ٹک ٹاک کی امریکی پابندی کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی

08 اگست 2020

ای میل

حکم نامے کے ذریعے چینی ایپلی کیشنز کو 15 ستمبر 2020 کی مہلت دی گئی— فائل فوٹو: شٹراسٹاک
حکم نامے کے ذریعے چینی ایپلی کیشنز کو 15 ستمبر 2020 کی مہلت دی گئی— فائل فوٹو: شٹراسٹاک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پابندی کا حکم نامہ جاری کرنے کے بعد چین کی معروف ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے قانونی کارروائی کی دھمکی دے دی۔

خیال رہے کہ6 اگست کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر مستقبل میں پابندیوں سے متعلق جبکہ اسی دن وی چیٹ پر بھی پابندیوں سے متعلق علیحدہ ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایپ پر پابندی کے حکم نامے پر حیرانی کا اظہار کیا۔

ٹک ٹاک نے کہا کہ وہ تمام وسائل بروئے کار لائیں گے تاکہ قانون کی حکمرانی برقرار رہے۔

چین کی بائٹ ڈانس کمپنی کی ایپ ٹک ٹاک نے کہا ہے انہوں نے 'نیک نیتی' کے ساتھ امریکی حکومت کے ساتھ مصروفِ عمل ہونے کی کوشش کی تھی۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر نے ٹک ٹاک اور وی چیٹ پر پابندیوں کے احکامات جاری کردیے

ٹک ٹاک کمپنی نے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے حقائق پر کوئی توجہ نہیں دی اور اس کے بجائے معیاری قانونی طریقہ کار کے بغیر معاہدے کی شرائط طے کیں اور خود کو نجی کاروباروں کے مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کی۔

ساتھ ہی ٹک ٹاک کا کہنا تھا کہ نیا حکم نامہ، قانون کی حکمرانی سے متعلق امریکا کے وعدوں کے حوالے سے عالمی کاروباروں کے اعتماد کو مجروح کرنے کے خطرات پیدا کررہا ہے اور اس نے آزادی اظہار رائے کے نظریے اور اوپن مارکیٹس کے لیے خطرناک مثال قائم کی ہے۔

ٹک ٹاک کا کہنا تھا کہ ہم قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے لیے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائیں گے کہ اگر انتظامیہ نہیں تو امریکی عدالتوں کے ذریعے ہماری کمپنی اور صارفین کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے۔

دوسری جانب وی چیٹ ایپ کی کمپنی ٹینسینٹ نے کہا کہ ہم حکم نامے کو اچھے طریقے سے سمجھنے کے لیے اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان کر دیا

امریکی صدر کی جانب سے جاری کیے گئے ٹک ٹاک سے متعلق صدارتی حکم نامے میں کہا گیا تھا اگر چینی ایپلی کیشنز کو آئندہ 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت نہیں کیا گیا تو ان پر امریکا میں پابندی لگادی جائے گی۔

جاری کیے گئے حکم نامے کے ذریعے چینی ایپلی کیشنز کو 15 ستمبر 2020 کی مہلت دی گئی تھی، جس کے بعد اگر وہ کسی بھی امریکی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو دونوں ایپس امریکا میں بند ہوجائیں گی۔

حکم نامے کے مطابق آئندہ 45 دن تک ٹک ٹاک اور وی چیٹ اپنی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھ سکیں گی لیکن 15 ستمبر کے بعد اگر وہ معاہدہ نہ کر پائیں تو انہیں بند کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ہفتے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا عندیہ دیا گیا تھا، جس کے بعد امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکرو سافٹ نے چینی ایپ خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

مزید پڑھیں: مائیکرو سافٹ ٹک ٹاک کو خریدنے کے لیے تیار

بل گیٹس کی کمپنی مائیکرو سافٹ نے گزشتہ ہفتے ہی بتایا تھا کہ وہ ٹک ٹاک کو خریدنے کے حوالے سے امریکی صدر اور ٹک ٹاک کی مالک چینی کمپنی سے مذاکرات کر رہے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ معاملات 15 ستمبر تک حل ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ اس وقت ٹک ٹاک کو دنیا بھر میں چینی کمپنی خود چلا رہی ہے اور امریکا کو اسی پر ہی خدشات ہیں کہ ٹک ٹاک کے ذریعے امریکیوں کی اہم معلومات چینی حکومت کو فراہم کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر اور حکومت کے دیگر عہدیدار ماضی میں متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ٹک ٹاک کے ذریعے چینی حکومت اور فوج، امریکیوں کا ڈیٹا حاصل کر رہی ہے، تاہم چینی حکومت اور ٹک ٹاک ایسے الزامات کو مسترد کرتی آئی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ مائیکرو سافٹ اور ٹک ٹاک کے درمیان خریداری کا معاہدہ طے پا جائے گا اور امریکا سمیت خطے کے دیگر ممالک میں ویڈیو شیئرنگ ایپ کو امریکا سے ہی مانیٹر کیا جائے گا۔