں عمارتیں منہدم ہوگئیں تھیں، درجنوں گاڑیاں اور دیگر تنصیبات بھی شدید متاثر ہوئیں۔

دھماکا اس قدر شدید تھا کہ ان کی آوازیں پڑوسی ملک اسرائیل کے شہر قبرص تک سنی گئیں اور اسے ہیروشیما اور ناگا ساکی کے دھماکوں کے بعد بدترین دھماکا قرار دیا جارہا ہے۔

اس ہولناک دھماکے کے حوالے سے سی نیٹ کی رپورٹ میں وزیراعظم حسن دیاب کے بیان کا حوالہ دیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ڈپو میں 2 ہزار 700 ٹن سے زائد نیوامونیم نائٹریٹ ذخیرہ تھا اور تقریباً 6 برس سے پورٹ میں رکھا ہوا تھا۔

فرانس

بعدازاں 5 اگست کو فرانس کے جنوبی شہر مارسئی میں جنگلات کے بڑے حصے پر آگ لگی تھی جس کے بعد تقریباً 27 ہزار افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے فائر سروس نے بتایا تھا کہ مارٹیگوئس کے قریب 8 کیمپ سائٹس کو خالی کروالیا گیا تھا، کچھ سیاحوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا جبکہ بزرگ افراد کے لیے قائم کیئر ہوم کو بھی خالی کروالیا گیا تھا۔

—فوٹو:اے ایف پی
—فوٹو:اے ایف پی

علاوہ ازیں اسی روز اسی علاقے میں ایک انڈسٹریل پارک کے قریب آگ بھڑک اٹھی تھی جو 120 ہیکٹرز (296 ایکڑ) کے رقبے تک پھیلی تھی اور اس کے نتیجے میں ایک گھر اور کئی کاروبار تباہ ہوگئے تھے۔

فائر سروس کے مطابق آگ کے نتیجے میں ایک ہزار ہیکٹر (2 ہزار 741 ایکڑ) رقبے پر پھیلا سبزہ تباہ ہوا تھا اور آگ بجھانے میں 1800 فائر فائٹرز نے حصہ لیا تھا جس پر کافی گھنٹے کوششوں کے بعد قابو پایا جا سکا تھا۔

—فوٹو:اے ایف پی
—فوٹو:اے ایف پی

تاہم فرانس میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی لیکن مالی نقصان کا تخمینہ لگایا جانا باقی ہے۔

شمالی کوریا

علاوہ ازیں 5 اگست کو چین کی سرحد کے قریب واقع شمالی کوریا کے شہر ہیاسان میں بھی آگ بھڑکنے کی ویڈیو سامنے آئی تھی تاہم اس حوالے سے چین یا شمالی کوریا کے حکام کی جانب سے کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی کہ 3 اگست کو شمالی کوریا کے شہر میں کیا ہوا تھا۔

اس حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے میڈیا اور بیرونی مانیٹرنگ گروپس نے رپورٹ کیا تھا کہ رہائشی علاقے میں گیس دھماکے سے متعدد افراد ہلاک یا زخمی ہوگئے تھے۔

—فوٹو: اے پی
—فوٹو: اے پی

تاہم اے پی آزادانہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کرسکا لیکن اے پی کو موصول ویڈیو میں ہیاسن سے دھماکوں کی بلند آوازیں، شعلے اور دھوئیں کے کالے بادل دیکھے گئے۔

علاوہ ازیں اے پی کے مطابق ویڈیو میں چند لوگ آتشزدگی کا یہ منظر چین کی سرحد سے دیکھتے ہوئے بھی نظر آئے۔ '

عراق

دوسری جانب 6 اگست کو عراق کے شہر نجف میں آتشزدگی کے واقعے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔

یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق شفقانہ نے رپورٹ کیا کہ عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے نامہ نگار کے مطابق نجف میں واقع 'القدس' فوڈ اور الیکٹریکل اسٹوریجیز میں آتشزدگی ہوئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس واقعے کی تصدیق کے لیے عراقی نیوز ایجنسی کا بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ایجنسی کی ویب سائٹ یا کسی بڑے عرب نیوز آؤٹ لیٹ کی جانب سے اس کی تصدیق ہوئی۔

متحدہ عرب امارات

دوسری جانب 5 اگست کو رات گئے متحدہ عرب امارات کی ریاست عجمان کے دارالحکومت میں سبزیوں اور پھلوں کی مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی تھی تاہم کسی کے زخمی ہونے یا ہلاکت کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عجمان پولیس کے کمانڈر ان چیف میجر جنرل شیخ سلطان بن عبداللہ النوامی نے بتایا تھا کہ آگ پر 3 گھنٹوں بعد قابو پایا تھا اور کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔

—فوٹو: خلیج ٹائمز
—فوٹو: خلیج ٹائمز

خیال رہے کہ جس سبزی اور پھلوں کی مارکیٹ میں آگ لگی تھی وہ کورونا وائرس سے متعلق احتیاطی اقدامات کے باعث گزشتہ 4 ماہ سے بند تھی۔

عجمان پولیس کے کمانڈر ان چیف نے بتایا کہ سول ڈیفنس ٰیونٹس، پولیس اور ایمبولینس کی 25 گاڑیوں نے بروقت ردعمل کا مظاہرہ کیا اور 3 منٹ کے اندر جائے حادثہ پر پہنچے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس اور ڈیفنس یونٹس نے ملحقہ عمارتوں کو خالی کرایا اور آگ پر قابو پایا جس کے بعد عمارت میں کولنگ آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

—فوٹو: خلیج ٹائمز
—فوٹو: خلیج ٹائمز

عجمان میں آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ سول ڈیفس حکام کے مطابق 125 دکانیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں اور مالکان کو لاکھوں کا نقصان ہوا ہے۔

سعودی عرب

6 اگست کو رات گئے سعودی عرب کے شہر جدہ میں حرمین ٹرین اسٹیشن کے قریبی علاقے میں عارضی کیبنز میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی سول ڈیفنس نے بتایا کہ جدہ کے علاقے ال سلیمانیہ میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا تھا۔

—فوٹو: سعودی پریس ایجنسی
—فوٹو: سعودی پریس ایجنسی

اس حوالے سے سول ڈیفنس کے ترجمان نے بتایا کہ جدہ کے علاقے السلیمانیہ میں 12 سو مربع گز پر مشتمل عارضی کنٹریکٹر آفیسز (پورٹیبل کیبنز) میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا تھا۔

سعودی سول ڈیفنس کے جنرل ڈائریکٹوریٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں بتایا کہ کیبنز میں ملازمین نہیں تھے جس کی وجہ سے کوئی فرد زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔